ماں باپ کی اولاد سے جھوٹ بولنے کی عادت بچے کو ناکام بناسکتی ہے، تحقیق

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے کامیاب انسان بنیں اور بڑے ہو کر عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل اور بدلتے ہوئے حالات کا سامنا کرنے کے قابل ہوں، تو شخصیت سازی کی دوسری تدابیر اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ ان سے جھوٹ بھی نہ بولیے۔

’’سوجاؤ ورنہ ’بھاؤ‘ آکر تمہیں کھا جائے گا،‘‘ یہ اور اس طرح کے نہ جانے کتنے ہی جھوٹے جملے نہ صرف ہمارے یہاں بلکہ دنیا بھر میں چھوٹے بچوں کو ڈرا کر خاموش کروانے یا اپنی مرضی کے مطابق کام کروانے میں بکثرت استعمال کیے جاتے ہیں۔

اب سنگاپور کے ماہرینِ نفسیات نے دریافت کیا ہے کہ اپنے والدین سے بار بار جھوٹ سننے والے بچوں کی شخصیت پر انتہائی منفی اثرات پڑتے ہیں جو بعد کی عمر میں ان بچوں میں مشکل حالات سے فرار کی سوچ کو جنم دیتے ہیں، جبکہ وہ اپنی زندگی میں مشکلات سے نبرد آزما ہونے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کرنے میں بھی شدید دشواری کا سامنا کرتے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ وہ بڑے ہو کر اپنے والدین سے بھی بات بات پر جھوٹ بولنے کے عادی ہوجاتے ہیں۔

یہ مطالعہ سنگاپور کی نانیانگ ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں کیا گیا، جس میں 379 مقامی نوجوانوں سے آن لائن سوالنامے بھروائے گئے۔ ہر سوالنامہ تین حصوں پر مشتمل تھا: پہلے حصے میں سوالات کا تعلق اس بات سے تھا کہ جب وہ بچے تھے تو ان کے والدین نے ان سے جھوٹ بولا یا نہیں، اور اگر بولا تو کتنا کم یا کتنا زیادہ؛ دوسرے حصے میں یہ جانچا گیا کہ بالغ ہوجانے کے بعد انہوں نے اپنے والدین سے جھوٹ بولا یا نہیں؛ جبکہ تیسرے حصے میں یہ معلوم کیا گیا آج یعنی بڑی عمر میں درپیش چیلنجوں کا سامنا وہ کس طرح کرتے ہیں۔

وہ نوجوان جن کے والدین ان کے بچپن میں ان سے جھوٹ بولا کرتے تھے، جب وہ بڑے ہوئے تو انہوں نے بھی اپنے والدین سے بات بات پر جھوٹ بولنا شروع کردیا۔

لیکن، زیادہ تشویشناک بات یہ سامنے آئی کہ بچپن میں والدین سے جھوٹ سننے والے نوجوانوں کو اپنی عملی، پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں بھی ایسے کئی مسائل کا سامنا تھا جو سچ بولنے والے ماں باپ کے بچوں کو درپیش نہیں تھے۔

مثلاً یہ کہ ان کے مزاج میں خود غرضی، موقع پرستی، بے اعتدالی اور بے ڈھنگے پن کے علاوہ احساسِ جرم یا احساسِ ندامت کا بھی فقدان دیکھا گیا۔ بہ الفاظِ دیگر، انہیں اپنی ناکامیوں پر شکایت ضرور تھی لیکن وہ انہیں اپنی غلطیوں کا احساس نہیں تھا۔

اگرچہ یہ تحقیق ’’جرنل آف چائلڈ سائیکولوجی‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہے لیکن ہمیں ایک نئے انداز سے ایک بار پھر معاشرے میں سچائی کی اہمیت یاد دلاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں