خلیوں میں آکسیجن کا احساس دریافت کرنے پر میڈیسن کا نوبل انعام

: اس سال طب/ فعلیات یعنی میڈیسن/ فزیالوجی کا نوبل انعام تین سائنسدانوں کو مشترکہ طور پر دیا جارہا ہے جنہوں نے یہ دریافت کیا کہ خلیے کس طرح آکسیجن کو محسوس کرتے ہیں اور خود کو آکسیجن کی دستیابی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔

ان سائنسدانوں میں امریکا کے ولیم جی کیلن جونیئر اور گریگ سیمینزا کے علاوہ برطانیہ کے سر پیٹر جے ریٹکلف شامل ہیں۔

اس سال ہر کٹیگری میں نوبل انعام کی رقم 80 لاکھ سویڈش کرونا رکھی گئی ہے جو تقریباً 17 کروڑ پاکستانی روپوں کے مساوی بنتی ہے۔

اس دنیا میں تمام جانداروں کو آکسیجن کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہمیں آکسیجن نہ ملے تو صرف چند منٹوں میں ہماری زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔ لیکن آکسیجن کی اس ضرورت کو صرف ہم ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ہمارے اور دوسرے جانوروں کے خلیے بھی آکسیجن کی کمی یا زیادتی کو محسوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جسے دیکھتے ہوئے وہ اپنے اندر تبدیلیاں لے آتے ہیں تاکہ اپنے بقاء کے امکانات کو بہتر بناسکیں۔

مثلاً جب ماحول میں آکسیجن کم ہو تو خلیے اس کیفیت کو محسوس کرتے ہوئے کچھ ایسے جین سرگرم کردیتے ہیں جو دستیاب آکسیجن کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب فضا میں آکسیجن کی مقدار زیادہ ہو تو ایسے جین کا سرگرم ہونا ضروری نہیں ہوتا اس لیے آکسیجن زیادہ ہونے کی صورت میں بھی خلیہ اسے محسوس کرلیتا ہے اور زائد کارکردگی والے جین ’’آف‘‘ کرکے معمول کی حالت میں واپس آجاتا ہے۔

ان دریافتوں کے نتیجے میں خون کی کمی، کینسر اور دوسری کئی بیماریوں کے خلاف نئی اور مؤثر حکمتِ عملی وضع کرنے میں خاطر خواہ مدد ملی ہے۔

ان ہی گراں قدر تحقیقات اور دریافتوں کے اعتراف میں ان تینوں ماہرین کو اس سال کا نوبل انعام برائے فعلیات/ طب دیا جارہا ہے۔

ولیم جی کیلن جونیئر کا تعلق امریکا سے ہے اور وہ ہاورڈ یونیورسٹی سے وابستہ ہیں۔ گریگ ایل سیمینزا بھی امریکا سے ہیں جبکہ وہ جان ہاپکنز یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کے سب سے تجربہ کار ماہرین میں شمار کیے جاتے ہیں۔

سر پیٹر جے ریٹکلف کا تعلق برطانیہ سے ہے اور وہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے فرانسس کرک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ہیں۔ نوبل انعام ملنے سے پہلے ہی وہ ’’فیلو آف رائل سوسائٹی‘‘ جیسے اہم عالمی اعزاز کے حامل ہیں۔

طب/ فعلیات کے نوبل انعامات: دلچسپ معلومات
1901 سے 2018 تک اس شعبے میں 109 نوبل انعامات دیئے جاچکے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران نو سال ایسے تھے جن میں کوئی نوبل انعام نہیں دیا گیا: 1915 سے 1918 تک، 1921، 1925، اور 1940 سے لے کر 1942 تک۔
ان 118 سال میں کُل 216 افراد کو نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا جاچکا ہے۔
ان 216 نوبل انعام یافتگان برائے طب/ فعلیات میں صرف 12 خواتین شامل ہیں۔
ان میں سے 39 نوبل انعامات برائے طب/ فعلیات ایک ایک سائنسدان کو (بلا شرکتِ غیرے)؛ 33 انعامات دو دو ماہرین کو مشترکہ طور پر؛ جبکہ اس زمرے کے 37 نوبل انعامات میں تین تین تحقیق کاروں کو حقدار قرار دیا گیا۔
باربرا مکلنٹاک وہ واحد خاتون تھیں جنہیں متحرک جینیاتی اجزاء کی دریافت پر بلا شرکتِ غیرے 1983 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔
نوبل اسمبلی نے اصولی طور پر طے کیا ہوا ہے کہ کسی بھی نوبل انعام میں تین سے زیادہ افراد کو شریک قرار نہیں دیا جائے گا۔
2018 تک طب/ فعلیات کا نوبل انعام حاصل کرنے والوں کی اوسط عمر تقریباً 60 سال رہی ہے۔
اس کٹیگری میں سب سے کم عمر نوبل انعام یافتہ سائنسدان فریڈرک گرانٹ بینٹنگ تھے جنہیں صرف 32 سال کی عمر میں 1923 کا نوبل انعام برائے طب/ فعلیات دیا گیا۔ انسولین کی دریافت پر انہیں اور جان جیمس رکارڈ میکلیوڈ کو مشترکہ طور پر نوبل انعام کا حقدار قرار دیا گیا۔
اسی شعبے کے معمر ترین نوبل انعام یافتہ ماہر پیٹن روس تھے جنہیں 87 سال کی عمر میں 1966 کے نوبل انعام برائے طب/ فعلیات کا نصف حصہ دیا گیا۔ انہوں نے رسولیاں پیدا کرنے والے وائرسوں پر تحقیق کی تھی۔ نوبل انعام کی رقم کا باقی نصف حصہ چارلس برینٹن ہگنز کو دیا گیا کیونکہ انہوں نے ہارمونز کے ذریعے پروسٹیٹ کینسر کے علاج پر اہم کام کیا تھا۔
نوبل انعام صرف زندہ افراد کو دیا جاتا ہے یعنی اس کےلیے کسی ایسے شخص کو نامزد نہیں کیا جاسکتا جو مرچکا ہو۔
1974 میں نوبل فاؤنڈیشن کے آئین میں تبدیلی کے ذریعے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ سے کسی بھی شخص کو بعد از مرگ (مرنے کے بعد) نوبل انعام نہیں دیا جائے گا؛ لیکن اگر نوبل انعام کا اعلان ہونے کے بعد متعلقہ انعام یافتہ فرد کا انتقال ہوجائے تو وہ نوبل انعام اسی کے نام رہے گا۔ 1974 سے پہلے صرف 2 افراد کو بعد از مرگ نوبل انعام دیا گیا تھا لیکن اس سال کے بعد سے اب تک کسی کو مرنے کے بعد نوبل انعام نہیں دیا گیا ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں