کہانی ’’جبلِ الطارق‘‘ کی ۔۔۔ ” کشتیاں جلا دو” ہرجگہ بولے جانے والا جملہ (vl 35)

بلِ الطارق جس کے کنارے کبھی فوجی کشتیوں کو جلا دیا گیا تھا۔۔۔۔سوال یہ ہے کہ آخر کیوں ۔۔۔؟ صرف اس لئے کہ لڑو یا شہید ہوجاؤ ۔۔۔جی ہاں ! طارق بن زیاد کی فوج جبل الطارق کے ساحل پر اتری تھی اور اسی کے فوجیوں نے آخری دم تک لڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اور واپسی کے راستے بند کرتے ہوئے اپنی تمام کشتیوں کو جلا ڈالا تھا ۔ سپین پرحملے کے وقت طارق بن زیاد نے اپنی فوج کو جو حکم دیا اسے تاریخ میں سنہری الفاظ سے لکھا گیا۔ ساحل پر اترنے کے بعد اس نے اپنے خطاب میں کہا ”اب واپسی کے راستے مسدود ہوچکے ہیں، لڑو اور فتح یا شہادت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرو۔‘‘ (علامہ ادریسی)طارق بن زیاد نے صرف 7 ہزار کے لشکر کے ساتھ پیش قدمی کی اور جنگِ وادی لکہ میں وزیگوتھ حکمران روڈرک کے1 لاکھ کے لشکرکو ایک ہی دن میں بدترین شکست کا مزہ چکھنے پر مجبور کر دیا،جنگ میں روڈرک مارا گیا اور طارق کا لشکر فتح مند ٹھہرا۔طارق بن زیاد کے اس حملے سے یورپ میں مسلم اقتدار کا راستہ کھلا اور بعد میں اسی دور میں پروان چڑھنے والے حالات نے یورپ کے سنہری دور کا آغاز کیا۔ سپین پر مسلمانوں کی فتح کے بعد اس خطے کی قسمت جاگ اٹھی۔ اس سے قبل یہ یورپ کا غلیظ ترین اور مٹی و کیچڑ سے بھرا خطہ مانا جاتا تھا جہاں کے لوگوں کو تعلیم و ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔مسلمانوں کے برسر اقتدار آنے کے بعد یہاں تعلیم کی روشنی پھیلی اور ایک وقت ایسا آیا کہ سپین خوبصورتی، تعلیم اور فن و ثقافت کا مرکز بن گیا۔سپین میں مسلمانوں کی بے شمار تعمیرات میں سے 2 قابل ذکر تعمیرات قصر الحمراء اور مسجد قرطبہ تھیں۔
آج جبل الطارق جبرالٹر کے نام سے پہچانا جاتا ہے اسے دو تہذیبوں کے درمیان پھنسی ہوئی چٹان بھی کہا جاتا ہے، جبرالٹر کوعربی نام کی بگڑی ہوئی شکل بھی کہا جا سکتا ہے ، یہ جزیرہ نما سمندری علاقہ ہے جو اب اہم سیاحتی مرکز بن چکا ہے۔جبرالٹر براعظم افریقہ اور براعظم یورپ کے عین درمیان واقع ہے، مراکش افریقہ کا اور جبرالٹر یورپ کا پہلا ملک ہے شہر یا ملک کا کل رقبہ 6 کلو میٹر ہے، آپ 45 منٹ میں پورا ملک پیدل گھوم سکتے ہیں۔مراکش کا شہر طنجہ جبرالٹر سے صرف 14 کلو میٹر دور ہے، یہ سفر فیری پر آدھ گھنٹے میں مکمل ہو جاتا ہے، جبرالٹر کے پہاڑ سے طنجہ کی روشنیاں نظر آتی ہیں، دنیا کے 70 فیصد بحری جہاز بحیرہ اوقیانوس سے آتے ہیں اور آبنائے جبرالٹر سے گزرکر بحیرہ روم جاتے ہیں اور وہاں سے اسی راستے واپس آتے ہیں، یہ 3 اطراف سے پانی میں گھرا ہوا ہے۔زبان انگریزی اور کرنسی پاؤنڈ سٹرلنگ ہے، سرکاری اور غیر سرکاری عمارتوں پر یونین جیک لہراتا ہے، جبرالٹر میں داخلے کیلئے برطانیہ کا ویزہ ضروری ہے تاہم آپ اگر یورپی شہریت رکھتے ہیں یا آپ کے پاس سپین سمیت یورپ کے کسی ملک کا پاسپورٹ موجود ہے تو آپ کو بارڈر پر”انٹری‘‘ مل سکتی ہے، سپین کے آخری شہر لالینا میں جبرالٹر میں داخلے کیلئے قطار لگ جاتی ہے، آپ اپنی گاڑی پر بھی ملک میں داخل ہو سکتے ہیں اورگاڑی سپین میں کھڑی کر کے پیدل بھی اندر جا سکتے ہیں، کل آبادی صرف 32 ہزار ہے جبکہ روزانہ 18 ہزار سیاح ملک میں آتے ہیں، اس ملک میں مسلمان 7 فیصد اور یہودی 3 فیصد آباد ہیں۔ جہاں طارق بن زیاد اترے تھے اور انہوں نے اپنی کشتیاں جلائی تھیں، اب یہ ایک چھوٹا سا ساحلی علاقہ ہے، آج کل وہاں رہائشی ایریا ہے طارق بن زیاد نے وہاں ایک چھوٹی سی مسجد بھی بنائی تھی یہ مسجد ساحل اور جبرالٹر کی سبز پہاڑیوں کے درمیان واقع ہے اور یہ ماحول کو خوبصورت بھی بناتی ہے۔طارق بن زیاد نے سمندر کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے پہاڑ کی اترائی پر چھوٹا سا قلعہ بھی بنایا تھا، وہ قلعہ وقت کے ہاتھوں ختم ہوگیا، چودہویں صدی عیسوی کے مراکشی حکمرانوں نے بعد ازاں انہی بنیادوں پر نیا قلعہ تعمیر کیا، یہ قلعہ آج تک قائم ہے اور یہ مورش قلعہ کہلاتا ہے، سپین کے لوگ مسلمانوں کو مراکش کی نسبت سے موریا یا مورش کہتے تھے، پہاڑ کے شروع میں یونانی ہرکولیس کا ایک ستون بھی ایستادہ ہے۔
جبرالٹر ”کرائم فری‘‘ ہے چوری کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہیں، لوگ دروازے اور گاڑیاں کھلی چھوڑ جاتے ہیں، جبرالٹرمیںگورنر ملک کا سربراہ ہے جس کی تعیناتی ملکہ برطانیہ کرتی ہے، گورنر عام لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتاہے، جبرالٹر کا ائیر پورٹ دنیا کا حیران کن ہوائی اڈہ ہے۔دنیا کی خطرناک ہوائی پٹیوں میں سے ایک یہاں ہے ائیرپورٹ کی آدھی لینڈنگ سٹرپ پانی کے اندر ہے، یہ حصہ سمندر میں پتھر اور مٹی ڈال کر تعمیر کیا گیا ہے۔جبرالٹر کے لوگ صلح جو اورمہذب ہیں، ملک کے دو بڑے ذرائع آمدن سیاحت اور جواء ہیں۔ جس ملک کی نصف آبادی سے زیادہ سیاح روزانہ آتے ہوں صاف ظاہر ہے کہ معیشت بھی انہی کی وجہ سے چلتی ہو گی ۔
آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ جبرالٹر کے رہنے والوں کو تعلیم، صحت اور ٹرانسپورٹ جیسی سہولتیں مفت حاصل ہیں، بچوں کو اعلیٰ تعلیم کیلئے وظائف دئیے جاتے ہیں اور بچے ان وظائف سے برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔جبرالٹر کے رہائشی ہسپانوی زبان روانی سے بولتے ہیں اسکی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں متعدد مخلوط نسلوں کے خاندان آباد ہیں۔ گلی کوچوں میں سب سے زیادہ سنے جانے والے مقامی لہجے کا نام ”ینیتو‘‘ ہے جو بنیادی طور پر ہسپانوی ہے مگر منفرد جملوں کے ساتھ مخصوص لہجے میں بولا جاتا ہے جسے محض جبرالٹیرین کہا جا سکتا ہے ۔ جبرالٹر کے رہنے والے اپنی برطانوی شہریت پر فخر کرتے ہیں۔ 1967 ء اور 2002 ء کے ریفرینڈم میں انہوں نے 90 فیصد کی اکثریت سے اس سلسلے کو برقرار رکھا اور اس بات کو مسترد کر دیا تھا کہ جبرالٹر کی خود مختاری مشترکہ طور پر برطانیہ اور سپین کے پاس ہو۔
معروف مصنف نکولس رینکین نے اپنی کتاب ”ڈیفنڈنگ دا راک‘‘ میں دعویٰ کیا کہ ہٹلر جبرالٹر پر قبضہ کرنے میں ناکامی کی وجہ سے دوسری جنگ عظیم ہارا۔دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانوی راج نے دم توڑا اور اقوام متحدہ نے نوآبادیات کے خاتمے کیلئے کوششیں کیں تاہم جبرالٹر برطانوی حاکمیت ہی میں رہا۔ یہ تھی کہانی جبل الطارق کی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں