قومی اسمبلی کا اجلاس ؛ اپوزیشن کی حکومت پر شدید تنقید اور نعرے بازی

قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن کی جانب سے کالعدم ٹی ایل پی معاملے پر شدید تنقید کی گئی جب کہ وزیر مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ مذہبی جماعت کے ساتھ مذاکرات کے 2 دور ہوچکے ہیں۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران لاہور واقعے پر وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید نے کہا کہ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر ہم ٹی ایل پی سے پیچھے نہیں ہیں، وزیر مذہبی امور نورالحق قادری تفصیلی بیان دیں گے۔

کیا ریاست مدینہ میں ایسے ہوتا ہے؟
شیخ رشید کے بیان پر پیپلز پارٹی کے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی نااہلی کی وجہ سے بھائی بھائی کے ساتھ لڑرہاہے،ہم سب غلامان رسول ﷺ ہیں، حکومت نفرتیں پھیلارہی ہے، حکومت کا کام ہے کہ وہ دلوں کو جوڑے لیکن یہاں سیاست کی جارہی ہے، وزرا اپنی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں، کیاریاست مدینہ میں ایسےہوتاہے؟، وزیر داخلہ شیخ رشید ایوان کی توہین کرکے چلے گئے ہیں، آپ پتہ کرائیں کہ اس وقت وزیر داخلہ کے گھر کے سامنے کیا ہورہا ہے، حکومت تحریک لبیک سے کیا گیا معاہدہ ایوان میں کیوں نہیں لائی، وزیر اعظم نے قوم سے خطاب کرنا ہے تو قومی اسمبلی میں آکر تقریر کریں۔

حکومت کی پالیسی مزاکرات کی ہے

حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر پیر نور الحق قادری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی محبت میں پوری قوم ایک ہے، گزشتہ دنوں میں جو کچھ ہوا ہمیں بھی اس پر دکھ ہے، ٹی ایل پی کے ساتھ کئے گئے معاہدے کی رو میں ہم معاملے کو پارلیمان میں لانے کے پابند تھے، پچھلے 4 ماہ ہم نے اس معاملے پر بہت کوششیں کیں ، آخری مذاکرات جو ہوئے تھے اس میں معاہدہ پارلیمنٹ میں پیش کرنا تھا، ابھی بات حتمی نہیں ہوئی تھی کہ مارچ کی تیاریاں شروع کردی گئیں ، ویڈیو سامنے آئی اور راستے بند کرنے کی اطلاع ملی تو حکومت نے راستے کھلے رکھنے کے لئے ایکشن لیا۔

نور الحق قادری نے مزید کہا کہ حکومت کی پالیسی مذاکرات کو جاری رکھنے کی ہے، مذہبی جماعت کے ساتھ مذاکرات کے 2 دور ہوچکے ہیں ، تیسرے مذاکرات آج تراویح کے بعد ہوں گے، اسلام کی جتنی وکالت عمران خان نے عالمی سطح پر کی اس سے پہلے کسی نے نہیں کی، عمران خان ہمیشہ ہمیشہ کیلئے توہین رسالت کا راستہ روکیں گے۔

دھرنے دینے والا اقتدار میں آیا تو گولیاں برسا دیں

جے یو آئی (ف) کے مفتی عبدالشکور نے کہا کہ کیا عمران خان اور ان کے حامیوں نے پولیس پر حملہ نہیں کیا تھا، کیا ان پر پی ٹی وی پر حملہ کرتے ہوئے گولیاں چلائی گئی تھیں ، جلاؤ گھیراؤ اور دھرنے دینے والا خود اقتدار میں آیا تو گولیاں برسا دیں، تحریک لبیک کے کارکنوں پر ظلم ہوئے، ہم ان کے ساتھ ہیں، حکومت فیصلہ کرلے وہ فرانس کے ساتھ ہے یا رسول اللہﷺ کی ناموس کے ساتھ ہے، وزیر داخلہ کو اس ایوان کا سامنا کرنا چاہئے۔

خان کے ساتھ ہو یا ایمان کے ساتھ ؟

پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ اس ایوان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ ختم نبوت پر پہرہ دیا، علی محمد خان کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے نعرے لگانے شروع کردیئے، خان کے ساتھ ہو یا ایمان کے ساتھ ہو۔ بعد ازاں اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں