مودی سرکار نے چاند پر غریب بھارتیوں کے 2,000 کروڑ روپے غرق کردیئے

خلائی تحقیق کے بھارتی ادارے ’’اِسرو‘‘ (ISRO) کی جانب سے چاند کے مخالف حصے کی طرف بھیجے گئے مشن ’’چندریان 2‘‘ کا زمینی اسٹیشن سے رابطہ منقطہ ہوگیا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ یہ مشن ناکام ہوچکا ہے۔ اس مشن پر 978 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئی جو 2130 پاکستانی روپیوں کے برابر بنتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق، چندریان 2 مشن اپنے پورے سفر میں ٹھیک کام کرتا رہا لیکن جب اس کی چاند گاڑی (مون لینڈر) ’’وکرم‘‘ نے چاند کی سطح پر اترنا شروع کیا تو صرف 2100 میٹر کی اونچائی رہ جانے پر اچانک ہی اس کا رابطہ زمینی مرکز سے منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد سے اب تک چندریان 2 کا رابطہ منقطع ہے۔ اس بارے میں اندازہ یہی ہے کہ چندریان 2 مشن ناکام ہوچکا ہے۔

اِسرو کے زمینی مرکز میں موجود نریندر مودی سے یہ ناکامی برداشت نہ ہوئی اور وہ کسی سے بات کیے بغیر فوراً ہی وہاں سے چلے آئے۔ ذرا ذرا سی بات پر ٹویٹ کرنے والے مودی جی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ اس سانحے کے بعد سے اب تک بالکل خاموش ہے۔
واضح رہے کہ زمین کے گرد چاند اس انداز سے گردش کرتا ہے کہ ہمیشہ اس کا صرف ایک رُخ ہماری طرف رہتا ہے جبکہ دوسرا رُخ ہماری نظروں سے اوجھل رہتا ہے۔ اس کیفیت کو سائنسی اصطلاح میں ’’ٹائیڈل لاک‘‘ کہا جاتا ہے۔

چندریان 2 مشن کا مقصد، چاند کے اس حصے پر اُتر کر وہاں کا جائزہ لینا تھا جو زمین سے مخالف سمت میں ہے اور ہمیں دکھائی نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خلائی مشن کی ناکامی کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہوگا۔

22 جولائی 2019 کو روانہ ہونے والا ’’چندریان 2‘‘ اسپیس مشن 20 اگست 2019 کو چاند کے گرد اپنے مقرر کردہ مدار میں داخل ہوا۔ بھارتی وقت کے مطابق اس کے مون لینڈر ’’وکرم‘‘ کو رات ڈیڑھ بجے سے ڈھائی بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر اُترنا تھا۔

بتاتے چلیں کہ چندریان 2 سے پہلے چاند کی طرف بھیجے گئے درجنوں مشن ناکام ہوچکے ہیں جن میں سے 16 ایسے تھے جو اپنے آخری مراحل پر ناکامی کا شکار ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں