اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں 50 کروڑ روپے کی رقم برآمد کی، چیئرمین نیب

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے کہا ہے کہ اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50 کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کی۔

قومی احتساب بیورو کے چیئرمین جسٹس جاوید اقبال نے نیب لاہور کا دورہ کیا جہاں ڈائریکٹر جنرل نیب شہزاد سلیم کی جانب سے انہیں میگا کرپشن کے مقدمات جن میں سابق وزیر اعلی پنجاب ملزم شہباز شریف ملزم حمزہ شہباز ملزم سلمان شہباز ودیگر کیخلاف منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات پر بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین نیب کو چودھری شوگر مل کیس میں ملزم میاں نوازشریف مریم نواز شریف، ملزم یوسف عباس اور ملزم عبدالعزیز کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ، پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کیس میں ملزم اکرام نوید کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی تحقیقات پیش رفت کے حوالے سے بتایا گیا۔

ڈائریکٹر جنرل نیب نے شہباز شریف کے داماد ملزم عمران علی یوسف کے خلاف تحقیقات، سابق وزیر خزانہ ملزم اسحاق ڈار کے خلاف مبینہ طور پر آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس کی تحقیقات، نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف رائیونڈ روڈ کی توسیع میں مبینہ طور پر اختیارات کے غیر قانونی استعمال کے خلاف جاری تحقیقات، نواز شریف کے خلاف ایل ڈی اے میں پلاٹوں کی مبینہ غیرقانونی تقسیم کے کیس کی انکوائری کے علاوہ دیگر میگا کرپشن کیس میں ہونے والی پیش رفت پر بریفنگ دی۔

اس موقع پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ میں نیب 71 ارب روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جس میں بڑا کردار نیب لاہور کا ہے، سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف جاری تحقیقات میں نیب لاہور نے 50 کروڑ روپے کی رقم ملزم کے بینک سے برآمد کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے حوالے کیں جب کہ گلبرگ میں کروڑوں روپے مالیت کا 4 کنال کا گھر بھی حکومت پنجاب کے حوالے کیا جا رہا ہے جسے فروخت کر کے وصول ہونے والی مکمل رقم قومی خزانے میں جمع کروائی جائے گی، چیئرمین پنجاب پاور ڈویلپمنٹ کمپنی کے سابق چیف فنانشل آفیسر ملزم سے ایک ارب روپے مالیت کے جائیداد برآمد کرکے حکومت پنجاب اور ایرا حکام کے حوالے کی ہیں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب کے مقدمات کی تحقیقات انتہائی اہم ہوتی ہے، نیب کے افسران کی وابستگی کسی سیاسی جماعت یا گروہ کے ساتھ نہیں بلکہ ان کا مقصد صرف اور صرف ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہے جسے وہ اپنی قومی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ میگا کرپشن مقدمات میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، جن کیسوں میں شہادت موجود ہیں وہاں ٹھوس اور مضبوط کیسے بنائے جائیں تاکہ عدالتوں میں قانون کے مطابق پیروی کی جا سکے، ہر شخص کی عزت نفس کا خیال کیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں