پرانے لوگوں کی دوراندیشی (vl 16)

بھلے دورجدید کے لوگوں کی نسبت ماضی کے بزرگ کم پڑھے لکھے تھے لیکن ان کے رہن سہن سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ وہ قابل اور دور اندیش بہت زیادہ تھے ان کی کئی نشانیاں آج بھی گواہ ہیں صرف ان کی رہائش گاہیں ہی دیکھ لیں۔ زمانۂ قدیم میں ان لوگوں نے بستیاں تعمیر کیں جہاں پانی اور گزرگاہوں جیسے مسائل کا سامنا نہ ہو یہ قدیم بستیاں مین سڑکوں اورشیرشاہ سوری کے دورمیں بنائی گئیں ۔جرنیلی سڑکوں سے بھی خاصی دورتھی گواس وقت ٹرانسپورٹ اتنی زیادہ نہ تھی مگر پھر بھی اِکا دکا گاڑی جودن میں ایک آدھی بارگزرتی تھی اسی پہ لوگوں کاگزارہ ہوجاتا البتہ بیل گاڑیاں تانگے گھوڑے اونٹ اس وقت کی اہم سواریوں میں شمارہوتے تھے ان کے شورشرابے سے بھی محفوظ رہنے کیلئے بستیاں خاصی دور تعمیر کی گئیں یہ بستیاں بڑے زمینداروں یا جاگیرداروں نے تعمیر کروائیں اور ان جگہوں پررعایا کیلئے بھی الگ سے رہائش کاانتظام کیا جاتاتھا اس کیساتھ ساتھ وہ لوگ اپنے جانوروں کیلئے بھی کھلے پانی کے وسائل کا انتظام کرتے جہاں چراہ گاہیں اور کھلے پانیوں کا موجودہونا ضروری سمجھاجاتا تھا۔ قریب ترین کوئی نہر دریا کا ہونا انتہائی ضروری ہوتا آج بھی اس چیزکا بغور جائزہ لیاجائے تو یہ قدیمی بستیاں ایسی جگہ قائم ہیں جہاں ان کو چاروں اطراف سے راستے بھی لگ رہے ہونگے اوران کے قریب ترین پانی بھی گزر رہاہوگا۔ ان بستیوں کی اکثریت دریاؤں کے کنارے واقع ہے، کم آبادی کی وجہ سے ان نہروں دریاؤں میں سیوریج کاپانی نہیں ڈالاجاتا تھااور وہ لوگ یہ بات سمجھتے تھے کہ یہ پانی انسان پینے نہانے اوردیگر ضروری استعمال میں لاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اس میں گندی چیز بھی نہیں پھینکتے تھے مگر جیسے جیسے آبادی بڑھی تو ان چیزوں سے خیال اٹھتا گیا اور ان بستیوں سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ۔ نئی بستیوں میں اضافہ ہوتا گیا جہاں کسی کوجگہ ملی وہیں گھر تعمیرکرلیانہ راستوں کی فکر ناکھلے پانی کی ضرورت نہ ہی آج کی بے ہنگم ٹریفک کاڈر آج کے ہرانسان کی یہ خواہش اور سوچ ہے کہ کسی طرح وہ سڑک کنارے اپنی رہائش رکھنے میں کامیاب ہوجائے جس سے ماضی میں لوگ کتراتے تھے ۔وقت گزرنے کیساتھ ساتھ اب تو یہ رواج بن چکا ہے۔ وہ بستیاں جو کسی زمانے میںلوگوں نے تمام سہولیات کودیکھتے ہوئے آباد کی تھیں اب آہستہ آہستہ ویران ہونے لگی ہیں اوران کے باسی سڑککنارے اوردیگر جگہوں پر منتقل ہوکرشہروں کی صورت اختیارکرچکے ہیں۔ نہریں اور دریائی پانی زہر آلود ہوچکے ہیں، ان بے ڈھنگی آبادیوں سے انسانوںاور حیوا نا ت کیلئے بے شمار مسائل پیدا ہوچکے ہیں۔ وہ بستیاں جو کبھی دھواں اور آلودگی سے پاک ہواکرتی تھیں ان کاماحول آج بھی قدر ے بہتر ہے لیکن ان سے سکونت ترک کرنے والے آج بے شمارمسائل کاسامنا کررہے ہیں مگران قدیمی بستیوں اور جگہوں پر رہنے والے لوگ آج بھی پُرسکون زندگی گزار رہے ہیں۔ آج ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے ہم سب کو مل کراپنے شہروں کو بڑھنے سے روکنا ہوگا جس تیزی سے شہر بڑھیں گے اسی تیزی سے مسائل بھی بڑھتے جائیں گے آبادی بڑھنے کی صورت میں آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جوانسانی جانوں کے ضیاع کا موجب بنتی ہے۔ کسی چھوٹی سی خواہش یا چھوٹے طبقوں سے اپنے آپ کو بہترثابت کرنے کیلئے خطرات کودعوت نہ دیں جودیگر انسانوں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہوں آج وقت اور حالات کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے اندر سادگی کے جذبے کو اجاگرکریں اپنے بڑوں کی زندگیوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں تاکہ ہماری زندگیوں میں تکالیف یامشکلات کاعمل دخل کم سے کم ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں