تحریر فیض عالم

از قلم فیض عالم

قرآن مجید میں حضرت انسان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ انسان بہت جلد باز واقع ہوا ہے اور انسان کی اس کمزوری پر قابو پانے کے لئے قرآن مجید میں کئی مقامات پر صبر کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ کسی مشکل اور پریشانی کے وقت اپنے آپ کو صبر پر آمادہ کرنا انتہائی مشکل کام ہے اسی لیے اللہ تعالی نے قرآن مجید میں صبر کرنے والوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔لیکن اگر ہم اس بات کی گہرائی میں جائیں تو ہمیں اندازہ ہوگا کہ اگر اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ کا اعلان کر رہا ہے تو پھر وہ کون لوگ ہیں جن کے ساتھ کا اعلان اللہ نے نہیں کیا یقیناً وہ جلد باز لوگ ہیں جو صبر نہیں کر پاتے اور زبان سے کوئی ایسا قول یا کوئی ایسا اقدام اٹھا لیتے ہیں جو ان کے حق میں بہتر نہیں ہوتا۔ اسلامک نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ایک مسلمان کو کسی پریشانی یا صدمہ کے وقت اللہ تعالی سے صبرجمیل مانگنے کی ہدایت کی گئی۔ جمیل یعنی خوبصورت اور حسین، وہ صبر جس میں آہ و بکا اور واویلا مچانے کی بدصورتی نہ ہو صبر جمیل ہوگا ۔اگر صبر کیا جائے تو اس انداز میں کیا جائے کہ گویا صبر کرنے کا حق ادا ہوجائے تب ہی تو اللہ نے ساتھ رہنے کی یقین دہانی کروائی۔کسی بھی مسئلے پر آہ و بکا کرنے کے بعد تھک ہار کر خاموش ہو جانے کو صبر نہیں کہتے۔صبر وہ ہوتا ہے جو صدمے یا پریشانی کے ابتدائی مراحل میں کیا جائے لیکن چونکہ انسان کو جلدباز کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ انسان خسارے میں ہے۔ اسی لیے اکثر انسان اس بات کی گہرائی کو سمجھ نہیں پاتا۔

یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کسی بھی انسان کی زندگی ہمیشہ خوشیوں سے بھری رہے۔زندگی میں اتار چڑھاؤ کا دور چلتا ہی رہتا ہے اور جس وقت انسان کسی پریشانی میں گھر جائے تو اس کا رد عمل ہی اس پریشانی کے حل کو متعین کرتا ہے ہے کہ حل کیسے کب اور کس طرح نکلے گا۔ نفسیات اور انسانی روئیے کے ریسرچرز نے کئی تجربات اور امتحانات کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ کسی بھی معاملے میں فوری رد عمل یا بغیر سوچے سمجھے ردعمل کرنا انسان کی زندگی اور اس کی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور اور ایسے لوگ جو فوراً ردعمل کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ اکثر بے سکونی کا شکار نظر آتے ہیں۔ اب یہاں یہ بات سمجھنے والی ہے کہ فوری رد عمل سے کیا مراد ہے۔ فوری رد عمل نہ کرنے یا صبر کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ انسان بے حس ہو جائے۔اس کے سامنے اس کا کوئی اپنا تکلیف میں ہو یا کسی کی موت ہوجائے یا پھر وہ خود کسی شدید پریشانی میں ہو اور اس کی آنکھ میں ہلکا سا آنسو بھی نہ آئے یا پھر اسے معمولی سی پریشانی بھی محسوس نہ ہو تو یہ بے حس ہونے کی علامت ہے ۔اور بے حس انسان جلد باز انسان سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ پریشان ہونا یا تکلیف محسوس کرنا انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ لیکن اس کو کنٹرول میں رکھنا انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ تو لہٰذا پریشانی میں فکر مند ہونا یا اسے حل کرنے کے لیے سوچنا بری بات نہیں ہے لیکن بری بات یہ ضرور ہے کہ کسی بھی پریشانی میں فوراً واویلا مچا دیا جائے ، رو رو کے گھر سر پر اٹھا لیا جائے،ہر کسی کے سامنے اپنی پریشانی کا تذکرہ کیا جائے،خود کو مظلوم اور بے بس ثابت کیا جائے یا ہر وقت اس پریشانی کے بارے میں سوچا جائے تو یہ تمام روئیے نفسیاتی لحاظ سے کمزور انسان ہونے اور مذہبی لحاظ سے کمزور ایمان رکھنے کی نشانی ہے۔
لہذا ایسے لمحات اور واقعات کے جن میں انسان کو ذہن پر شدید تناؤ محسوس ہو۔ان لمحات میں انسان کو چاہیے کہ ایک ایمان والا مسلمان ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اللہ کے اس وعدے کو یاد کرے جو اللہ نے قرآن مجید میں صبر کرنے والوں سے فرمایا ہے۔ اپنے لیے صبر جمیل کی دعا کرے یعنی ایسا خوبصورت صبر کی جس میں سکون ہو ، آہ و بقا اور ذہنی تھکاوٹ نہ ہو۔ بےصبرا پن اور جلدبازی ناصرف دین بلکہ انسان کو دنیاوی لحاظ سے بھی بہت ڈسٹرب رکھتا ہے۔ آپ دیکھیں اپنے اردگرد جن بچوں کے والد اپنے کاروباری یا معاشی مسائل ہر وقت بچوں کے سامنے پریشانی سے بیان کرتے یا چڑچڑاہٹ کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں،یا پھر جن بچوں کی والدہ ہر وقت گھریلو کاموں اور مصروفیات کا رونا روتی رہیں تو ایسے بچے کئ نفسیاتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کا معصوم بچپن بہت جلدی ان سے چھن جاتا ہے۔ لہذا اپنی زندگیوں میں بے صبری اور فور ردعمل کو جگہ نہ دیں بلکہ پریشانیوں کے وقت خود بھی صبر جمیل کا مظاہرہ کریں اور اپنی اولاد کو بھی اس کی ٹریننگ دیں کہ کسی بھی پریشانی کے وقت صبر کرتے ہوئے پریشانی کے حل پر غور کرنا ایک آرٹ ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ایسے ان گنت واقعات سے بھری ہوئی ہے کہ جہاں آپ کو اس بات کا عملی ثبوت دیکھنے کو ملے گا۔ تو خود بھی اس آرٹ کو سیکھنے اور اپنے عمل سے دوسروں کو سکھانے کی کوشش کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں