کورونا کے بعد یورپین ممالک کا پاسپورٹ لینا کتنا آسان ہے

متعدد ممالک میں دوہری شہریت کے حصول کاراستہ موجود ہے لیکن یہ آسان نہیں، سرخ فیتہ کی متعدد رکاوٹیں عبور کرنااتنا آسان نہیں ہے جتنا نظرآتا ہے۔دنیا میں 23 ممالک کی شہریت کسی نہ کسی حد تک موروثی طور پر بھی مل سکتی ہے ، آسان ترین راستہ یہی ہے۔ اگرچہ یورپی ممالک کے باشندوں کیلئے اس میں زیادہ سہولتیں رکھی گئی ہیں لیکن دوسرے خطوں کے لوگ بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ فرانس ، آسٹریلیا، کینیڈا،سائوتھ کوریا، میکسیکو، یو ۔ کے، ناروے ، ڈنمارک، نائجیریا، برازیل، کینیااور فلپائن کی شہریت حاصل کرنے کے لئے درخواست دہندہ کی ماں یا باپ کااس ملک کا شہری ہونا ضروری ہے۔۔”خون کا رشتہ‘‘ کے معاملے میں ان ممالک کے حکام نرم مزاج ہیں۔یہ ممالک شہریت کی فراہمی کو بچے کے حق سے منسلک کر کے غور کرتے ہیں۔ان میں ممالک میں امریکیوں کے لئے زیادہ آسانیاں رکھی گئی ہیں لیکن اگر کسی پاکستانی کا کوئی رشتے دار پہلی یا دوسری جنگ عظیم میں مندرجہ ذیل ممالک میں سے کسی ملک میں گیا اور وہاں کی شہریت حاصل کر لی تو اس کی اولاد کو بھی شہریت کے لئے زیر غور لایا جا سکتا ہے۔ ان ممالک میں شامل جرمنی اور پولینڈ یورپی یونین کے ممبر ممالک ہیں، ان کی شہریت پورے یورپ کے دروازے کھول سکتی ہے۔تاہم ان دنوں کورونا وباء کے باعث یہ عمل رکا ہواہے ،بحالی کے بعد قوانین میں تبدیلی کا بھی امکان ہے۔ذیل میں ہم ایسے ہی ممالک کا جائزہ دے رہے ہیں۔

آئرلینڈ
آئرلینڈ کی آبادی 40لاکھ ہے مگر پاسپورٹ 1.4کروڑ جاری ہو چکے ہیں۔آئرش باشندے امریکہ میں بھی آباد ہیں

جن کی بڑی وجہ والدین میں سے کسی ایک کا آئرش النسل ہونا بھی ہے۔امریکہ کی دس فیصد آبادی آئرش النسل ہے۔ہمارے لوگ بھی کافی تعداد میں آئرلینڈ میں آباد ہیں۔انہیں بھی شہریت مل سکتی ہے۔سب سے پہلے فارن برتھ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پیش کیجئے،اس پر کارروائی میں بارہ سے اٹھارہ مہینے لگ سکتے ہیں ۔بعد ازاں دوہری شہریت کے حصول میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے۔جس کے بعد ہی درخواست برائے پاسپورٹ دی جا سکتی ہے۔
جرمنی
جرمنیء میں بھی وراثتاََ پاسپورٹ مل سکتا ہے، بشرطیکہ کہ والد یا والدہ جرمنی کے شہری ہوں۔جرمنی میں دادا ، اور پڑدادا کے رشتے کو بھی زیر غور لایا جا سکتا ہے۔پہلی یا دوسری جنگ عظیم کے دوران اگر کسی کے عزیز، رشتے دار وہاں کی شہریت کے حامل تھے تب بھی کام بن سکتا ہے۔ کسی جرمن شہری کے ساتھ خون کا رشتہ ثابت کرنا ہوگا۔اگر کسی کے رشتے کی شہریت 1933ء سے 1945ء کے درمیان منسوخ کر دی گئی تھی توا ب ان کے پوتے ، پوتیاں یا دوسرے رشتے دار بھی درخواست دے سکتے ہیں۔
پولینڈ
اگر کسی کے پڑدادا 1918ء سے پہلے پیدا ہوئے ہیں تو ان کی اولادیں بھی درخواستیں دے سکتی ہیں۔لیکن خاندان یا نسل وہی ہونا چاہئے۔تاہم اگر کسی کے رشتے دار وہاں رہے ہیں لیکن شہریت کی درخواست نہ دے سکے تو ان کی اولادیں درخواست دینے کی اہل نہیں۔پولینڈ میں معیارات کافی سخت ہیں،کئی پیچیدگیاںحائل ہیں۔سرخ فیتہ بھی ہے، اس لئے صبر کا مظاہرہ کرنا ضروری ہو گا۔
گھانا
گھانا سے بڑی تعداد میں غلام امریکہ بھیجے گئے تھے۔ گھانا کے حکمران چاہتے ہیں کہ غلاموں کی اولادیں اپنے ملک میں واپس آ جائیں اور خدمت کریں۔اپنے علم کو ہم وطنوں کیلئے کام میں لائیں۔گھانا کی حکومت نے 2019ء کو ”واپسی کا سال ‘‘ قراردیتے ہوئے سبھی کیلئے مراعات کا اعلان کیا تھا۔یہی نہیں، گھانا نے تمام افریقی النسل باشندوں کو بھی ا پنے ملک میں غیر معینہ مدت تک قیام کی سہولت دے رکھی ہے۔ بڑی تعداد میں نئے لوگوں کو گھانا کی شہریت عطا کی جا چکی ہے۔
اٹلی
اٹلی میں دنیا کی سب سے زیادہ لبرل پالیسی نافذ ہے۔اس ملک کی شہریت والد یا والدہ کے باعث تو مل سکتی ہے لیکن ”گریٹ گریٹ گریٹ پیرنٹس ‘‘کی اولادیں بھی درخواستیں دے سکتی ہیں۔یعنی اگر کسی کے آباء اجداد وہاں کی شہریت لے چکے تھے تو ان کی نئی نسلیں بھی درخواستیں دے سکتی ہیں۔ امریکہ میں اطالوی نژاد باشندوں کی کمی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1.57 کروڑ امریکی اطالوی النسل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں