اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ہیڈ کوارٹر جنیوا میں 47 واں اجلاس جاری

جنیوا سویرانیوز (رپورٹ سلطان محمود)۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کے ہیڈ کوارٹر جنیوا میں 47 واں اجلاس جاری ہے اس موقع پر انڈیا میں موجود اقلیتوں کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ اور احتجاجی کیمپ لگایا گیا ۔ اس کیمپ لگانے کا مقصد دنیا کو بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم سے اگاہ کرنا ہے ۔ احتجاجی کیمپ کے منتظمین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے برسر اقتدار میں انے کے بعد مذہب کے نام پر استحصال کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے اور ہندو انتہا پسندوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ مودی کی انتہا پسند حکومت بھارت میں موجود اقلیتوں کو معاشی طور پر کمزور کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔ انڈیا میں موجود اقلیتوں پر تشدد، عبادت گاہیں نظر آتش کرنا ، اقلیتوں کو جبری ہندو بنانا، ہراساں کرنا اور تعلیمی اداروں میں بھی اقلیت سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور طالبات کو مذہبی منافرت کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی، بجرنگ دل، شیو سینا اور وشوا ہندو پریشد نے خاص طور پر مسلمانوں، مسیحوں اور سکھوں کو ٹارگٹ کیا۔ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک، تشدد اور جھوٹے الزامات کے تحت قتل جیسے انتہائی قدم اٹھائے جانے کے واقعات کے بعد کئی عالمی تنظیمیں تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ احتجاجی کیمپ میں شریک ایک انڈین اقلیتی نمائندے کا کہنا ہے کہ گائے کو جواز بناکر دلت اور مسلمانوں کو زدوکوب کیا جاتا ہے، بعض اوقات انھیں جان سے مار دیا جاتا ہے۔ ہجوم اکٹھا ہوکر اقلیتی افراد کو مارتا ہے اور ان کو جے شری رام کے نعرے لگانے پر مجبور کرتا ہے۔خواتین اور بچوں پر جنسی حملوں میں اضافہ ہوا ہے ، مذہبی عدم رواداری، منافرت اور انتہا پسندی کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اس وقت بھارت میں اقلیتوں سے زیادہ گائے محفوظ ہے۔ احتجاجی کیمپ میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کے تصاویر اور بینر لگائے گئے ہیں ۔ جبکہ کیمپ میں اقلیتوں پر ہونے والے ظلم سے اگاہ کرنے کے لیے بروشر اور پمفلٹ بھی رکھے گئے ہیں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں