آپ کو نوکری کی تلاش ہے؟ باس کو متاثر کرنے کے 7طریقے ضرور پڑھیے!

کہتے ہیں، ” فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امپریشن ‘‘ ہوتا ہے۔
یہ بات سچ ہے، میں نے پہلے بتایا تھا کہ بعض ملٹی نیشنل کمپنیاں کرتا دھرتا کسی کو رکھنے یا نہ رکھنے کا فیصلہ 35سیکنڈ کے اندر اندر کر لیتے ہیں۔ آج میں بتائوں گا کہ اگر کسی کو جاب کی تلاش ہو اور اسے نہ مل رہی ہو ،یا انٹرویو کے لئے بلانے کے بعد باس مسترد کر دیتے ہیں… تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ کوئی تو ایسا طریقہ ہو گا جس پر عمل کرنے والے کو متوقع باس دیکھتے ہی نوکری پر رکھنے کا اچھا سا فیصلہ کر لیں!اس بارے میں سو فیصد وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے،ہر کسی کا اپنا موڈ ہوتا ہے جو فیصلہ کرنے میں معاون بنتا ہے۔ لیکن باسز کی طبیعت اور جاب کے تقاضوں پر تحقیق کرنے والوں نے آٹھ کلیے بتائے ہیں جو جاب پر رکھے جانے میں مددگار بن سکتے ہیں۔
کام پر تحقیق : ہر صورت میں اولین طور پر باس کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کیجئے۔یہ سوچ لیجئے کہ جہاں آ پ بھرتی ہونے کے لئے جا رہے ہیں وہاں فالتو پیسوں کا ڈھیر نہیں لگا ہوا، ان لوگوں کو کسی بہترین فرد کی تلاش ہے اور وہ آپ ہی ہو سکتے ہیں یہ ثابت کرنے کاایک ہی ذریعہ ہے،اور وہ ہے آپ کا علم!اپنے کام سے متعلق اچھی سی تحقیق کیجئے کوئی پہلو رہ نہ جائے۔ہر ممکن سوال کا جائزہ لیجئے اور اس کے بارے میں مستند ذرائع سے جامع معلومات حاصل کیجئے۔آپ باس کی جانب سے کوئی ایک سوال پوچھنے سے پہلے ہی اپنا بہترین تاثر چھوڑ سکتے ہیں۔
باس پر تحقیق : اگر ممکن ہو تو اپنے ممکنہ باس پر بھی ریسرچ کر لیجئے۔ان کے بارے میں معلومات انٹر نیٹ پر بھی مل سکتی ہیں۔ جیسا کہ وہ کہاں کہاں تعینات رہے، ان کی دلچسپیاں کیا ہیں؟ فیملی کہاں رہتی ہے ، کتنے ممبران ہیں اور بچے کیا کرتے ہیں۔کھیل کون سا پسند ہے ۔کتابیں کون کون سی پڑھتے ہیں۔یہاں میں آپ کو ایک مثال دینا چاہوں گا۔ میرے ایک دوست بیرون ملک جانے کے خواہشمند تھے لیکن ویزا لگنے کی کوئی امید نہ تھی۔میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میری مدد فرمائیں۔میں نے انہیں بتایا کہ ”بعض ممالک میں کئی طرح کے لوگ رہتے ہیں،امریکہ، کینیڈااور برطانیہ سمیت بعض بڑے ممالک میں کسی بھی خطے سے انٹرویو کرنے والا آ سکتا ہے، آپ وہاں کے کلچر کو بھی پڑھ لیجئے اور موقع ملے تو اپنی مرضی کی بات بھی چھیڑ دیجئے‘‘۔ انٹرویو میں ایسا ہی ہوا۔نوجوان نے موقع ملتے ہی کہہ ڈالا …جناب! آپ کا تعلق فلاں حصے سے تو نہیں ہے؟۔ انٹرویو کرنے والا حیران رہ گیا کہنے لگا واقعی۔ آپ کو کیسے پتہ چلا۔پھر ایک لمبی بحث چل پڑی۔ دونوں میں تعلقات اس قدر بڑھ گئے کہ میرے دوست نے بیرون ملک بھجوانے کا مشورہ دینے والاسنٹر کھول لیا۔اسی حوالے سے مشورے دینے والے ایک ادارے کے سربراہ پیوش جین (Piyush Jain) کا کہنا ہے کہ ”آپ اس بات کا جائزہ لیجئے کہ آپ اور آپ کے بڑے پارٹنر (سینئرممبر ) کے درمیان بات چیت کا کون سا پوائنٹ بہتر ہو سکتا ہے۔
وقت سے پہلے پہنچنے کی کوشش : کسی بھی صورت میں انٹرویو میں دیر کرنے کی ضرورت نہیں اگر ایسا ہو جائے تو اس کا نتیجہ خراب نکل سکتا ہے۔ موسم کی خرابی یا بیماری کا بہانہ بھی نہیں چلے گا۔انٹرویو میں لیٹ جانے والے کا یہی تاثر پیداہو گا کہ اگر اسے بھرتی کرلیا تو کبھی وقت پر نہیں آئے گا۔ژاں گنزبرگ (Jean Ginzburg)کا کہنا ہے کہ ”یادرکھیے، ان کا وقت اتنا سستا نہیں کہ آپ کا انتظار کرنے میں ضائع کر دیں‘‘۔
بزنس سیکھنے کی عادت :اینگ تان (Eng Tan) کا کہنا ہے کہ ”باس یہ جاننا چاہیں گے کہ آپ ان کے بزنس کابہترین خیال رکھ سکتے ہیں، جاب کی نوعیت کوئی بھی ہو آپ کو کام میں مہارت کے علاوہ وفاداری بھی ثابت کرناہو گی۔اس سلسلے میں آپ کے پاس کچھ ایسے سوالات بھی ہونا چاہیئں جو آپ ان سے بھی پوچھ سکتے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ آپ کو بھی ان کی فکر ہے۔ لیکن سوالات بہت پرمغز ہونا چاہیئں جن سے یہ بھی ظاہر ہو کہ آپ ان کی ترقی کے لئے کام سیکھنے کو بھی اہمیت دیں گے۔
انٹرویو کمیٹی کی باتیں بغور سنئے :میں نے دیکھا ہے کہ کچھ افراد دوران انٹرویو ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں یہ اچھی بات نہیں۔ان سے باتیں کرتے وقت پوری توجہ ان پر ہی مرکوز کیجئے۔انہیں یہ احساس دلایئے کہ آپ انہیں غور سے سن بھی رہے ہیں اور جیسا وہ چاہیں گے آپ ویسا ہی بن جائیں گے۔ جیئرڈ ایچی سن (Jared Atchison) کے مطابق”ہمہ تن گوش رہنا اور باڈی لینگوئج سے اس بات کو ثابت کرنا بھرتی میں معاون بن سکتا ہے۔اس سے ہی انہیں اندازہ ہو گا کہ آپ کسی بھی مشکل میں ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے‘‘۔
مسکراہٹ کا جادو:مسکراہٹ سے بھی کسی کا دل جیتاجا سکتا ہے، اور اچھے میٹھے بول بول کر بھی۔نکول مونیز (Nicole Munoz) کے مطابق ”کسی بھی کامیابی کے حصول میں مسکراہٹ کی اہمیت نظر انداز نہیں کی جا سکتی، یہ آپ کو بہت دور تک لے جا سکتی ہے، فرد کی باڈی لینگوئج اور بول چال کا انداز 90فیصد اہم ہوتا ہے ‘‘۔ لیکن ذرا سمجھ داری سے ، کوئی یہ نہ سمجھے کہ آپ اس پر ہنس رہے ہیں۔ میرے ساتھ کئی مرتبہ ایسا ہو چکا ہے۔پرسکون اور مطمئن رہیے:ٹیلر برے (Tyler Bray) کے بقول ”نوکری آپ کے لئے کتنی اہم کیوں نہ ہو،بے چینی ہرگزظاہر نہ کیجئے۔ مشکل ترین سوال کا جواب بھی پرسکون انداز میں دینے سے ان پر ظاہر ہوگا کہ آپ کسی بھی مشکل میں گھبرانے کی بجائے سکون سے مقصد کو حاصل کر لیں گے‘‘۔ ڈیزی ژنگ (Daisy Jing) کا کہنا ہے کہ ”خود کو قائم رکھئے ۔ ہلکا پڑنے سے کام ختم ہو سکتا ہے ‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں