بہترین امت کی دو صفات۔ از قلم فیض عالم

از قلم فیض عالم
بہترین امت کی دو صفات

سورہ آل عمران آیت نمبر 11۔
” تم وہ بہترین امت ہو جسے انسانوں کی بھلائی (ہدایت) کے لئے پیدا کیا گیا جو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے۔”
سورہ آل عمران کی اس آیت میں اللہ تعالی تمام نعمتوں میں سے سب سے بہترین امت کی دو نشانیاں بیان فرما رہا ہے۔پہلی یہ کہ نیکی کا حکم دینے والی اور دوسری برائی سے روکنے والی اور یہی دو صفات ہیں جس کی وجہ سے ایک مسلمان مومن اور پھر اس سے بھی آگے کے درجات پر پہنچتا ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان اور اولیاء اللہ کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے تو اس آیت کا عکس ان کی زندگیوں میں بآسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ ان مقدس ہستیوں کی پوری زندگی ان دو صفات کے گرد گھومتی ہے لیکن اگر دور حاضر کی بات کی جائے تو انتہائی افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ اگر نیکی کا حکم دینے کی بات کی جائے تو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ سامنے والے کو برا نہ لگ جائے اور اگر بدی سے روکنے کی بات کی جائے تو اکثر لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اپنی قبر میں جانا ہے اور میں نے اپنی قبر میں ۔۔۔ ایک مسلمان معاشرے کا یہ رویہ اس امت کی پستی کی منہ بولتی مثال ہے۔
یہ ایک عام فہم سوچ بن گئی ہے کہ نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا صرف علماء یا مذہبی طبقے کی ذمہ داری ہے۔ بحیثیت انسان اور مسلمان یہ ذمہ داری ہر مسلمان معاشرے کے فرد پر عائد ہوتی ہے۔ سب سے پہلے خود نیکی کرنا اور خود کو برائی سے روکنا یہ اولین فریضہ ہے. لیکن ساتھ ہی ساتھ جس گھر میں آپ رہتے ہیں اور جہاں آپ کام کرتے ہیں یا جن لوگوں سے آپ کا ملنا جلنا ہے ان تمام لوگوں کو نیکی کی دعوت دینا اور ان کو برائیوں سے روکنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو اس دنیا میں اپنا نائب بنا کر بھیجا اور اللہ کا نائب خود غرض نہیں ہوتا جس طرح اللہ کو اپنی مخلوق کی بہت فکر ہے بالکل اسی طرح اللہ کا سچا اور مخلص نائب بھی مخلوق کے معملات کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے ۔اور اللہ کی مخلوق کی سب سے بہترین فلاح و بہبود یہی ہے کہ نیکی کی دعوت دی جائے اور برائی سے روکا جائے۔لہذا خود کو اللہ کا عبد ثابت کرنے کے لئے محض خود کے لیے اچھے اور برے کا سوچنا کافی نہیں ہے یہ دو صفات اپنے اندر لازمی پیدا کرنی ہونگی بہترین امت کا ٹائٹل ملا ہے اس ٹائٹل کو منٹین کرنا آسان نہیں ہے۔ محنت کرنی ہوگی نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے، کیونکہ اللہ ایمان والوں کی آزمائش لینے کا اعلان پہلے ہی کر چکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں