سیاسی چونا یا عمران خان کی ضد

سیاسی چونا یا عمران خان کی ضد
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صورتحال گزشتہ کالم سے پیوستہ ہے‘ جس کا اختتام ان سطور پر ہوا تھا: ”ابتدائی طور پر دھرنے والوں کا پروگرام چار پانچ روز قیام کاہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مولانا کو ملے گا کیا ؟وہ اپنا ہدف حاصل کر پائیں گے یا نہیں؟کیونکہ دھرنے سے مسلم لیگ نواز اورپی پی پی پس ِچلمن کافی کچھ حاصل کرچکے ہیں‘‘۔دھرنے کے ثمرات سمیٹنے کا سلسلہ صدقہ جاریہ کی طرح جاری ہے۔دھرناسٹوری آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی ہے۔صحافتی اصطلاح میں اسے ڈیویلپنگ سٹوری کہا جاتاہے۔ٹام اینڈ جیری کا کھیل شروع ہوچکا ہے۔جلوت میں دھرنا ہے اور دھرنے کے پس پردہ خلوت میں‘ مدھم روشنیوں میں بڑی بڑی بیٹھکوں کا سلسلہ شروع ہوچکاہے ۔ہر پلیئر کی خواہش اور کوشش ہے کہ وہ دھرنے کی منفی حدت سے محفوظ رہے۔ مولانافضل الرحمن نے دھرنے کے پہلے روز بھرپور طاقت کا مظاہرہ کیا‘ شہباز شریف بھی‘ بادل نخواستہ ہی سہی‘ لیکن کنٹینر پر آئے اور دھواں دار خطاب کیا ۔ان کی تقریر کی بنیادی مخاطب اسٹیبلشمنٹ تھی۔انہوں نے براہ راست گلے شکوے کرتے ہوئے کہا کہ ادارے ان کے ساتھ بے اعتنائی اور بے رخی نہ برتیں‘ ان پر اعتماد کریں‘ ان کی حمایت کریں‘ ان پر دستِ شفقت رکھیں تو وہ متحدہ اپوزیشن کے ساتھ مل کرصرف چھ ماہ میں ملک کی معاشی تقدیر بدل سکتے ہیں۔شہباز شریف نے اسٹیبلشمنٹ کی عمران خان پر بے پناہ عنایات پر بڑے دکھی دل سے شکوہ کیا اور لجاجت بھرے لہجے میں کہا کہ ادارے جتنا پیار اور پشت پناہی عمران خان کی دے رہے ہیں ‘اس کا اگر دس فیصد پیاربھی میرے ساتھ کریں تو میں زیادہ بہتر ڈلیور کرسکتا ہوں۔خطاب کے بعد شہباز شریف کو تادمِ تحریر کنٹینر پر تو کیا اسلام آباد میں بھی نہیں دیکھا گیا۔ شہباز شریف کی تقریر کے بعد مولانا ”پھر ڈھونڈ انہیں چراغ رخِ زیبا لے کر‘‘کے مصداق شہباز شریف کے دیدار کو ترس رہے ہیں۔اطلاعات کے مطابق شہباز شریف کنٹینر پر تقریر کے بعد جیسے ہی رابطوں میں آئے تو ان کے فون کی گھنٹیاں بجنا شروع ہوگئیں ‘ انہیں کہا گیا کہ معاہدے کی پاسداری اور اس کے حتمی ہونے کا انحصار کمٹمنٹ پر ہے۔ دو کشتیوں میں سواری اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کا وقت گزر چکاہے‘ اس لیے ایک راستے کا انتخاب کرلیں ۔شہباز شریف نے اس پیغام اور طرزِ تکلم کو کافی سمجھا ۔مولانا کی رہائش گاہ پر ہونے والے دونوں سربراہی اجلاسوں میں کمر درد کی وجہ سے شریک نہیں ہوئے اور مولانا کو نظر بھی نہیں آئے۔لاہور میں پہنچ کر اپنے قائد بھائی اور بھتیجی کے ساتھ باہم گہری مشاورت میں رہے اور مفاہمت کے فوائد پر تفصیلی روشنی ڈالتے رہے‘جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز نے حتمی فیصلہ کیا کہ وہ مولانا کے دھرنے ‘غیر جمہوری اور تشدد کے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔مریم بی بی کی شوگر ملز کیس میں مشروط طور پر ضمانت پر رہائی ہوچکی ہے‘ وہ اب بہتر طور پر اپنے والد کی صحت کا خیال رکھ سکیں گی‘ تاہم وہ بیرون ملک نہیں جاسکیں گی‘البتہ اپنی جماعت پر ان کی گرفت مضبوط ہوجائے گی ؛بشرطیکہ وہ سیاست میں آزادانہ حصہ لینے کیلئے تیار ہوں‘کیونکہ وہ اور میاں نواز شریف فوری طور کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ معاملات کو ریورس گیئر لگے اور خاندان میں شکوک و شبہات کی نظر سے دیکھے جانے والے شہباز شریف کی اب تک کی جانے وا لی محنت اور کئے کرائے پر پانی پھرے ۔یوں 21اور26 اگست کے دوران کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ہونے والی براہ راست ملاقاتوں میں طے پانے والے معاملات کی بارآوری کا سلسلہ جاری ہے۔
دھرنے کے کنٹینر پر بلاول بھٹو زرداری نے جو تقریر کی اس کا لب و لہجہ گو ذرا سخت تھا‘ لیکن اس میں بھی انہوں نے سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔شہباز شریف کے برعکس وہ مولانا کے ساتھ کھڑے رہے اور مولانا کا خطاب بھی مسکرا مسکرا کر سنا۔بلاول کی تقریر میں بھی اسٹیبلشمنٹ کی ان سے بے اعتنائی کا گلہ شکوہ واضح تھا اور وہ قدرے غصے میں بھی تھے ۔اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ شریف فیملی کے برعکس زرداری خاندان پر عنایات کا سلسلہ وہ نہیں ہے‘ جتنی کہ ان کی خدمات۔اس لیے مولانا کی رہائشگاہ پر ہونے والی پہلی سربراہی بیٹھک میں وہ خود شریک بھی ہوئے‘تاہم اس کے بعد وہ بھی نظر نہیں آئے؛البتہ پیپلزپارٹی‘ مسلم لیگ نواز کے برعکس اِن سونگ اور آؤٹ سونگ باؤلنگ کروا رہی ہے اور واضح طور پر پیغام دے رہی ہے کہ اگر ان پر بھی عنایات نہ کی گئیں تو وہ دھرنے میں شریک نہ ہونے کے فیصلے پر نظرثانی بھی کرسکتے ہیں۔بلاول بھٹو کی تقریر میں بھی مرکزی خیال یہی تھا کہ پاور پلیئرز اپنا سارا وزن عمران خان کے پلڑے میں نہ ڈالیں‘ بلکہ انہیں بھی خدمت کا موقع دیا جائے۔بلاول کی گفتگو میں بھی عمران حکومت کے خاتمے اور نئے انتخابات پر فوکس تھا‘ جس میں فوج کا عمل دخل نہ ہو۔بلاول کی ملاقاتیں بھی ان کے خاندان کے لئے مستقبل قریب میں آسانیاں پیدا کرنے والی ہیںاور بلاول بھی یہ یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ وہ بھی عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند رہیں گے؛ البتہ آئینی اور جمہوری طریقے سے حکومت گرانے کے عمل کو مؤثر بنائیں گے۔بلاول کے بار بار سندھ کارڈ کی بلیک میلنگ کو ڈس کریڈٹ کرنے کے لیے بھٹو خاندان کا خون اور پی پی پی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی فاطمہ بھٹو بھی چھ سال کے بعد لاڑکانہ پہنچ چکی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی مذاکراتی کمیٹی مولانا اور رہبر کمیٹی کو رام کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ‘ یہاں تک کہ مولانا نے ملاقات سے ہی انکار کردیا۔ ڈیڈ لاک کے بعد پاور پلیئرز نے چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کو ٹاسک دیا‘ جس کے نتیجے میں مولانا اور چوہدری صاحبان کے درمیان رابطے ہوئے اور مولانا نے اپنا الٹی میٹم واپس لے لیا اور ڈی چوک جانے کا ارادہ ترک کردیا۔چوہدری صاحبان کی ملاقات کے کیا نتائج نکلتے ہیں اور کن نکات پر اتفاق ہوتا ہے‘ اس کا انتظار ہے‘ لیکن مولانا نے افواجِ پاکستان کے بارے میں اپنے نقطہ نظر کو واضح کردیا ہے کہ وہ اداروں سے جھگڑا نہیں چاہتے اور اداروں سے بھی غیر جانبداری کی توقع رکھتے ہیں۔حکومت گرانے کے طریقہ کار میں اختلافات کے باوجود تمام سیاسی گرو مولانا‘ پی پی پی‘ مسلم لیگ نواز‘ اے این پی اور دیگر آئینی جمہوری طریقے سے عمران حکومت کے خاتمہ پر متفق ہیں ‘ جس میں حکومت کو اسمبلی توڑنے کے لئے مجبور کرنا ‘ تحریک عدم اعتماد ‘ ان ہاؤس تبدیلی اور فوری طور پر نئے انتخابات کا انعقاد شامل ہے۔اس وقت سیاسی پنڈتوں کی ایک ہی کوشش ہے کہ عمران خان اور پاور پلیئرز کی پارٹنر شپ توڑ دی جائے اور پاور پلیئرز کو اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ انہیں قومی اسمبلی میں نا صرف فری ہینڈ دیا جائے‘ بلکہ اس تاثر کو بھی زائل کیا جائے کہ اگر عمران خان کو ہٹانے کے لیے آئینی اور جمہوری طریقہ اور کوشش کی جاتی ہے تو وہ مکمل طور پر غیر جانبدار رہیں گے۔اگر اپوزیشن اس ضمن میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر شاید ہی عمران حکومت بچ سکے‘ کیونکہ ماضی کے حکمران اتحادی اب بھی قریب آنے کو ترس رہے ہیں‘ بس بادبان کھلنے سے پہلے کے اشارے کے منتظر ہیں۔دوسری جانب عمران خان اپنی ضد پر قائم ہیں اور مسلسل اپنی غیر لچکدار ‘بلکہ ضرورت سے زیادہ مزاج کی سختی نے نا صرف اتحادیوں کو پریشان کیا ہوا ہے‘ بلکہ سیاست میں مفاہمانہ طرزِ عمل اور اس سمت پاور پلیئرز کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور اشاروں کو بار بار رد کررہے ہیں‘ جبکہ ریاستی اداروں کا یہ مزاج ہرگز ان کا ساتھ نہیں دے رہا۔پاکستان تحریک انصاف اور اتحادی جماعتوں کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں عمران خان کی قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے‘ تاکہ منفی تاثر کا زائل کیا جاسکے۔کور کمانڈرز کانفرنس میں ہونے والے فیصلے بھی بتا رہے ہیں کہ پاک فوج افراد کے بجائے قومی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنا کردار آئین اور قانون کے اندر رہتے ہوئے کرے گی۔مولانا کو دھرنے سے کیا ملے گا یہ سوال ابھی باقی ہے‘ کیونکہ ابھی تک تو مولانا کو ان کے دو بڑے اتحادی صرف چُونا ہی لگا سکے ہیں۔مزید کس کس کو چُونا لگنے والا ہے؟ دیکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں