جرمنی میں تعلیم مفت …. پاکستانی طلبا کیلئے خوشخبری

جرمنی میں تعلیم مفت ہے ،رہائش اور دیگر اخراجات دینے ہو تے ہیں، داخلے کیلئے9سے 10ہزار یورو دکھانے ہوتے ہیں۔تاکہ شروع کے ایک سال کے اخراجات اٹھا سکیں، پاکستانی طلبا ء بہت محنتی ہیں اس میں کچھ پیسے بچالیتے ہیں تاکہ اگلے سال کام آسکیں۔پہلے سال مشکل ہوتی ہے ،دوسرے سال ملازمت کرکے اخراجات پورے ہوجاتے ہیں۔ویزا تاخیر سے ملتا ہے ایک سال لگ جاتاہے، داخلے کی درخواست دینے کے بعد جرمن زبان سیکھ لیں،6 ماہ لگ سکتے ہیں اس سے فائدہ ہوگا۔امریکا ،انگلینڈ،آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ میں تعلیم بہت مہنگی ہے ،جرمنی میں آدھے سے زیادہ کورسز انگریزی زبان میں ہیں،جرمنی میں5سے 10ہزار پاکستانی طالب علم تعلیم حاصل کررہے ہیں ،آگہی ہونے کی و جہ سے طلباء بہت آرہے ہیں ،جرمنی میں پیسہ اور ٹیکنالوجی بہت ہے،یہاں خواتین کیلئے بہت مواقع اور حوصلہ افزائی ہوتی ہے ،

جنہیں ملازمت بھی مل جاتی ہے ،جرمنی کا ویزہ آسانی سے مل جاتاہے،یہاں سے کام کرنے کے بعد دیگر ممالک جانا آسان ہے، بیچلر،ماسٹر اور پی ایچ ڈی کے طالب علم بھی ہیں ۔ ٹیکنیکل اور انجینئرنگ کی تعلیم بہت اچھی ہے۔جرمنی میں پورا پورا شہر سیمنز یا مرسڈیز نے آباد کیا ہواہے،پی ایچ ڈی میں شروع کے 6 ماہ یونیورسٹی اور ڈیڑھ سال انڈسٹری میں دینے ہوتے ہیں اس دوران تنخواہ بھی ملتی ہے،جرمنی میں آگے بڑھنے کے بہت مواقع اور گنجائش ہے۔یہاں میڈیسن اور بائیولوجی میں خاتون ڈاکٹر آصفہ اختر کی بہت خدمات ہیں۔ میکس پلان انسٹی ٹیوٹ میں ڈائریکٹر ہیں جو حال ہی میں تعینات ہوئی ہیں ۔ادارہ 120 سال پرانا ہے اور 26نوبل انعام حاصل کرچکا ہے ۔ مکیس پلان انسٹی ٹیوٹ کا HEC(پاکستان) کیساتھ معاہد ے کی کوشش کررہے ہیں ،طالب علم میکس پلان انسٹی ٹیوٹ کے ویب سائٹ پر اپلائی کرسکتے ہیں،

آپ میرٹ پر اترتے ہیں تو سلیکٹ کرکے داخلہ دے دیں گے او ر رہنمائی بھی کردینگے ۔جرمنی میں سوشل سائنس میں بہت کام ہورہا ہے،لیکن ہم اس طرف توجہ نہیں دے رہے ،ہمارے بزرگ حکیم الامت شاعر مشرق علامہ اقبال 1906میں جرمنی (ہائیڈن برگ ) میں آئے تھے اور پی ایچ ڈی شروع کی۔ اس وقت بھی لوگ سوشل سائنس میں پڑھنے آتے تھے ،یہاں بھارت کا اثررسوخ زیادہ ہے ہم اس طرف قدم نہیں اٹھارہے۔دنیافورم کے توسط سے کہنا چاہوں گا کہ جرمنی میں سوشل سائنس کے شعبہ میں بھی بہت کام اور مواقع ہیں طلباء اور نوجوان اس طرف آئیں۔یہاں پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ بھی بہت ہیں۔دسویں یا بارہویں جماعت میں پڑھ کر پولی ٹیکنیک میں کام کرسکتے ہیں،اس میں بہت گنجائش ہے ۔ پولی ٹیکنیک پر بھی کام کررہے ہیں جس میں طالب علم کچھ عرصے کیلئے آکر کورس کرسکتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں