علامہ طاہر القادری سے مولانا فضل الرحمن تک

علامہ طاہر القادری سے مولانا فضل الرحمن تک
موجودہ حکومت نے 18 اگست کو پہلی سالگرہ انتہائی خاموشی اور سادگی سے منائی‘لیکن یہ سادگی بھی اپوزیشن کو ایک آنکھ نہ بھائی اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستانی سیاست پر ہیجانی کیفیت طاری ہو گئی ہے۔مولانا فضل الرحمن کو ابتدا میں کوئی سنجیدہ نہیں لے رہا تھا ‘لیکن وقت گزرتا گیا‘ مولانا کو پی پی پی اور شہباز شریف اینڈ کمپنی مناتے رہے‘ منع کرتے رہے‘ لیکن مولانا دھیرے دھیرے اپنے ہدف ‘دھرنے کی طرف بڑھتے رہے۔عارضی ضمانت پر رہائی کے دوران مولانا کی جاتی امرا میں نواز شریف سے ہونے والی ملاقات میں جو کچھ طے ہوا تھا‘ مولانا نے غالباً اس سمت اپنا سفر جاری رکھا۔انہوں نے شہباز شریف گروپ کی باتوں پر کان نہیں دھرا‘ بلکہ مولانا نے دو کشتیوں میں سوار شہباز شریف کو نواز شریف اور راولپنڈی دونوں کے سامنے بے نقاب کر دیااور ثابت کردیا کہ شہباز شریف کسی ایک فریق کے ساتھ ہاتھ کررہے ہیں اور بقول شیخ رشید کے ” شہباز شریف ‘ڈبل شاہ والا کردار ادا کررہے تھے‘‘۔معاملات اور صورت حال کم و بیش 1989ء سے مماثلت رکھتی ہے‘جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو ایک ہی سال گزرا تھا کہ آئی جے آئی محترمہ کی حکومت گرانے کیلئے میدان میں نکلے تھے اور نواز شریف اس تحریک کے روح رواں تھے۔بالآخر 18ماہ بعد محترمہ کو چلتا کیا۔اس وقت کے پاور پلیئرز آئی جے آئی کے ساتھ تھے۔دوسری مثال خود پی ٹی آئی اور علامہ طاہرالقادری کا وہ دھرنا ہے‘ جو مسلم لیگ نون کی حکومت کو اس کے قیام کے محض ایک سال بعد گرانے کیلئے دیا گیا‘لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا ‘کیونکہ پاور پلیئرز کسی ایک بات پر متفق نہ ہوسکے۔اور پی پی پی نے اپنا وزن نواز شریف کے پلڑے میں ڈال دیا۔یوں زرداری ترپ کا پتا ثابت ہوئے ‘لیکن زرداری نے مسلم لیگ نون کا ساتھ فی سبیل اللہ نہیں دیا تھا‘ بلکہ انہیں معلوم تھا کہ اگر نواز شریف کی مرکز اور شہباز شریف کی پنجاب میں حکومت گری تو سندھ میں ان کی حکومت کا خاتمہ بھی یقینی ہوگا۔سو‘ اس وقت کی تمام پارلیمانی پارٹیوں کے اتحاد نے علامہ طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنے کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔اس وقت بھی پی ٹی آئی ‘آج کی مسلم لیگ نون اور پی پی پی کی طرح منقسم سوچ رکھتی تھی کہ آیا انہیں مذہبی لیڈر علامہ طاہرالقادری کا ساتھ دینا چاہیے یا نہیں ؟اور گو مگوں کی کیفیت آخری دن یہاں تک کہ دھرنے کے دوران بھی برقرار رہی اور دونوں جماعتیں الگ الگ کنٹینرز میں خان صاحب اور علامہ طاہر القادری کو لیکر اسلام آباد پہنچیں۔ تقریریں الگ ‘قیام و طعام الگ‘ لیکن ایجنڈا ایک اور ہدف ایک۔وقت نے ثابت کیا کہ خان صاحب اور علامہ طاہر القادری یک جان دو قالب تھے اور خلوت کے میل ملاپ منظر عام پر آئے بنا نہ رہ سکے۔ تمام اختلافات کے باوجود پی ٹی آئی نے بالآخر علامہ طاہر القادری کا ساتھ دیا‘ لیکن نتیجہ لاحاصل رہا۔
علامہ طاہر القادری اور خان صاحب کے دھرنے کے موقع پر محمود خان اچکزئی‘ مولانا فضل الرحمن‘ اے این پی‘ بلوچستان کے قوم پرست رہنماؤں‘ مسلم لیگ نون اور پی پی پی کے رہنماؤں کی تقریروں کا متن‘ ماسوائے چوہدری اعتزاز احسن کی تقریر کے‘ وہی تھا جو اس وقت پاکستان تحریک انصاف کے وزرا کا ہے‘تاہم حیران کن طور پر تاحال‘ حکمران اتحاد میں شامل ایم کیو ایم ‘مسلم لیگ ق‘ جی ڈی اے اور دیگر جماعتوں کے وفاقی اور صوبائی وزرا اور ارکان پارلیمان ‘ حکومت کے حق اور دھرنے والوں کے خلاف میدان میں نہیں اترے۔
موجودہ حکومت خارجہ پالیسی کے میدان میں انتہائی نمایاں جارہی ہے۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب اور اس دوران عالمی رہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں میں وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کا موقف‘ جس جاندار انداز میں پیش کیا ‘ریاست کے تمام سٹیک ہولڈرز اس کے معترف ہیں۔معاشی اشاریے صحیح سمت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امپورٹ بل اور بجٹ خسارہ کم ہوچکا ہے۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ٹھہراؤ آچکا ہے‘ جبکہ مزید بہتری کی توقع ہے‘لیکن جو بات سب کے سامنے تشویش کے طور پر پیش کی جارہی ہے‘ وہ ملک کی بگڑتی ہوئی معیشت ہی ہے۔اور کہا جا رہا ہے کہ ملک کی باگ ڈور ایک ماہر معیشت یا سیاستدان کم ٹیکنو کریٹ کے پاس ہوجائے تو فیصلے کرنے میں مزید آسانی ہوگی۔ اس سوچ کا پیچھا کریں تو توجہ 2003ء کے ماڈل کی طرف جاتی ہے‘ جو بڑی کامیابی کے ساتھ ملک کومستحکم معیشت کی طرف لے گیا تھا۔2002ء میں عام انتخابات ہوئے پہلے پی پی پی کے مخدوم امین فہیم کو وزیراعظم بنانے کے فارمولے کو شروع کیا گیا‘ پھر پاور پلیئرز کا ارادہ بدلا اور میر ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ معاملات ٹھیک جارہے تھے کہ جمالی صاحب کو بطور وزیراعظم امریکہ جانے کا خیال آیا ‘واپس لوٹے تو ڈومیسٹک گراؤنڈ ان کیلئے ساز گار نہیں تھا۔انہیں محض ایک سال بعد ہی استعفیٰ دینا پڑا تھا۔ہمایوں اختر نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدریوں سے بالا بالا لابنگ کی اور وزیراعظم بننے کیلئے راہ ہموار کرنے کے قریب پہنچ گئے‘ لیکن پھر اچانک معیشت کو بہتر‘ بلکہ مضبوط کرنے کا بیانیہ سامنے آیا اور اس وقت کے ماہر معیشت ٹیکنو کریٹ سینٹر وزیر خزانہ شوکت عزیز کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور عبوری مدت کیلئے پارٹی سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو وزیراعظم بنایا گیا۔شوکت عزیز اٹک سے الیکشن لڑتے ہیں ‘خود کش دھماکہ ہوتا ہے‘ وہ بال بال بچتے ہیں‘ اسلام آباد پہنچتے ہیں‘ تو ان کی اہلیہ سامان پیک کرکے تیار بیٹھی ہیں اور فوراً پاکستان چھوڑنے کیلئے مجبور کرتی ہیں‘ لیکن شوکت عزیز کو ایسا نہیں کرنے دیا جاتا۔اور بطور وزیراعظم وہ اپنا ٹینور مکمل کرتے ہیں۔
آج کل بھی کم و بیش ویسے ہی حالات ہیں۔معیشت کی بہتری کا بیانیہ زبان زد عام بھی ہے اور ملکی ضرورت بھی۔وزیراعظم نے امریکہ کا دورہ بھی کیا ہے۔ایک ہمایوں اختر آج بھی لابنگ کررہے ہیں۔مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی موجود ہیں ‘جنہوں نے جولائی میں امریکہ میں ایک محفل میں اپنے اپ گریڈ ہونے کا تذکرہ بھی کیا‘لیکن وہ بھی شوکت عزیز کی طرح رکن قومی اسمبلی نہیں‘تاہم رکن قومی اسمبلی کے روپ میں محمد میاں سومرو موجود ہیں۔یہ ماڈل موجودہ صورت حال پر اس لیے صادق نہیں آتا کہ وزیراعظم عمران خان ‘ظفراللہ جمالی کی طرح غیر پاپولر اوربے ضرر لیڈر نہیں ہیں‘ بلکہ وہ اپنی جماعت اور عوام کے مقبول رہنما بھی ہیں۔اور پاکستان کو ایک ماڈل ریاست بنانے کا اپنا ویژن بھی رکھتے ہیں‘پھرایسی صورت حال سے نکلنے کیلئے ایک اور ماڈل بھی موجود ہے‘ جو بڑی کامیابی سے عمل پذیر ہوچکا ہے اور پارلیمنٹ نے بھی کامیابی سے پانچ سال پورے کیے تھے۔ 2008 ء میں پی پی پی کی حکومت بنی۔پارٹی سربراہ آصف علی زرداری تھے‘ لیکن انہوں نے انتخابات نہیں لڑا تھا اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بنایا گیا‘پھر زرداری نے کچھ عرصے بعد صدرپرویز مشرف کو گھر بھیج کر خود ایوان صدر سنبھالا اور بطور پارٹی سربراہ ایک مضبوط صدر مملکت کے طور پرامورمملکت چلائے اور اپنا ایجنڈا پورا کیا ‘گو کہ ان کا ایجنڈا حصول دولت تھا‘ورنہ اگر وہ عوامی فلاح کا ایجنڈا رکھتے تویقیناآج وہ جیل میں نہ ہوتے۔
یہ تو تھے ‘سیاسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے چند ماڈل۔ویسے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہر طرح کا ماڈل موجود ہے۔جو موزوں ہو ‘وہ دوبارہ بھی آزمایا جا سکتا ہے۔اب‘مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کے حتمی اعلان کے بعد اے این پی محمود خان اچکزئی بھی میدان میں آچکے ہیں۔اور مسلم لیگ نون کے ساتھ ساتھ بلاول بھٹو بھی مولانا کے
ارد گرد منڈلاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔اڈیالہ جیل میں اپنے والد صدر زرداری سے ملاقات کے بعد بلاول نے مولانا کی کامیابی کیلئے دعا بھی کی ہے اور اپنی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا‘پھر صدر زرداری کا یہ کہنا کہ نومبر کے آخری ہفتے تک انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانا ہوں گے‘ بڑا معنی خیز ہے۔مولانا پارلیمنٹ کے باہر میدان لگائیں گے اور معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک لے جانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ واضح رہے کہ سکیورٹی فورسز گولی نہیں چلائے گی اور نہ ہی چلانی چاہیے‘ بالکل سال 2014ء کی طرح۔سیاسی کھلاڑیوں کو آپس میں ہی پنجہ آزمائی کرنے دے جائے تو بہتر ہوگا۔پارلیمنٹ کے اندر پی پی پی اور مسلم لیگ نون میدان سجائے گی۔بی این پی مینگل‘ ایم کیو ایم‘ مسلم لیگ ق میں سے کوئی ایک جماعت بھی ازخود یا کسی مصلحت پر پھسل جاتی ہے‘ تو نتیجہ صاف ظاہر ہے‘لیکن شاید نوبت یہاں تک نہ پہنچ پائے‘کیونکہ اپوزیشن عددی اکثریت رکھنے کے باوجود مل کر بھی چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانے میں ناکام رہی تھی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ تاجروں اورصنعتکاروں سے تفصیلی نشست میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ حکومت پانچ سال پورے کرے گی۔اس لیے ملکی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے مثبت کردارادا کریں۔
تنازع کشمیر بھی خطے کی بدلتی صورتحال بھی کسی بڑی تبدیلی کی نفی کررہا ہے۔ آرمی چیف کا چین کے دورے پر ساتھ جانا بھی موجودہ سیٹ اپ کے جاری رہنے کی طرف اشارہ ہے۔اور ایک آئینی پیکیج پر بھی خاموشی سے کام جاری ہے‘ جو آئندہ انتخابات سے پہلے یہی اسمبلی منظور کرے گی۔معاملہ الجھا ہوا صرف اس لیے نظر آتا ہے کہ مرئی اور غیر مرئی سمیت مولانا‘ مسلم لیگ نون اور پی پی پی دودھ کے اس قدرجلے ہوئے ہیں کہ چھاچھ کو بہت پھونک پھونک کر پینا چاہتے ہیں۔ورنہ تو سب ایک ہی چھتری تلے پلے بڑھے ہیں۔کیا اپوزیشن صورتحال کو اس نہج پر لے جائے گی کہ وزیر اعظم عمران خان ‘ایوان ِصدر جانے کیلئے تیار ہو جائیں ؟ کیونکہ دھرنا ہونے سے پہلے نہ روکا گیا تو پھر یہ کسی ایک کی قربانی ضرور لے گا۔اور وہ ایک کون ہوسکتا ہے اس کا انحصار اپوزیشن کی سجائی سیاسی شطرنج کی بساط پر ہوگا ‘کیونکہ سیاست میں کبھی کبھی دو اور دو پانچ بھی ہوتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں