درخت دنیا اور اخرت کی سرمایہ کاری ہے (VL 14)

پاکستان جیسی کم زور معیشت کا حامل ملک اپنے متنوع جغرافیے کے باعث کلائمیٹ چینج کے مختلف نوعیت کے خطرات سے دوچار ہے۔ پہاڑوں میں گلیشیئر کا پگھلاﺅ، مسلسل سیلاب، بے موسم اور کم وقت میں تیز بارشیں، سمندر کی سطح میں اضافہ اور صحراﺅں میں خشک سالی اب معمول بنتی جارہی ہے۔ ماہرین کے نزدیک ان تمام مسائل کی جڑ کہیں نہ کہیں جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے بھی وابستہ ہے۔ اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ تجزیہ حقیقی نظر آتا ہے۔ اس کی چند مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

ہمارے ’’شان دار‘‘ فیصلوں کے باعث باغات کا شہر لاہور درختوں سے خالی ہوکر ’’اسموگ ٹریپ‘‘ ، کراچی ’’ہیٹ ٹریپ‘‘ اور ’’اسلام آباد ’’پلوشن ٹریپ‘‘ بنتا جارہا ہے۔ لیکن پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بہرحال یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ اس نے اپنے گرین ایجنڈے کے تحت بلین ٹری ایفارسٹیشن اور اب ٹین بلین ٹری سونامی جیسے منصوبوں سے ملک بھر میں جنگلات اور شجرکاری کے حوالے سے نہ صرف صورت حال کو بہتر بنایا ہے بلکہ عام آدمی کو بھی ان منصوبوں میں شریک کردیا ہے۔

عالمی سطح پر ریڈ پلس کے قیام کے بعد یہ سمجھ لیجیے کہ اب ہر درخت قیمتی ہے۔ یہ ایک ایسا ٹینک ہے جو آلودہ فضا سے کاربن کو اپنے اندر ذخیرہ کرلیتا ہے۔ ہر درخت کے ذریعے چونکہ فضا سے ایک مخصوص مقدار میں کاربن کو کم کرلیا جاتا ہے، لہٰذا اس کے بدلے جنگل کے مالک کو مالی رقم فراہم کی جائے گی۔ بشرطیکہ اس کو کاٹنے سے محفوظ رکھا جائے۔ اب بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر درخت قیمتی اور نقد آور ہے۔

زمین پر زندگی کے تمام رنگ قدرتی وسائل کے مرہون منت ہیں۔ مالامال سمندر، دریا، دنیا کے بلند پہاڑ ان کے دامن میں جھومتے بارشوں کو کھینچتے سیکڑوں سال قدیم درخت، زرخیز مٹی کے میدان، سرسبز کھیت کھلیان اور رنگ برنگا حیاتی تنوع ہی ہماری اصل دولت ہے۔ انسان دراصل دو گھروں کا مکین ہے، ایک اس کا ذاتی گھر اور دوسرا کرۂ ارض۔ ہمیں دونوں گھروں کا یکساں تحفظ کرنا ہے، لیکن ہم نے اپنی عاقبت نااندیشی سے اپنے ان دونوں گھروں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

زمینی وسائل کے استعمال اور قدرتی ماحول کے درمیان ایک نہایت مضبوط تعلق موجود ہے اور انسانی سرگرمیاں جب قدرتی ماحول میں خلل ڈالتی ہیں تو ہرے بھرے مناظر کو صحراﺅں میں تبدیل ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔

درخت یا جنگلات بظاہر ہمارے لیے ایک عام سے وسائل ہیں، لیکن زمین کا تمام تر فطری ماحولیاتی نظام ان ہی کے گرد گھومتا ہے۔ یہی موسموں کے جن کو قابو میں رکھتے ہیں۔ جنگلات کو اگر ماحول کا نگہبان کہیں تو غلط نہ ہوگا۔ یہ بڑے پیمانے پر فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں، آکسیجن فراہم کرتے ہیں، درجۂ حرارت اور بارش کو قابو میں رکھتے ہیں۔ ان کی جڑیں زمین کو مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں۔ بے شمار جانور اور پرندوں کےلیے فطری مساکن اور لاکھوں افراد کےلیے وطن کا کام کرتے ہیں۔

نباتات اور حیوانات کی یہ رنگارنگی خوراک کی زبردست دولت اور انسانی صحت کےلیے بیش بہا ادویہ فراہم کرتی ہے۔ جنگلات سے ایندھن اور تعمیرات کےلیے لکڑی، حیوانات کےلیے چارا، پھل، شہد، پروٹین، دواﺅں کے عرق اور دوسری بہت سی خام اشیا مثلاً گوند، موم اور سریش وغیرہ حاصل ہوتے ہیں۔ جنگلات کروڑوں مویشیوں، بکریوں، بھیڑوں اور اونٹوں کےلیے چارے کی ضروریات بھی پوری کرتے ہیں۔

ملک کے بڑے بڑے آب گیر علاقوں (واٹر شیڈز) میں اگنے والا یہ حفاظتی پردہ نہ صرف ماحولیاتی نظاموں کو برقرار رکھتا ہے بلکہ مٹی کو اپنی جگہ قائم رکھ کر سیلابوں کے مقابلے میں رکاوٹ کا کام بھی دیتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں جنگلات کی کٹائی بے خوفی سے جاری ہے۔ حتیٰ کہ برازیل کے قدیم جنگلات کا ایک تہائی حصہ صفحۂ ہستی سے مٹ چکا ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق ان بارانی جنگلات کے رقبے میں کمی سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھ رہی ہے اور جنگل میں لگنے والی آگ کی شرح بھی بڑھی ہے۔ برازیل کے علاقے میں واقع امیزون جنگل کی خلائی سیارے کی مدد سے لی گئی تصاویر اور جائزوں سے دنیا کے ان گھنے ترین بارانی جنگلات کی تباہی آسانی سے نظر آجاتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں