محاذ آرائی کی سیاست اور سویلین بالادستی

محاذ آرائی کی سیاست اور سویلین بالادستی
پاکستان اس لحاظ سے ایک دلچسپ ملک ہے کہ یہاں آپ سائنسی ایجاد کرکے، عوامی خدمت کو اپنا مشن بنا کر یا اعلیٰ پائے کی کتاب لکھ کر نہیں بلکہ کوئی بحران پیدا کرکے توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستانی میڈیا بھی ان کی طرف توجہ مبذول کرتا ہے جو کوئی ہنگامہ خیزی پیدا کر سکتے ہیں یا متنازعہ بیانات جاری کر سکتے ہیں۔ تازہ مثال جناب مولانا فضل الرحمن کی ہے‘ جنہوں نے ایک سیاسی بحران پیدا کر کے سیاست میں دوبارہ اپنے لئے جگہ بنا لی ہے۔ 2018ء کے عام الیکشن کے بعد وہ اپنی سیاسی اہمیت اور قدر و قیمت کھو رہے تھے۔ انہوں نے جمعیت علمائے اسلام کے پیروکاروں کی مدد سے لانگ مارچ اور دھرنے کا انتظام اور پھر اس کی قیادت کر کے ایک مرتبہ پھر اپنی سیاسی حیثیت منوا لی ہے۔
ہنگامہ خیزی یا بحران پیدا کر کے اپنی اہمیت منوانے کو اکثر جمہوریت کی تھیوری اور پریکٹس میں پائے جانے والے خلا کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ پاکستان کی زیادہ تر سیاسی جماعتیں اور لیڈر جمہوریت کی حمایت کرتے ہیں۔ اس کے حق میں بلند بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ مگر جب وہ برسر اقتدار آ جاتے ہیں یا ایک سیاسی جماعت کے طور پر اپنے سیاسی ایجنڈے پر عمل درآمد کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوںکو نظر انداز کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا پھر مخصوص حد تک ہی اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تجربے سے ثابت ہے کہ جمہوری اداروں یا جمہوری عمل کا بس اسی حد تک احترام کیا جاتا ہے‘ جہاں تک وہ انفرادی یا گروہی سیاسی ایجنڈے کی تکمیل میں معاون ہوں۔ جمہوری اصولوں اور انفرادی سیاسی ایجنڈے کے مابین کسی کشمکش کی صورت میں انفرادی سیاسی ایجنڈے کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کا متبادل حل یہ نکالا جاتا ہے کہ اپنے غیر جمہوری سیاسی طرزِ عمل کا جواز پیدا کرنے کیلئے جمہوری اقدار کو نئے معانی پہنا دیئے جاتے ہیں۔
مولانا صاحب کا دھرنا جمہوریت اور آئین کے نام پر دیا گیا ہے جبکہ کوئی بھی جمہوریت کسی منتخب سیاسی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے ماورائے پارلیمان حربوں خصوصاً سڑکوں پر احتجاج کی حکمت عملی کی اجازت نہیں دیتی۔ مولانا نے دھمکی دی ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ہجوم وزیر اعظم ہائوس پر حملہ کر کے وزیر اعظم کو گرفتار کر سکتا ہے۔ وزیر اعظم کو برخاست کرنے کے لئے آئین صرف دو طریقے بتاتا ہے۔ اول‘ قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کا ووٹ۔ دوئم‘ قومی الیکشن میں شکست۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ حکمران جماعت کو سڑکوں پر احتجاج یا دھرنے کا سامنا ہے۔ ماضی میں یہ کئی مرتبہ ہو چکا ہے حتیٰ کہ خود عمران خان 2014ء میں اسی حکمت عملی کی پیروی کر چکے ہیں مگر وہ اس وقت کے وزیر اعظم سے استعفیٰ لینے میں کامیاب نہیں ہوئے تھے۔ اب عمران خان کی حکومت کو بھی ویسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔ سیاسی فورسز کسی سیاسی نظام کے اندر رہتے ہوئے ایسے حربے استعمال کرتی ہیں جن سے دو طرح کے رجحانات کا اظہار ہوتا ہو۔ اول یہ کہ حکومت کسی حد تک اچھی گورننس کو یقینی بنانے سے قاصر ہو اور وہ عوام کو بنیادی انسانی اور سول سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو گئی ہو۔ یا پھر یہ کہ وہ عوام کو ایسی امید دلائے کہ ان کا ذاتی، خاندانی اور سماجی مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ حکومتی پالیسیاں عوام کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ حکومت ان کی زندگی کی کوالٹی میں بہتری لانے کی سر توڑ کوششیں کر رہی ہے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ عوام کو بلا امتیاز زندہ رہنے کیلئے ملازمت مل سکے۔ دوئم: ماورائے پارلیمان حربے خاص طور پر سٹریٹ ایجی ٹیشن اور تشدد ان ممالک میں عام ہیں‘ جہاں عملی سطح پر جمہوریت کی کوالٹی کمتر ہو۔ کسی ملک کے پاس جمہوری آئین تو ہو سکتا ہے مگر اہم بات یہ ہوتی ہے کہ اس کے سیاسی لیڈر کس حد تک جمہوری روایات اور اقدار کی پاسداری کرتے ہیں۔ عام طور پر ان ممالک میں جمہوری کلچر کی جڑیں اتنی گہری نہیں ہوتیں‘ اس لئے سیاسی لیڈر اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے ہر حربہ استعمال کر گزرتے ہیں۔ اگر جمہوری ادارے اور عمل مددگار ہو تو ان کا احترام کیا جاتا ہے؛ تاہم اگر جمہوری عمل اور ادارے ایسے نتائج دیں جو کسی جماعت یا لیڈر کیلئے قابل قبول نہ ہوں تو ان کے وجود اور جواز پر سوالات اٹھا دیئے جاتے ہیں۔
جمہوری کلچر کی عدم موجودگی میں جمہوریت کامیاب نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کا بنیادی تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آئین اور قانون کا احترام کیا جائے‘ تحمل اور سیاسی رواداری کا مظاہرہ کیا جائے اور متنازعہ امور میں بات چیت کا راستہ اختیار کیا جائے۔ ایک جمہوری نظام کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت ہے اور اسے عوام کو ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی امید اور ضمانت دینی چاہئے۔
اگر ہم ان اصولوںکا اطلاق پاکستان پر کریں تو اسے ایک جمہوری ملک کہا جا سکتا ہے‘ جہاں ایک لبرل پارلیمانی آئین موجود ہے۔ یہ بنیادی حقوق، منتخب اداروں اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ساتھ آزاد عدلیہ اور دیگر ادارے فراہم کرتے ہیں جن کا دائرہ کار اس آئین میں متعین ہے۔ اصل مسئلہ وہ کمتر درجے کی جمہوریت ہے جو آئینی اصولوں کو سیاسی حقائق سے مربوط کرتی ہے۔ مسئلہ گورننس کی باتیں نہیں بلکہ اس کا عملی نفاذ ہے۔ جمہوری عمل اور اداروں کی کارکردگی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ ان اداروں اور جمہوری عمل کو چلانے اور کنٹرول کرنے والے افراد کا حقیقی رویہ کیسا ہے۔ کیا وہ آئین میں درج جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتے ہیں؟ اور یہ کہ اپنے سیاسی امور چلانے کے لئے وہ کس حد تک جمہوری اقدار اور اصولوںکی پاسداری کرتے ہیں؟پاکستان میں پارلیمنٹ نے قانون سازی کا محدود سا کام کیا ہے اور یہ ارکان پارلیمنٹ خصوصاً ان سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری تھی جو سیاست پر غالب ہیں۔ گزشتہ چودہ مہینوں کا تجربہ بتاتا ہے کہ اپوزیشن قومی اسمبلی کو اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہے۔ حکمران جماعت کا رد عمل بھی اتنا ہی منفی اور نمایاں ہے۔
تمام سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے متحرک ارکان غیر شائستہ اور سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپنے سیاسی حریفوں کے بارے میں توہین آمیز بیانات دیتے رہتے ہیں۔ جب سیاسی لیڈر اور بالا دست اشرافیہ سخت زبان استعمال کرنے پر تلے ہوئے ہوں یا وہ ریاست کی سیاسی اتھارٹی کو سرے سے تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہونے کی باتیں کرتے ہوں تو انہیں یہ امید نہیں لگانی چاہئے کہ عام لوگ ریاستی عمل اور اداروں کا احترام کریں گے۔ جس بات کا سیاسی رہنمائوں کو احساس اور ادراک نہیں‘ وہ یہ کہ جب سیاسی بات چیت میں سرکشی، تلخ زبانی اور توہین آمیز رویہ اختیار کرنے کی عادت ہو جائے تو اس کے نہ صرف سیاسی عمل پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں بلکہ سوسائٹی بھی ویسا ہی چلن اختیار کر لیتی ہے‘ جس سے انسانوں کے باہمی تعامل کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ عام آدمی کا ریاستی اداروں پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے اور وہ دوسرے انسانوں کے ساتھ معاملات میں بھی ناشائستہ زبان استعمال کرتے ہیں۔ معاشرے سے شائستگی اور متانت کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔ اس رویے سے نوجوان نسل زیادہ متاثر ہوتی ہے۔ جب کبھی انہیں کوئی خلاف قانون یا ناپسندیدہ کام کرنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ بہت ناشائستہ اور توہین آمیز رویے کا مظاہرہ کرتے ہیں۔جب عوام انہیں ٹی وی پر ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے یا انہیں اپنے سیاسی حریف کو ایوان میں بات کرنے سے روکتے ہوئے دیکھتے ہیں تو کیا سبق سیکھتے ہیں؟ اخلاقی سبق یہ ہے کہ کوئی ادارہ آپ کے مفادات کا تحفظ نہ کرے تو آپ اسے کام نہیںکرنے دیتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ایک ایسا قابل اعتبار سیاسی اور سماجی نظام تشکیل دیا جائے جہاں سیاسی قائدین اور بالا دست اشرافیہ‘ دونوں قانونی اور آئینی پیرامیٹرز کا مشاہدہ کر سکیں اور اختلاف رائے سے نبرد آزما ہونے کے لئے شائستگی اور متانت کی روایات وضع ہو سکیں۔ اسی طرح معاشرے میں انسانی ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے اور لوگ ریاستی عمل اور اداروں کا احترام کرنا سیکھ سکتے ہیں۔ جب معاشرہ سیاسی نظام کو زیادہ سے زیادہ قبول کر لیتا ہے تو وہ ریاست کے جمہوری و غیر جمہوری اداروں کو بھی اپنی حدود سے تجاوز نہ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ جمہوریت ہمیشہ سویلین اور منتخب اداروں کو فضیلت دیتی ہے مگر یہ خواب اسی وقت شرمندہ تعبیر ہو سکتا ہے جب سیاسی لیڈر جمہوری کلچر پر عمل پیرا ہوں، قانون کا احترام کریں اور سماجی تنازعات کو پارلیمنٹ اور سویلین حکومت کے ذریعے طے کرنا سیکھ لیں

اپنا تبصرہ بھیجیں