آج کا نوجوان ناکامی کے خوفزدہ (Vl 15)

ہر شخص اپنی زندگی میں کامیابی کا خواہشمند ہوتا ہے مگر کچھ ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سہی معنوں میں کامیاب ہوپاتے ہیں جبکہ بیشتر کو ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔اور آج کا نوجوان ناکامی کے خوف سے خود کشی کی طرف مائل ہو رہا ہے جو یقیناباعثِ تشویش ہے۔ حالانکہ ناکامی‘ کامیابی کا زینہ ہے۔ انسان کامیابی کا خواہاں ہے مگر ناکام ہو جاتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے؟آج ہماری ناکامی کی بنیادی وجوہات جن کو اکثر نظر انداز کیا جاتا اور دلبراشتہ ہو کر مستقل ناکامی کو اپنا مقدر بنا لیا جاتا ہے مندرجہ ذیل ہیں ۔
کامیابی کے حصول کی کوششیں ترک کر دینا: دُنیا کی بہت زیادہ پڑھی جانے والی کتاب Think and Grow Rich کے مصنفنپولیئن ہِل (Napoleon Hill) نے اس کتاب کی اشاعت سے بھی پہلے 1953ء میں اپنے ایک ریڈیو پروگرام Three Causes of Failure میں کہا تھا کہ لوگوں کی ناکامی کی وجوہ صرف 3ہوتی ہیں۔ اِن3 میں سے ایک وجہ ہے‘ مشکلیں پیش آنے پر کامیابی کے حصول کی کوشش ترک کر دینا۔ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ناکامیوں کے باوجود کوشش کرتے رہیں ۔
لاپروائی:لاپروائی انسانوں کے ناکام ہونے کی دوسری سب سے بڑی وجہ ہے۔ اگرہم کوئی کام پُوری توجہ سے نہیں کریں گے تو ہم اسے ٹھیک طرح سے نہیں کر سکیں گے۔ یہ ہماری پوری زندگی کو برباد کر سکتی ہے اس کا سب سے خطرناک رُخ یہ ہے کہ زندگی کے ایک میدان میں اسے اپنا لیا جائے تو اس کے نتیجے میں ہونے والی ناکامی زیست کے دوسرے حصوں پر بھی جلد ہی اثر ڈالتی ہے۔ یہ اصول یاد رکھیے کہ جتنا زیادہ ہم توجہ‘ دلچسپی اور ولولہ و جوش سے کام لیں گے‘ ہماراکامیاب ہونا اتنا زیادہ یقینی ہو جائے گا۔
غلط مقام:بعض اوقات ناکامی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ناکام ہونیوالا شخص صحیح مقام پر نہیں ہوتا۔ وہ غلط ملک یا شہر یا غلط ملازمت میں ہوگا۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا کوئی مشغلہ غلط ہو۔ یہ ناکامی کی سب سے پیچیدہ وجہ ہے۔مختلف کاموں کا تجربہ ضرور کرنا چاہیے۔
ذمہ دار دوسروں کو قرار دینا:اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانا صرف مسئلہ نہیں بلکہ زہر بھرا اندازِ فکر ہے۔ آپ جانتے ہیں اپنی ناکامی کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے ہم تسلیم کر رہے ہیں کہ ہمارا کوئی اختیار نہیں ‘ ہم بے اختیار و بے بس ہیں۔ اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنی ناکامی کی مکمل ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
خوف:خوف ہمیں مفلوج کر دیتا ہے، جمود زندگی کی اچھی حکمتِ عملی نہیں ۔ حرکت کرنا اور آگے بڑھتے رہنا ہمیں کامیابی دلا دیتا ہے۔ جیسے ہی ہم خوف کا جواں مردی سے مقابلہ کریں گے کامیابی فوراً ہمیںحاصل ہو جائے گی۔
ناامیدی:اگرہم ناکامی کی توقع رکھیں گے تو یقینا ناکام ہو جائیں گے۔ نااُمیدی اس لیے ناکامی کی وجہ بنتی ہے کہ اس کی وجہ سے انسان اتنی کوششیں نہیں کرتا جتنی کہ اسے کرنا چاہئیں۔ کوششوں کو تیزی اس اُمید سے ملتی ہے کہ آپ کی کوششیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
ایک معرکے میں شکست:بعض اوقات کوئی چھوٹی ناکامی تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ہم کاروباری ناکامی سے دوچار ہو جائیں تو ہمارے لیے مثبت رہنا ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن کامیابی ابھی ختم نہیں ہوتی اگر ہمارا کاروبار ناکام ہوا ہے تو یقینا ہم نے اس سے یہ سبق ضرور سیکھا ہوگا کہ اگلی مرتبہ کون کون سی غلطیاں نہیں کرنی۔
منصوبہ بندی کا فقدان:اگر ہم کوئی بھی کام کرنے سے پہلے منصوبہ بنا لیں گے تو کامیابی کا امکان بڑھ جائے گا۔ کسی کام کا منصوبہ مکمل امکانات کو مدِنظر رکھ کر بنائیں۔ تاکہ راہ میں رکاوٹیں کم آئیں اور کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔
یقین کا نہ ہونا:انسانی دماغ مسائل حل کرنے اور مستقبل کی پیش گوئی کرنیوالی انتہائی طاقتور مشین ہے۔ہم اس مشین میں یقین ڈالیں گے تو تجزیہ ‘ قدر پیمائی اور عمل کے 3 مراحل کا آغاز ہو جائیگا جسکا نتیجہ ہماری خواہش کے مطابق نکلے گا یعنی ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں