پی آئی سی حملہ: گرفتار وکلا کی عدالت میں پیشی، جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

لاہور: () پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر حملے میں ملوث وکلا کو انسداد دہشتگردی عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
پی آئی سی حملے میں ملوث 20 سے زائد ملزمان وکلا کو ایڈمن جج عبدالقیوم خان کے روبرو پیش کیا گیا۔ اس موقع پر تفتیشی افسر نے ان کے 14 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔

ملزمان وکلا کو تھانہ شادمان میں درج 2 ایف آئی آر میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کی طرف سے غلام مرتضیٰ چودھری سینئر وائس پریزیڈنٹ سپریم کورٹ بار، ایڈوکیٹ صغراں گلزار، ایڈوکیٹ نوشین عمبر اور ایڈوکیٹ طاہر منہاس عدالت میں پیش ہوئے۔

ادھر لاہور ہائیکورٹ پی آئی سی میں ہنگامہ آرائی کرنے والے وکلا کی گرفتاری کے خلاف درخواست سماعت کے لئے مقرر کر دی گئی ہے۔ جسٹس انوار الحق پنوں جمعے کو درخواست پر سماعت کریں گے۔

دوسری جانب وکلا کے حملے کے بعد کی صورتحال کے پیش پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں رینجرز تعینات کر دی گئی ہے۔ رینجرز کے اہلکاروں نے پی آئی سی کا چارج سنبھال لیا ہے۔ پی آئی سی کی عمارتوں کے باہر رینجرز اہلکاروں نے ڈیوٹیاں دینا شروع کر دی ہیں۔

وکلا کی گرفتاریوں اور مقدمات درج ہونے کیخلاف پنجاب بھر میں وکلا نے ہڑتال کی۔ عدالتوں میں پیش نہ ہونے پر سائلین کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ وکلا نے کل بھی ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

آج دن بھر عدالتوں میں سناٹا چھایا رہا۔ سائلین اپنے کیسز کی تاریخیں لے کر واپس جانے پر مجبور ہو گئے۔ اوکاڑہ، گوجرہ، بہاولپور، کلورکوٹ، راجن پور اور وہاڑٰی میں بھی اظہار یکجہتی کیلئے وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔ قصور میں کچہری چوک پر وکلا نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

ہڑتال کے باعث بہاولپور ڈسٹرکٹ بار میں چیف جسٹس پنجاب کے لے فیئروِل پارٹی منسوخ کر دی گئی۔ وکلا کا مطالبہ ہے کہ گرفتار ساتھیوں کو رہا اور درج مقدمات خارج کئے جائیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے بار روم میں وکلا ایکشن کمیٹی کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا جس میں ممبر پاکستان بار احسن بھون، اعظم نذیر تارڈ، صدر ہائیکورٹ بار حفیظ الرحمن چودھری سمیت دیگر سینئر وکلا نے شرکت کی اور کل کے واقعے کی مذمت کی۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے گرفتار وکلا کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ وکلا ایکشن کمیٹی نے نامزد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے بھی ملاقات کی اور وکلا کی رہائی کے لیے درخواست کی، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے وکلا کی رہائی کے لیے آج ہی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں