فہم دین و دنیا پر اوور سیز پاکستانی بچوں کے لیے کالم نگار و مصنف عارف محمود کسانہ کی فرنچ میں زبردست کاوش ۔

ٹیرس سے پیرس@ a.k.rao

فہم دین و دنیا پر اوور سیز پاکستانی بچوں کے لیے کالم نگار و مصنف عارف محمود کسانہ کی فرنچ میں زبردست کاوش ۔

چند سال قبل میرے چھوٹے بیٹے 6 سالہ محمد امان نے سوال کیا !
پاپا ہم تو مرکر جنت میں جائیں گے جانور کہاں جائیں گے۔
پھر چند دنوں بعد ایک اور گھما دینے والا سوال کیا۔

پاپا آپ تو کہتے ہو حضرت عیسی’ علیہ اسلام قیامت کے قریب پھر آئیں گے اور وہ مسلمان ہونگے ،مگر یہ کیسے ممکن ہے جن کے اپنے فالورز ہوں ، جو اللہ کا نبی معزوروں کو ٹھیک ، مردوں کو زندگی اور حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے والے ہوں وہ مرتے، سسکتے ،چیختے چلاتے ہوں کو دیکھنے کیوں کر آئیں گے۔

ان سوالوں نے مجھے پڑھنے پر مجبور کر دیا اور سوچا ایسے ہی سوالات ایسی ہی دوسری کھوپڑیوں میں جنم لیتے ہونگے ۔پاکستان میں رہتے ہوئے ایسے سوالات کے جوابات زیادہ دور نہیں ہوتے مگر فرانس ، سویڈن ، جرمن ، سپین، اٹلی ،ناروے جیسے مختلف زبانیں بولنے والے ممالک میں ان سوالات کے جوابات کمیونکیٹ کرنا مشکل ہی نہیں تقریبا” ناممکن ہیں۔ ان سارے حالات کو دیکھتے ہوئے کچھ کر گزنے کی خواہش رکھتا تھا۔ مگر ٹائم کی کمی اور بچوں کی کفیل داری آڑے رہی۔

ایسے میں عارف کسانہ صاحب کی پوسٹ ٹیگ میں ملی کہ ان کی کتاب ” سبق اموز کہانیاں ” کا فرنچ ترجمہ Un collection d’histoiresint 233 ressants poue les enfnts کے نام سے تیار ہے۔کالم نگار اور مصنف عارف محمود کسانہ کی اس کاوش کو نیشنل بک فاونڈیشن آف پاکستان بھی چھاپ چکی ہے۔ یہ کتاب اردو، انگریزی، عربی،ہندی ، بنگالی اور نارویجین میں شائع ہوچکی ہے جبکہ بہت سی زبانوں میں اس کے تراجم پے کام جاری ہے۔

فرانسیسی زبان میں اس کتاب کا ترجمہ اوپن یونیورسٹی ماریشس کی ریسرچ اسکالر اور سر عبدالرحمٰن اسٹیٹ کالج ماریشس میں شعبہ اردو کی استاد اور ماہر اقبالیات محترمہ تاشیانہ شمتالی نے کیا ہے۔ فرانسیسی ترجمہ کی نگرانی اور نظرثانی مہاتما گاندھی انسٹیٹیوٹ ماریشس میں شعبہ اردوکے صدر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی عادل علی محمد نے کی ہے۔

میں سمجھتا ہوں اپنا توت الگ گاڑنے کی بجائے اپنی اخلاقی اور مزہبی ڈیوٹی سمجھتے ہوئے ہر کسی کو عارف کسانہ صاحب کے دیے میں تیل ڈالنا زیادہ مناسب ہوگا۔

عارف کسانہ صاحب سویڈن میں مقیم ہیں اور سائنٹفک اسکالر ہیں ،لکھنا ان کی ہابی ہے اور سوشل مسائل پر لکھنا ان کا مقصد ۔ اس کتاب میں بچوں کو اور خصوصا” پاکستانی نزاد اوور سیز بچوں کو فہم دین و دنیا اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے بتائے ہوئے پیرائے میں چھوٹی چھوٹی دلچسپ کہانیوں کی صورت میں ہیں۔
اس نفسی’نفسی کے دور میں جب ہر کوئی ڈالرز اور یورز کی دوڑ میں اپنی اصل دولت اپنی اولاد سے انصاف نہیں کر پا رہا عارف کسانہ صاحب کی یہ کاوش انتہائی مفید ہی نہیں انتہائی ضروری ہے۔ اور میرے خیال میں فرنچ لینگویچ میں ہونا فرانس میں مقیم پاکستانیوں پے ایک احسان ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں