سرکاری ملازم کا گھر سونے کا خزانہ، لیاقت قائمخانی کی تجوری سے جواہرات برآمد

اسلام آباد: ) نیب راولپنڈی نے سابق ڈی جی پارکس کراچی لیاقت قائم خانی سے بند تجوری کھلوائی تو سونے کے سکے، جواہرات اور غیر ملکی کرنسی نکل آئی۔
جعلی اکاونٹس کیس گرفتار لیاقت قائم خانی نے خود اپنی ایک تجوری کھولی اور سونے کے زیورات کے پانچ سیٹ، سونے کے سکے اور کرنسی نکال کر نیب راولپنڈی کے حوالے کی۔

نیب کے مطابق ایک تجوری کھلنا ابھی باقی ہے۔ سابق ڈی جی پارکس کو آج رات اسلام آباد لایا جائے گا اور ہفتے کو احتساب عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ نیب کے ہاتھوں گرفتار میئر کراچی کے مشیر اور سابق ڈی جی پارکس لیاقت علی خان عرف قائم خانی کرپشن اور اپنے خلاف ہونے والی انکوائریوں پر اثر انداز ہونے کی طویل تاریخ رکھتے ہیں۔

مٹی، پانی، کھاد اور پودوں سے اربوں روپے بنانے والا لیاقت علی خان کرپشن اور بدعنوانیوں کا ایک مسلسل باب ہے۔ یہ شخص 80ء کی دہائی میں اس وقت کے وزیراعظم محمد خان جونیجو کی سفارش پر بھرتی ہوا۔

کراچی کی غریب بستی گٹر باغیچہ کا رہائشی، پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے پوش علاقے میں 2000 گز کے محل نما بنگلے کا مکین ہو گیا۔ کھاد مٹی میں مل گئی، پانی زمین پی گئی، پودے جل کر سوکھ گئے اور پیسہ بلوں میں پاس ہو گیا۔ یہ فارمولا تھا لیاقت علی کی کرپشن کا۔

نیب نے تحقیقات شروع تو کیں جو 2003ء میں خاموشی سے بند ہو گئیں۔ لیاقت علی سے کمائے جانے والے 3 کروڑ سے زائد کے کالے دھن کے سوال جواب ہونا تھے۔ اینٹی کرپشن اسٹیبلیشمنٹ نے تحقیقات شروع کیں۔

اس بار بے نظیر بھٹو پارک میں غیر قانونی ٹھیکوں، کھاد، مٹی اور پانی کے بلوں میں ہیرا پھیریوں کا حساب لیاقت علی سے لیا جانا تھا، مگر 2013ء میں
یہ تحقیقات بھی بند ہوگئیں۔

لیاقت علی نے پہلے دھاگے کے کارخانے بنائے پھر کھپرو میں 30 دکانوں پر مشتمل مارکیٹ اور پھر کرپشن کا یہ ان داتا اربوں روپے کی جائیداد کا مالک بن گیا۔

کالے کرتوتوں کے باوجود مئیر کراچی کا اسے اپنا مشیر بنانا خود وسیم اختر کی شفاف ایڈمنسٹریشن کے دعوے کا پول کھول رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں