سموگ نے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں اپنے پر پھیلا دئیے

بارشیں نہ ہونے کی صورت میں پانج نومبر کے بعد سموگ کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ سموگ کے باعث شہریوں کو بھی صحت کے مسائل کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق زہریلی گیسوں کا مجموعہ سموگ نے ایک بار پھر سر اٹھا لیا ہے۔ سموگ نے پہلی بار 2015ء میں سر اُٹھایا تھا لیکن تب اِس کی شدت بہت زیادہ نہیں تھی۔ 2017ء میں پہلی بار سموگ نے اپنی موجودگی کا شدت سے احساس دلایا۔ 2018ء میں بھی یہی صورت حال رہی۔

اب ایک بار پھر سموگ نے اپنے پر پھیلانا شروع کر دئیے ہیں۔ سموگ کی آمد کے ساتھ ہی آنکھوں میں جلن اور سانس لینے میں دقت جیسی شکایات پیدا ہونا شروع ہو گئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق انڈسٹری کا پھیلاؤ، گاڑیوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ اور فصلوں کی باقیات کو آگ لگانے سموگ کی وجوہات ہیں۔ انہیں عوامل کے ساتھ جب موسمیاتی تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں تو صورت حال مزید سنگین ہو جاتی ہے۔

بعض غیر ملکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے بعض علاقوں میں فضائی آلودگی کا تناسب 4 سو مائیکروگرام فی کیوبک میٹر تک پہنچ چکا ہے تو دوسری طرف متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ سوائے واہگہ ٹاؤن کے لاہور کے کسی علاقے میں آلودگی کا تناسب 190 مائیکروگرام فی کیوبک میٹر نہیں ہے۔

واہگہ ٹاؤن میں یہ تناسب 340 تک ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ صورت حال میں بہتری کے لیے مسلسل اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔ سموگ کی صورتحال کے پیش نظر طبی ماہرین کی طرف سے شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گھروں کے دروازے کھڑکیاں بند رکھیں اور ماسک کا استعمال کریں۔ سموگ کے عفریت پر قابو پانے کے لیے عوامی سطح پر بیداری شعور کے لیے خصوصی مہم چلانے کی بھی ضرورت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں