کچھ ہماری بھی سُن لی جائے

کچھ ہماری بھی سُن لی جائے
کشمیر کو آزاد کرانے کا فارمولا ہمارے پاس نہیں۔ قوم کو ترقی کی بلندیوں پہ لے جانے کا بھی نسخہ کوئی نہیں۔ بس اتنا پتہ ہے کہ ہماری رہی سہی زندگی میں حالات ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ بیل گاڑی کی رفتار یہی رہے گی۔ اسی لیے زیادہ اونچی نصیحتوں کا کچھ فائدہ نہیں۔ پھر بھی ترلے کچھ ہمارے ہیں لیکن محدود نوعیت کے۔
ایک یہ کہ کوئی معجزہ رونما ہو اور اس ملک میں بے جا درخت نہ کاٹے جائیں۔ بحیثیت قوم درختوں سے ہمیں خاص بیر ہے۔ درخت کھڑا ہو تو جی کو تسکین نہیں آتی جب تک اُسے کاٹا نہ جائے۔ اب تو مشینی آرے ایسے آ گئے ہیں جو منٹوں میں بڑے سے بڑے درخت کو زمین بوس کر دیں۔ درختوں کے ضمن میں یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف کے جس عمل کے بارے میں صحیح سوال جواب کیا جائے گا‘ وہ موٹر وے کے گرد اُس موذی درخت کا لگانا ہے جس کا نام یوکلپٹس ہے۔ اسلام آباد سے لاہور موٹر وے کے دونوں اطراف اتنی فردوس نما اراضی کو یوکلپٹس درخت کے ہاتھوں برباد کر دیا گیا ہے۔ کتنے عمدہ درخت یہاں لگائے جا سکتے تھے لیکن جہاں سوچ ہی محدود ہو وہاں کیا کیا جائے۔ لیکن میاں صاحب کا شوقِ یوکلپٹس اتنا عجیب نہیں کیونکہ جاتی امرا میں بھی یہی موذی درخت لگایا گیا ہے۔ انہیں بتانے یا سمجھانے والا کوئی نہ تھا؟ اوپر سے کسی نے چوہدری شوگر مل یا لندن کے فلیٹوں کے بارے میں کیا پوچھنا ہے۔ لیکن موٹر وے کے گرد یوکلپٹس کے بارے میں ضرور پوچھا جائے گا۔
دوسرا ترلا ہمارا ہمیشہ پلاسٹک کے شاپرز کی لعنت کے بارے میں رہا ہے۔ یہ شیطان کی ایجاد لعنت سے کم نہیں۔ پلاسٹک شاپروں پہ پابندی اب اسلام آباد میں لگائی گئی ہے جو بڑا احسن فیصلہ ہے۔ لیکن جس طریقے سے یہ فیصلہ کیا جا رہا ہے امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے پندرہ سالوں میں پورے ملک میں یہ پابندی لگ جائے گی۔ حکمرانوں اور بابوؤں کا پتہ نہیں پرابلم کیا ہے۔ ریاستِ مدینہ کی باتیں کرنے والی حکومت کا ایک سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ قوتِ فیصلہ ہوتا تو شاپروں پہ پابندی پہلے ہفتے لگ چکی ہوتی اور صرف اسلام آباد میں نہیں پورے ملک میں۔ یہ فضول کی باتیں ہیں کہ اتنے لوگ اس انڈسٹری سے منسلک ہیں، اتنے بے روزگار ہو جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ پلاسٹک کے شاپروں نے تباہی پھیلائی ہے۔ جہاں دیکھو ہر کونہ ان شاپروں سے بھرا پڑا ہے۔ کچرا ہم اُٹھا نہیں سکتے۔ اگر یہ بات طے ہے تو کچرا ہم پیدا کیوں کرتے ہیں؟ ملک میں سب سے بڑا کچرے کا سبب یہ لعنت ہے۔ اِسے ختم کریں تو سارے ملک میں صفائی کا آدھا مسئلہ ختم ہو جائے۔ پھر کسی چینی یا ترکی کمپنی کی ضرورت نہ رہے گی کچرا اُٹھانے کے لیے۔ لیکن عجیب ترجیحات ہیں۔ راکٹوں اور میزائلوں سے کم بات ہم کرتے نہیں لیکن چھوٹے چھوٹے مسائل ہماری دسترس سے باہر ہیں۔ لہٰذا ایک بار پھر ترلا ہے، اِسے ختم کریں۔ چاروں چیف منسٹروں اور آزاد کشمیر کے وزیر اعظم کو کہیں کہ فوری طور پہ اِس لعنت پہ پابندی لگائیں۔
تیسرے ترلے کے بارے میں تھوڑی احتیاط لازم ہے کیونکہ یہاں پہ احساسات ویسے ہی اُبھرے رہتے ہیں۔ لیکن بہت وقت گزر چکا ہے۔ ضرورت اب اس امر کی ہے کہ آٹھویں ترمیم پہ نظرثانی کی جائے۔ اس ترمیم کی وجہ سے جنرل ضیاء الحق کے بہت سے قوانین کو آئینی تحفظ حاصل ہوا۔ ان میں حدود آرڈیننس بھی ہے۔ اس بحث کو جانے دیجیے کہ ان قوانین کا مقصد کیا تھا۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی سے پہلے ضیاء الحق دور میں ملک کی اقتصادی حالت اچھی نہ تھی اور ہمارے سعودی مہربانوں کو خوش کرنے کے لیے یہ آرڈیننس مرتب کیا گیا۔ اس آرڈیننس کے تحت کوئی نئی پابندیاں نہ لگائی گئیں لیکن کچھ اعمال پہ جو پہلے سے پابندیاں عائد تھیں ان کو مزید سخت کر دیا گیا۔ سعودی مہربان متاثر ہوئے یا نہ ہوئے ملک کی فضا میں زیادہ گھٹن پیدا ہو گئی۔ قانون پہلے سے موجود تھا۔ اُسے رہنے دیتے لیکن جنرل ضیاء الحق اپنی اسلامائزیشن پالیسی پہ گامزن تھے اور اس ضمن میں سطحی قسم کے قانون پاس کرنے میں مشغول رہے۔ معاشرہ واقعی اسلامی بنتا تو اور بات تھی۔ اس پہ کسی گنہگار کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ صرف گھٹن بڑھی اور پولیس کے ہاتھوں میں ایک اور ہتھیار آ گیا جس سے پارسائی کو تو فائدہ نہ پہنچا رشوت کے نرخ اوپر ہو گئے۔ پرانی پابندیوں کے تحت بھی لا چار افراد پولیس کے ہتھے چڑھتے تھے۔ لیکن قانون چونکہ اتنا سخت نہ تھا‘ تو لین دین کی نوعیت معمولی ہوتی۔ سزا سخت ہوئی تو لین دین کی نوعیت بھی سخت ہو گئی۔
ایک ملک گیر کانفرنس علماء و مشائخ کی منعقد ہونی چاہیے۔ ان تمام قابلِ احترام شخصیات سے پوچھا جائے کہ آٹھویں ترمیم کے سماجی نوعیت کے قوانین سے قوم و ملت کو کون سا فائدہ پہنچا۔ کیا ملک میں نیکی بڑھ گئی اور گناہ گاری میں کمی آئی؟ ہم کمزور ایمان والوں کو تو صرف اتنا پتہ ہے کہ دو چیزوں میں بہرحال اضافہ ہوا: منافقت اور دو نمبری میں۔
مملکتِ خداداد میں جو کچھ پہلے ہوتا تھا وہ اب بھی ہوتا ہے۔ پہلے یعنی پرانے ادوار میں، پردے کا اہتمام اتنا ضروری نہ سمجھا جاتا۔ جو کچھ ہوتا سامنے ہوتا۔ اب پردے اور چلمن کا استعمال زیادہ ہو گیا ہے۔ اس سے ہم جیسے غریب مارے گئے کیونکہ مناسب پردے اور راز داری کے اہتمام کے لیے کچھ تو خرچہ کرنا پڑتا ہے۔ ہر ایک کی دسترس میں ایسا اہتمام نہیں ہوتا۔ یعنی جہاں ہوٹل کی ضرورت پڑ جائے تو ظاہر ہے یہ فالتو خرچہ ہو گیا۔ ہر ایک ایسا افورڈ نہیں کر سکتا‘ لیکن چونکہ ایسی احتیاط لازم ہو چکی ہے تو معاشرے کی اونچ نیچ جو پہلے ہی بہت زیادہ تھی مزید گہری ہو گئی ہے۔ کہنے کا سادہ مطلب یہ کہ مخصوص قوانین کی وجہ سے ہر کارروائی کا خرچہ بڑھ چکا ہے۔ تاجر برادری اور سرمایہ دار تو ٹیکسوں کا رو رہے ہیں کہ فلاں چیز پہ ٹیکس لگ گیا، ایف بی آر زیادہ سختی کر رہی ہے وغیرہ وغیرہ لیکن کمزور ایمان والے اور گنہگار اپنا رونا کس کے سامنے روئیں؟
مضبوط اعتقاد والے بھی مانیں گے کہ معاشرے میں گھٹن بڑھ چکی ہے۔ چھوٹی چھوٹی آزادیاں جو دنیا کے باقی ملکوں میں نارمل سمجھی جاتی ہیں یہاں موجود نہیں۔ کچھ سختیاں تو معروضی ہیں۔ اقتصادی حالت خراب ہے۔ مہنگائی زوروں پہ ہے، نوکریاں محدود ہیں۔ اوپر سے سماجی گھٹن۔ چلیں ختم نہ کریں، اس میں کمی تو لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی بڑے انقلاب کی ضرورت نہیں۔ صرف قانون میں تھوڑی سی ترمیم کر دی جائے اور مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ علماء و مشائخ سے ہی مشورہ کر لیں کہ جناب ایسا قانون تو ایک مخصوص ماحول کی پیداوار تھا وہ ماحول رہا نہیں، وہ مجبوریاں اب کے حکمرانوں کی نہیں ہیں۔ اس میں ترمیم لانے کی ضرورت ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ پیر صاحب گولڑہ شریف جیسے روشن خیال عالم ہوں گے تو وہ اسی بات کے حق میں اپنا پلڑا ڈالیں گے کہ ایسی پابندیوں کا وقت گزر چکا ہے۔ پیر گولڑہ شریف تو موسیقی کے بھی دلدادہ ہیں۔ وہ تو شاید موسیقی کے بارے میں بھی کوئی نصیحت آموز بات کریں۔ اور بھی بہت عالم ہیں جو یہ کہنے پہ مجبور ہوں گے کہ ملک میں دو نمبری کو کم کرنے کے لیے موجودہ قوانین میں تبدیلی لانا ضروری ہے۔
عجیب ملک ہم نے بنا دیا ہے۔ کسی دوسرے شہر جانا پڑے تو چھوٹی سی چیز کے حصول کے لیے ایسے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں، ایسے فضول لوگوں کی منت سماجت کرنا پڑتی ہے کہ خدا کی پناہ۔ اور ہم چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کی بلندیوں کو چھوئے۔ دقیانوسی سوچ سے تو کوئی بلندی حاصل نہیں ہو سکتی۔ استدعا یہ نہیں کہ نیا پاکستان بنائیں۔ ہرگز نہیں۔ کسی نئے پاکستان کی آرزو سے ہم باز آئے۔ صرف پرانے پاکستان کو واپس لے آئیے۔ وہ پاکستان جو قائد اعظم کی زندگی میں موجود تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں