حکومت سندھ کی نا اہلی، ہزاروں طلبہ و طالبات کا قیمتی سال ضائع

حکومت سندھ کی نااہلی کے سبب مختلف مضامین میں کراچی سے انٹر میڈیٹ کرنے کے خواہشمندبعض کیٹیگری کے ہزاروں طلبا وطالبات کاقیمتی سال ضائع ہوگیا ہے اوران طلبہ کا اعلیٰ تعلیم (ہائر اسٹڈیز) کا سفر رک گیاہے۔

حکومت سندھ نے گزشتہ سال دیگرلاکھوں طلبا کے ساتھ نہ توان طلبا کو پروموشن پالیسی کے تحت انٹر پاس کرنے کی اجازت دی اورنہ ہی ان کے امتحانات منعقدکیے جبکہ اب کئی ماہ سے بورڈآف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن کراچی کی جانب سے ان طلبا کوگزشتہ پروموشن پالیسی کے تحت دیگرلاکھوں طلبا کی طرزپر’’پروموٹ‘‘کرنے کی اجازت مانگی جارہی ہے جس پر حکومت سندھ اوراس کامتعلقہ محکمہ یونیورسٹیزاینڈبورڈکوئی کارروائی نہیں کررہاجس کے باعث ان طلبا کا مزید وقت ضائع ہونے کاخدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

انٹربورڈ کراچی کے ذرائع کے مطابق ایسے طلبا کی تعداد7ہزارکے قریب ہے، یہ چارکیٹیگری کے طلبا ہیں جن میں ’’مشترکہ امتحان دینے والے (TP combine twelve papers)،ایڈوانس /شارٹ سبجیکٹ(اے لیول اور مدارس سے امتحان پاس کرنے والے)،اسپیشل یاآخری چانس والے اور Benefits of passed compulsory subjects طلبا شامل ہیں۔

’’ایکسپریس‘‘کومعلوم ہواہے کہ گزشتہ سال جب تعلیمی بورڈزکے چیئرمینز کے ساتھ مل کر محکمہ اسکول و کالج ایجوکیشن اورمحکمہ یونیورسٹیزاینڈبورڈزنے مشترکہ طور پر میٹرک اور انٹر کے طلبا کے لیے بغیرامتحانات کے پاس کرنے کی غرض سے پروموشن پالیسی تر تیب دی توانٹرکی سطح پر ان چاروں کیٹگریزکے طلبا کامعاملہ پروموشن پالیسی کے ڈرافٹ میں شامل ہی نہیں کیاگیا۔

اس سلسلے میں جاری کیے گئے نوٹیفکیشن میں واضح طورپرکہاگیاتھاکہ وہ طلبا جوامتحان نہ دے سکے یااپنے نتائج سے مطمئن نہیں ہیں ان کے لیے اسپیشل امتحانات منعقدہوں گے، انٹربورڈ کراچی نے ان ہزاروں طلبا سے امتحانی فارم اورفیس بھی وصول کرلی تاہم اس دوران کووڈ کی دوسری لہرکے سبب یہ امتحان بھی نہیں ہوسکے۔

بتایاجارہاہے کہ کئی ماہ قابل انٹربورڈ کراچی کی انتظامیہ اس معاملے کواپنے بورڈآف گورنرزمیں لے گئی جہاں طے کیاگیاکہ اسے متلعقہ اتھارٹی کے سامنے رکھاجائے اوران سے امتحانات کرانے یادوسری صورت میں دیگرلاکھوں طلبا کی طرح انھیں بھی پروموشن پالیسی کے تحت 3فیصد اضافی مارکس دے کرگزشتہ نتائج کی بنیادپرپاس کردیاجائے، تاحال سیکریٹری یونیورسٹیزاینڈبورڈ نے اس خط کاجواب نہیں دیا۔

محکمہ یونیورسٹیزاینڈ بورڈزکے ذرائع بتاتے ہیں کہ علم الدین بلو دفترنہیں آتے اورمحکمے کی فائلیں ان کے گھربھجوائی جاتی ہیں، تاہم حکومت سندھ کی جانب سے اس جانب توجہ ہی نہیں دی جارہی۔

’’ایکسپریس‘‘نے اس صورتحال پر سیکریٹری محکمہ بورڈزاینڈیونیورسٹیزعلم الدین بلوسے رابطے کی مسلسل کوشش کی، انھیں میسج بھی کیاتاہم ان کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا اوروہ اس سلسلے میں بات چیت سے گریز کرتے رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں