ڈنمارک پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل کی جاسوسی کے لیے امریکا کی مدد کا الزام

یورپی میڈیا نے ڈنمارک پر جرمن چانسلر انجیلا مرکل سمیت متعدد یورپی رہنماؤں کی جاسوسی کے لیے امریکا کی مدد کا الزام عائد کیا ہے۔

یورپی میڈیا نے ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا نے جرمن چانسلر انجیلا مرکل اور صدر فرینک والٹر سمیت متعدد یورپی رہنماؤں کی جاسوسی کروائی تھی، اس کام کے لیے امریکی خفیہ ایجنسی (این ایس اے)نیشنل سیکیورٹی ایجنسی نے ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی کو استعمال کیا اور معلومت حاصل کیں۔

دوسری جانب ترجمان جرمن چانسلر کا کہنا ہے کہ انجیلا مرکل کو جاسوسی کے انکشافات سے متعلق آگاہ کردیا گیا ہے تاہم انہیں یا صدر کو اس حوالے سے کچھ نہیں معلوم ہے جب کہ امریکی اور ڈنمارک کی خفیہ ایجنسیز کی جانب سے رپورٹ سے متعلق کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2015 میں ڈنمارک کی حکومت کو علم تھا کہ ان کی خفیہ ایجنسی جاسوسی میں ملوث ہے جب کہ رپورٹ میں اس بات کے شواہد بھی موجود ہیں کہ امریکا نے ڈنمارک کی خفیہ ایجنسی کے زریعے ناروے، فرانس، سویڈن، جرمنی اور نیدرلینڈ کے سیاست دانوں کی جاسوسی کروائی تھی جس پر ڈنمارک کی حکومت نے گزشتہ سال 2020 میں خفیہ ایجنسی کی قیادت کو برطرف کردیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں