تحریک لبیک پر پابندی ختم، فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے، ملی یکجہتی کونسل

ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان پر لگائی پابندی فی الفور ختم کی جائے اور فرانس کے سفیر کو بے دخل کر کے فرانس سے معافی کا مطالبہ کیا جائے۔

ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی میزبانی میں منصورہ میں صدر ملی یکجہتی کونسل پاکستان صاحبزادہ ڈاکٹرابوالخیر محمد زبیر کی صدارت میں ہوا۔ سراج الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت ایف اے ٹی ایف کا ہر حکم بجا لا رہی ہے، پاکستان کو تماشا بنا دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا ماحول بنا رہی ہے کہ اگر اسلام پسندوں کو نہ روکا گیا تو یہ ہر طرف چھا جائیں گے، تحریک لبیک کے ساتھ معاہدے کے وقت بھی حکومت نے دینی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا تھا اور خود ہی معاہدہ کر لیا تھا۔ اب دونوں طرف سے ہونے والے تشدد سے پورے ملک میں اشتعال پیدا ہوا ہے۔ سیاسی جماعتوں پر پابندی لگانا حکومت کا کام نہیں، پورے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے، بے گناہ لوگوں کو فوری رہا کیا جائے اور معاہدے کے مطابق فرانس کے سفیر کو فوری طور پر ملک بدر کیا جائے۔
صاحبزادہ ابوالخیر ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ پوری قوم کاہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ظلم و جبرکے ہتھکنڈوں سے باز آ جائے۔ حکومت مذہبی قوتوں کو کچل دینا چاہتی ہے۔ مذاکرات سے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے۔ طاقت سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ملک کو جس انتشار اور انارکی کی طرف دھکیلاجا رہا ہے، وہ اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

سیکریٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے عہد شکنی کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں