شطرنج کی بینائی سے محروم چیمپئن

شطرنج کو بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے، لیکن آج ہم آپ کا تعارف شطرنج کی ایک ایسی کھلاڑی سے کروارہے ہیں جو برق رفتاری سےاپنے مخالف کو زیر کر دیتی ہے، وہ جنگ کے میدان میں گھوڑے پر سوار سپہ سالار کی طرح اپنے حریف کو اس کے کمفرٹ زون سے نکال کر مات دینے کی ماہر ہیں۔

ان کی شطرنج کی بساط پر چالیں اس قدر مشہور ہیں کہ وہ درجنوں مقابلوں میں اپنے حریفوں کو شہہ مات دے کر دنیا کے بہترین شطرنج کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہوچکی ہیں۔

لیکن شطرنج کی بساط پر پھرتی سے مہروں اور شاہ کو مات دینی والی 41 سالہ جیسیکا لاؤسر کی ایک خوبی انہیں دنیا کے دیگر چیمپئنز سے ممتاز کرتی ہے۔ ایسے کھیل میں جہاں عقاب جیسی تیز نظروں کی ضرورت ہو وہاں جزوی نابینا جیسیکا نے اپنی دھاک جمائی ہوئی ہے۔
سی سی این کو دیے جانے والے انٹرویو میں جیسیکا کا کہنا ہے کہ شطرنج کا کھیل انہیں دیوانگی کی حد تک پسند ہے اور وہ اسے بچپن سے کھیل رہی ہیں، لیکن اپنی معذوری کو انہوں نے کبھی اپنے کی جنون کی تکمیل میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ جب میں شطرنج کھیلتی ہوں تو مجھے برابری کا احساس ہوتا ہے، جب آپ کھیل کا آغاز کرتے ہیں تو اس بات سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کون ہیں، آپ کی جسمانی کنڈیشن کیا ہے، آپ کا تعلق کہاں ہے اور آپ کتنے امیر ہیں، بس کھیل برابری کی بنیادپر شروع ہوتا ہے۔‘

اپنے نابینا پن کے بارے میں جیسیکا کاکہنا ہے کہ ان کی پیدائش وقت سے پہلے ہی ہوگئی تھی اورآکسیجن کی کمی سے ان کی آنکھیں متاثر ہوئیں جسے طبی زبان میں ریٹینو تھیراہی کہتے ہیں، جس سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی تو مکمل طور پر چلی گئی جب کہ دوسری آنکھ سے انہیں بہت معمولی دکھائی دیتا ہے۔

شطرنج کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ میں نے سات سال کی عمر میں اس کھیل کو سیکھنا شروع کیا،مجھے بِساط پر شطرنج کے مہرے بہت دھندلے دکھائی دیتے ہیں، زیادہ ترمہروں کی شناخت نہیں کر پاتی، کسی مہرے کی شناخت کے لیے وہ اس پر انگلی رکھ کر پوچھ لیتی ہیں کہ یہ کیا ہے؟ اور اس کے بعد وہ اپنی چال چلتی ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں جیسیکا نے معذوروں کے لیے ہونے والے سالانہ بین الاقوامی مقابلے ’ اولمپیئڈ‘ میں دیگر چار کھلاڑیوں کے ساتھ حصہ لیا اور 44 ملکوں کی 60 ٹیموں میں جیسیکا کی ٹیم ٹاپ ٹین میں آئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں