سیاسی عدم استحکام کیونکر پیدا ہوا؟

سیاسی عدم استحکام کیونکر پیدا ہوا؟
جولائی 2018ء کے قومی انتخابات کے صرف سوا سال بعدحکومت کیخلاف طبلِ جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوناغیر متوقع ہے۔ نواز شریف کے دونوںمقدمات میں طبی بنیادوں پر ضمانت ہو چکی ہے اور آصف علی زرداری کی ضمانت بھی طبی بنیادوں پرہونے کے امکانات ہیں ‘ جبکہ چند دنوں میںشاہد خاقان عباسی ‘خواجہ سعد رفیق اور دیگر سیاستدان بھی ضمانت پر رہا ہو سکتے ہیں۔ ان حالات میںوزیر اعظم عمران خان کو قومی اسمبلی میںاپنی اکثریت ثابت کرنا مشکل نظر آرہا ہے‘ کیونکہ متحدہ قومی موومنٹ‘سردار اختر مینگل اور پیر آف پگارا نواز شریف کی عیادت کے لیے لاہور جانے کا پروگرام بنا چکے ہیں۔چودھری برادران کے تیور بھی بگڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان اپنے نااہل وزرا کی کارکردگی سے مطمئن نظر نہیں آرہے‘ چند وزرا نے تو اپنی علیحدہ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے اور وہ افغان لارڈز کی طرح اپنے اپنے دائرہ کار سے باہر نکل چکے ہیں۔دوسری جانب تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی پالیسیوںسے عوام کوریلیف نہیں مل رہا۔ اس وقت زمینی حقائق یہ ہیں کہ ان معاشی پالیسیوں سے آبادی کے تمام گروہ اورطبقات یکساں پریشان ہیں اور وہ اپنے اپنے انداز میں تحفظات اور احتجاج کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ عوام نے عمران خان کو نظام بدلنے کے لیے ووٹ دیئے تھے‘ لیکن سانحہ ساہیوال کے وقوعے اور اس کے فیصلے کے بعد قوم کی آنکھیں کھل چکی ہیں‘اس فیصلے کا سب سے خوفناک پہلو یہ ہے کہ عدالت کو قاتل نہیں مل سکے ۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر کافی عرصہ حاوی رہنے والی دو بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ( ن) سے نجات حاصل کرنے کی ایک سوچ پائی جاتی تھی‘ جس کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ایک مقبول سیاسی جماعت کے طور پر ان دونوں سیاسی جماعتوں کا سیاسی خلا پر کر سکتی تھی اور ملک کی ترقی میں حا ئل رکاوٹیںختم کر سکتی تھی‘ جو اس سوچ کے مطابق‘ دو بڑی سیاسی جماعتوں نے پیدا کی تھیں۔اس سوچ نے لوگوں کے ذہنوں میںجو سیاسی سکیم ڈالی تھی اس کے مطابق ‘تحریک انصاف کی قیادت ہی پاکستان میں سیاسی استحکام کے ساتھ طویل عرصے تک ترقی کی منازل طے کرا سکتی ہے‘لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔ اب یہ بیانیہ زیادہ مؤثر اس لئے بھی نہیں رہاکہ ایف بی آرکے چیئرمین شبر زیدی انکشاف کر چکے ہیں کہ بیس سالہ دور میں چھ ارب ڈالر ز کی رقوم کی ترسیل سٹیٹ بینک آف پاکستان کے توسط سے ہی ہوتی رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن کے سیاسی اور مذہبی نظریات سے اگرچہ عوام مطمئن نہیں ‘لیکن تحریک انصاف کی حکومت کی پالیسیوںکے خلاف ان کا احتجاج وسیع تر عوامی حلقوںکی امنگوں سے ہم آہنگ نظر آتا ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کی اس طرح مخالفت نہیں کی جا رہی‘ جس طرح 2014ء اور 2016ء کے لانگ مارچ میں عمران خان کی مخالفت کی گئی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کے لانگ مارچ کی پاکستان کی تمام اپوزیشن جماعتیںاور سیاسی قوتیںحمایت کر رہی ہیں‘چاہے وہ اس لانگ مارچ میں شریک ہوں یا نہ ہوں‘ کیونکہ مہنگائی‘ بیروزگاری اورمعیشت کی سست روی نے سب کی سیاسی سوچ تبدیل کر دی ہے۔
بین الاقوامی سطح پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال‘ سرحدوں پر کشیدگی‘ عالمی مالیاتی بینک کی ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرز پر ڈکٹیشن اور ایف اے ٹی ایف کی لٹکتی تلوارنے پاکستان کے مستقبل کے لیے پریشان کن منظر نامہ بنا دیا ہے۔ چین اورا مریکہ کے بلاکس میں سے کسی ایک کا انتخاب بھی پاکستان کے لیے چیلنج بن چکا ہے ‘کیونکہ اس وجہ سے بھی پاکستان پر کافی دباؤ ہے۔ پاکستان میں اس وقت جو سیاسی حالات بن رہے ہیں‘کئی داخلی اور خارجی تضادات کا منطقی نتیجہ ہیں۔یہ حالات جولائی 2018ء سے بالکل مختلف ہیںاور وقت کے ساتھ ان میں مزید تبدیلی آئے گی۔ نئے سیاسی منظر نامے میں نئی سیاسی قوتوں کا کردار بن رہا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے اندر نئی روح پھونکی جا رہی ہے اور مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد ان میں توانائی پیدا ہوگی ۔ ان حالات میں وزیراعظم عمران خان کو اپنی موجودہ کابینہ کو تحلیل کرکے اختیارات حقیقی نمائندوں کو دیناہوں گے۔ تحریک انصاف میں ایسے ارکان اسمبلی کی کمی نہیں‘ جو حالات کو سنبھالنے کی عمدہ صلاحیت رکھتے ہیں ‘ تاہم موسمی پرندوں نے پارٹی کی حقیقی قوت کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔
پرامن احتجاج کا ناقابل تنسیخ حق دنیا کے ہر جمہوری ملک میں حزب اختلاف ہی کو نہیں ‘بلکہ ہر شہری کو حاصل ہوتا ہے ‘اور پورا نظامِ مملکت اس کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے‘ لہٰذامولانافضل الرحمن کی جماعت سمیت اپوزیشن کی تمام جماعتوںکے نمائندوں پر مشتمل رہبر کمیٹی اور حکومت کے درمیان آزادی مارچ اور اسلام آبادمیں جلسے کی اجازت کے سلسلے میں باقاعدہ تحریری معاہدہ طے پاجاناجمہوری روایات اور آئین اور قانون کی بالادستی پر یقین رکھنے والے ہر پاکستانی کے لیے باعثِ اطمینان ہے۔ سخت کشیدہ سیاسی فضا کے باوجودمعاہدہ طے پاجانا ایک بڑی کامیابی تھی ‘تاہم دونوں فریقین کا اصل امتحان عمل کے میدان میںہونا ہے ‘اور دونوں جانب سے کئے گئے وعدے پورے ہو گئے تو ہمارے جمہوری مستقبل کے لیے یقینا ایک اہم سنگ میل ہوگا۔مولانا فضل الرحمن کی احتجاجی تحریک منطقی لحاظ سے منفرد نہیں ہے‘ پاکستان کی تاریخ میںپہلی مرتبہ اس احتجاجی تحریک میں وہ تمام جوہر موجود ہیں جو ماضی کی آمرانہ اور جمہوریت کے خلاف شروع ہونے والی تحاریک کا محرک تھے۔ اس تحریک کا سب سے بڑامحرک معاشی ہے ۔جولائی2018ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کی مقبولیت کی بنیاد پر جو سیاسی سکیم بنائی گئی تھی وہ ناکام ہو گئی ہے۔
مولانا فضل الرحمن اگرچہ ایک سیاسی مذہبی جماعت کے رہنما ہیں‘لیکن انہوں نے اپنے احتجاج کے لیے کوئی بڑا مذہبی سیاسی نعرہ نہیں لگایا ہے۔ انہوں نے سیاسی اور معاشی معاملات کو بنیاد بنا کر احتجاج شروع کیا۔ پہلی با ر احتجاج کے تمام معروضی تقاضے پورے ہو رہے ہیں‘وہ پہلی بار ایک ایسی تحریک کی قیادت کر رہے ہیںجس کی مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی جیسی سیاسی جماعتیں بھی حمایت کرنے پر مجبور ہیںاور حزب اختلاف کی کوئی قابل ذکر سیاسی جماعت اس کی مخالف نہیں ہے۔ انہوں نے لانگ مارچ میں جوش وجذبے کا رنگ بھرنے کیلئے سندھ سے لانگ مارچ کا آغاز کیا‘ بلوچستان کے قافلے بھی سکھر اور ملتان میں ان کے ساتھ شامل ہوگئے ۔ پنجاب ان کے بھرپور استقبال کیلئے تیار تھا‘ جبکہ خیبرپختونخوا سے اسفند یار ولی خان کی عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں نے اس میں شرکت کی ہے۔سیاست میں کوئی فرد‘سیاسی جماعت یا گروہ بڑا نہیں ہوتا‘ بلکہ اس کی حکمت عملی اور ا س کا پروگرام ہی اس کی سیاست اور اس کے عوامی مفاد کے لائحہ عمل کو بڑا یا چھوٹا بناتی ہے۔احوال سیاست یہ ہے کہ عوام کے دکھوں کا ازالہ کیسے ہوگا ؟لانگ مارچ کے ثمرات تواشرافیہ سمیٹ لے گی‘ جبکہ تاجر برادری کی آرمی چیف اور حکومتی رہنماؤں سے ملاقات کے باوجود حالات جوں کے توں ہیں۔ اپوزیشن کی طر ف سے وزیراعظم کے استعفیٰ کے قبل ازوقت مطالبات کئے جا رہے ہیں‘ تاہم یہ مطالبات یقینی طور پر پونے دو کروڑووٹرزکے مینڈیٹ کے منافی ہیں‘ کیونکہ عمران خان الیکشن 2018ء میںووٹرز میں مقبول ترین رہے ہیں۔
آخر میں ایک اور قابل تشویش معاملے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے لیے صرف یہی کہنا مناسب ہو گا کہ وزیر اعظم آفس اور وزارت خارجہ میں متحرک ماڈل گرلز کے داخلے کی خبریں پریشان کن ہیں۔ریاست کے اعلیٰ ترین اور حساس ترین دفاتر میں ایسے افراد کا داخلہ بند کرنا بے حد اہم ہے۔حساس اداروں نے ان پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔ ملک میں نچلی سطح پر جو کرپشن کا بازار گرم ہونے کی خبریں عوام میں گردش کررہی ہیںاس کے بارے میں وزیراعظم اپنے میڈیا سیل سے حقائق جاننے کی کوشش کر یں۔اس کی ایک بڑی مثال ریڈیو پاکستان کی زمینوںکواونے پونے داموں لیز پر دیناہے۔وزیر اعظم آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے خصوصی آڈٹ کراکے حقائق جاننے کی کوشش کریں۔ریڈیو پاکستان کا فنانس ونگ بھی متنازع ہو چکا‘ ریڈیوپاکستان کو تباہی سے بچانا ریاست کا فرض ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں