وسیم خان عامرکو ’’منانے‘‘ کی کوشش کرنے لگے

وسیم خان محمد عامر کو ’’منانے‘‘ کی کوشش کرنے لگے جب کہ ’’ریٹائرڈ پیسر‘‘ کا کہنا ہے کہ مسائل حل ہوئے تو میں پاکستان کے لیے دستیاب ہوں گا۔

محمد عامر نے کچھ عرصے قبل ٹیم مینجمنٹ کے رویے کو جواز بنا کر قومی ٹیم کیلیے عدم دستیابی کا اعلان کر دیا تھا، ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مینجمنٹ کے دور میں واپس نہیں آؤں گا، البتہ اب ان کا ارادہ تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔

سابق فرسٹ کلاس کرکٹر طاہر خان کے یوٹیوب چینل کو انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ ملک سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا،اگر میرے مسائل حل ہوئے تو قومی ٹیم کا حصہ بننے کے لیے تیار ہوں۔
انھوں نے کہا کہ پی سی بی کے سی ای او وسیم خان 2 مرتبہ میرے گھر پر آئے، انھوں نے مجھے بہت عزت و تکریم دی، ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا،میں نے ان کے روبرو اپنے مسائل رکھے، انھوں نے میری باتیں سننے کے بعد بھرپور معاونت کا اظہار کیا۔

محمدعامر نے مزید کہا کہ مسائل حل ہونگے تو میں بھی پاکستان کیلیے دستیاب ہوں، میں باربار اس پر بات کروں گا تو لوگ کہیں گے کہ یہ جان بوجھ کر ایسا کرتا ہے اور اپنی صفائیاں پیش کررہا ہے،ہمارا کلچر ایسا بن گیا ہے کہ لوگ ان باتوں کو منفی لیتے ہیں،اگر اپنی ذات سے متعلق از خود فیصلہ کر لیا جائے تو کہتے ہیں کہ یہ کیسے کرلیا،یہ تو ہم سے بڑھ کر ہو گیا،فیصلہ تو ہم کرینگے، ذاتی فیصلے پرلوگ پیچھے پڑجاتے ہیں۔

پیسر نے کہا کہ اس وقت پاکستان کرکٹ ٹیم کی مینجمنٹ میں موجود بعض افراد نے میرے فیصلے کی منفی عکاسی کی، اچھے کپتان کی یہی نشانی ہے کہ اسے اپنے کھلاڑی کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔

محمد عامر نے کہا کہ پاکستان میں پی ایس ایل کو کھلاڑی کے چناؤ کیلیے بنیادی حیثیت دیدی گئی جو قطعی طور پر غلط ہے، انھوں نے کہا کہ ملک سے بڑا کوئی نہیں ہے اور نہ ہوسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں