گوشت نہیں کھائیں گے تو… کند ذہن ہوجائیں گے!

آئے دن ہم یہ سنتے رہتے ہیں کہ گوشت نہیں کھانا چاہیے اور صرف سبزیوں، دالوں اور پھلوں پر ہی گزارا کرنا چاہیے۔ یہ سوچ دنیا بھر میں ایک تحریک کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے لیکن ایک حالیہ تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ صرف ’’سبزیجاتی غذا‘‘ (ویجی ٹیریئن) پر انحصار کرنے کا نتیجہ دماغی صحت کےلیے کچھ اچھا نہیں نکلتا۔

یہ تحقیق برطانوی ادارے ’’نیوٹریشنل انسائیٹ‘‘ سینئر تحقیق کارہ ڈاکٹر ایما ڈربی شائر کی نگرانی میں کی گئی ہے جس کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’بی ایم جے نیوٹریشن، پریوینشن اینڈ ہیلتھ‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔

اس تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سبزیجاتی غذا میں ایک اہم غذائی جزو ’’کولائن‘‘ کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ اگرچہ ہمارا جگر بھی کولائن بناتا ہے لیکن اس کی مقدار ہماری جسمانی ضروریات کے مقابلے میں نہایت کم ہوتی ہے۔ یہ کمی صرف اسی وقت پوری ہوسکتی ہے جب غذا میں سبزیوں، دالوں اور پھلوں کے ساتھ ساتھ مناسب مقدار میں گوشت بھی شامل رکھا جائے۔
پاکستانی زبان میں بات کریں تو بڑے اور چھوٹے کے گوشت کے علاوہ مرغی، مچھلی، انڈے، دودھ اور دہی کی بھی مناسب مقدار ہماری غذا میں شامل ہونی چاہیے۔ واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ ہر روز گوشت کھایا جائے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ سبزیجاتی غذا کے ساتھ ساتھ، ہفتے میں دو سے تین مرتبہ، گوشت پر مشتمل غذا کو بھی متوازن طور پر استعمال میں رکھنا چاہیے۔

دماغی نشوونما میں کولائن کی خصوصی اہمیت ہے، خصوصاً اُس وقت جب (دورانِ حمل) رحمِ مادر میں بچے کی نشوونما ہورہی ہوتی ہے۔ جگر کی کمزوری دور کرنے اور خون میں موجود چکنائی کو ختم کرنے کے علاوہ، کولائن ایسے آزاد اصلیوں (فری ریڈیکلز) کے خلاف بھی لڑتا ہے جو ہمارے جسمانی خلیوں کو تباہ کرتے ہیں اور متعدد بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔

قصہ مختصر یہ کہ بہتر جسمانی و دماغی صحت کےلیے سبزیوں کے ساتھ ساتھ گوشت بھی ضروری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں