سینیٹ انتخابات؛ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی

قومی اسمبلی سمیت سندھ ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں میں سینیٹ کی 37 نشستوں کے لیے پولنگ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔

پنجاب کی تمام 11 نشستوں پر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں جب کہ آج اسلام آباد کی 2، سندھ کی 11 ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی بارہ بارہ نشستوں پر ووٹنگ ہوئی۔ اس سلسلے میں قومی اسمبلی سمیت تمام صوبائی اسمبلیوں کے ہال کو پولنگ اسٹیشن کا درجہ دیا گیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے عمل میں سست روئی پر نوٹس لے لیا ہے۔
بلوچستان سے عبدالقادر کامیاب:

بلوچستان اسمبلی سے موصول ہونے والے نتائج کے تحت بلوچستان عوامی پارٹی اور تحریک انصاف کے حمایت یافتہ عبدالقادر کامیاب ہوگئے ہیں۔

وزیر اعظم کا ووٹ ڈالنے کے عمل میں سست روی پر نوٹس

وزیر اعظم عمران خان نے خیبر پختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے عمل میں سست روی پر نوٹس لے لیا ہے۔

عبدالاکبر چترالی کا وٹ کاسٹ کرنے سے انکار

سہ پہر ڈھائی بجے کے قریب ہی ایوان کے 341 میں سے 340 ارکان نے ووٹ کاسٹ کرلئے تھے تاہم جماعت اسلامی کے عبدالاکبر چترالی پارٹی پالیسی کے تحت ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ جس پر قواعد کے مطابق ریٹرننگ افسر مقرہ وقت تک ان کا انتظار کرتے رہے۔

’شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ‘

ووٹنگ کے دوران تحریک انصاف کے رہنما شہریار آفریدی نے بیلٹ پیپر پر دستخط کردیئے، جس سے شہریار آفریدی کا ووٹ ضائع ہوگیا۔

آصف زرداری کا بیلٹ پیپر ضائع

سینیٹ انتخابات کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری بھی ووٹ کاسٹ کرنے پہنچے، ان کا بیلٹ پیپر کچھ وجوہات کی بنا پر ضائع ہوگیا جس پر انہیں دوسرا بیلٹ پیپر جاری کیا گیا۔

موبائل لے جانے پر پابندی

پولنگ کے دوران قومی اسمبلی میں اراکین کے موبائل اندر لے جانے پر عائد پابندی پر سختی سے عملدرآمد کرایا گیا، اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے ایم این اے عبدالقادر پٹیل اور سکیورٹی عملے کے درمیان تکرار بھی ہوئی، عبدالقادر پٹیل نے تکرار کے بعد اپنا موبائل فون جمع کرادیا اور کہا کہ اگر حکومتی رکن میں سے کوئی موبائل فون اندر لایا تو ذمہ دار سیکیورٹی عملہ ہوگا۔

’(ق) کے چوہدری سالک نے ووٹ کی تصویر بنائی‘

شاہدہ رحمانی نے ریٹرننگ آفیسر کے پاس احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ق) کے چوہدری سالک نے ووٹ کی تصویر بنائی ہے، ان کی تلاشی لی جائے۔ جس پر چوہدری سالک کے حمایتوں کا احتجاج کیا۔

پہلا ووٹ کس نے ڈالا

قومی اسمبلی میں پہلا ووٹ تحریک انصاف کے شفیق آرائیں جب کہ دوسرا فیصل وواڈا نے کاسٹ کیا۔ سندھ اسمبلی میں سب سے پہلا ووٹ میر شبیر بجارانی نے کاسٹ کیا۔ خیبر پختونخوا اسمبلی میں پہلا ووٹ جے یو آئی (ف) کے ہدایت الرحمان نے کاسٹ کیا۔ بلوچستان اسمبلی میں صوبائی وزیر زمرک اچکزئی نے سب سے پہلے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔

سندھ اسمبلی؛ خرم شیر زمان کی جیب سے فون برآمد

سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے پولنگ ایجنٹس کی شکایت پر پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان کی جیب سے موبائل فون برآمد ہوا جبکہ پی ٹی آئی ہی کے رکن کریم بخش گبول کی جیب کی تلاشی لی گئی تاہم انکی جیب سے موبائل فون برآمد نہیں ہوا۔ موبائل فون اندر لے جانے پرپیپلزپارٹی اورر پی ٹی آئی پولنگ ایجنٹس میں تکرار بھی ہوئی۔

سندھ اسمبلی میں علیل ارکان کو خصوصی رعایت

سندھ اسمبلی میں پولنگ کے دوران معمر اور علیل ارکان اسمبلی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے خصوصی رعایت دی گئی، مرادعلی شاہ سینئر کو نظر کی کمزوری کے باعث ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے ساتھی رکن کی مدد فراہم کی گئی، وہیل چیئر پر آنے والی پیپلزپارٹی کی بزرگ خاتون رکن اسمبلی پروین بشیر کا ووٹ ارباب لطف اللہ کے ذریعے کاسٹ کروایا گیا جب کہ پیپلزپارٹی ہی کے علی نواز مہر کے ہاتھ میں فریکچر کے اور بشیر ہالیپوٹہ کی علالت اور وہیل چیئر پر ہونے کی وجہ سے دوسرے ارکان نے بیلٹ پیپر پر نشانات لگائے۔

کئی اعتبار سے اس بار سینیٹ کا حالیہ انتخاب ہنگامہ خیز رہا ہے۔ انتخاب سے قبل صدر کی جانب سے طریقہ کار تبدیل کرکے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرینس دائر کیا گیا تاہم عدالت نے آئین میں بیان کردہ طریقہ کار برقرار رکھا۔ اس سے قبل حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے انتخابات میں کام یابی اور انتخابی عمل میں خرید وفروخت کے دعوے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے سینیٹ انتخابات میں حکومت کے خلاف صف بندی کرکے حصہ لیا جس کی وجہ سینیٹ انتخابات ْْْْْاہمیت اختیار کرگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں