شوگر ملز سے 386 ارب روپے کی وصولی کا فیصلہ

پی ٹی آئی حکومت نے شوگر ملز سے 386 ارب روپے کی وصولی کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے قومی احتساب بیوروکوکیس بھیجے گئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے کابینہ کے حالیہ اجلاس میں مشیر برائے احتساب اور داخلہ کوہدایت کی کہ وہ شوگر کمیشن کی رپورٹ پر اب تک کی گئی کارروائیوں پر کابینہ کو آگاہ کریں۔ کمیشن نے مالکان کو موردالزام ٹھہرایاتھا کہ انھوں نے قیمتوں میں بلاجواز اضافے ، بے نامی لین دین ، ٹیکس چوری ، سبسڈی کے غلط استعمال اور گنے کی خریداری میں اربوں روپے کا غیر قانونی منافع کمایا۔

کمیشن نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ شوگر ملز مالکان میں بڑے سیاستدان بھی شامل ہیں۔ مسلم لیگ ن کے شہباز شریف ، پی ٹی آئی کے جہانگیر ترین، خسرو بختیار اور پیپلز پارٹی کے آصف زرداری نے بھی بحران سے فائدہ اٹھایا۔ وزیر اعظم کے مشیر نے بتایا کہ ایف بی آر نے ان ملوں پر 386 ارب روپے کی واجب الادا رقم طے کی،جس میں سے 29 ارب روپے کے ٹیکس جبکہ متعدد عدالتوں میں طویل قانونی لڑائی جیتنے کے بعد 22 ارب روپے جرمانہ عائد کیاگیا۔
انھوں نے بتایا وصولی کے نوٹس اورکیس نیب کوبھیج دئیے گئے ہیں،جس نے مقدمے چلانے کیلئے انکوائری شروع کردی ہے۔حکومت نے ایف بی آر کو ہدایت کی تھی کہ وہ ٹیکس دھوکہ دہی اور بے نامی لین دین کا پتہ چلانے کیلئے تمام شوگر ملوں کا جامع آڈٹ کرے ۔میری ٹائم کے وزیر نے سندھ حکومت کی ’’سازش‘‘ کی نشاندہی کی کہ اس نے ذخیرہ کی گئی گندم حال ہی میں جاری کی جو گذشتہ برس بحران میں جاری نہیں کی گئی،اس پر کابینہ نے حکومت سندھ پر تنقید کی ۔وزیر اعظم نے اسے نہ صرف وفاقی حکومت بلکہ سندھ کے غریب عوام کے خلاف سازش قرار دیا۔ وزیر آبی وسائل وزیر نے بینکوں کی طرف سے مالی اعانت کیلئے ایک سے دو سال پرانے مکانوں کی شرط کی نشاندہی کی ،جس سے غریب عوام متاثرہورہے ہیں۔

وزیر اعظم نے وزیر کو ہدایت کی کہ وہ ہاؤسنگ کمیٹی کے جائزہ اجلاس میں یہ مسئلہ سامنے لائیں۔ وزیراعظم نے پنجاب میں مارکیٹ کمیٹیوں کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی کیونکہ صوبے میں خوردنی اشیاء کی مہنگائی کا سیلا ب ہے۔

انہوں نے قلت اور ذخیرہ اندوزی ، تھوک اور پرچون قیمتوں میں واضح فرق کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ قیمتیں گھٹانے اورمستحکم کرنے کیلئے منڈی سے مڈل مین کے خاتمے کا مسئلہ درپیش ہے۔وزیراعظم نے تنخواہوں میں اضافے کیلئے ملازمین کے احتجاج پرتبصرہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ کوہدایت کی کہ وہ صوبائی آراء لینے کے ساتھ وفاقی حکومت کے ملازمین کیلئے تنخواہ میں اضافے کا پیکیج فوری بنائیں۔ وزیرسائنس نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین ،فوجی افسران اور ججوں کی دوبارہ ملازمت کے معاملے کی نشاندہی کی جو دوبارہ ملازمت کے بعد پینشن اورتنخواہوں کا دہرافائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس پر وزیر قانون نے واضح کیاکہ پینشن اور دوبارہ ملازمت کے بعد تنخواہ کا استحقاق متعلقہ قوانین کے مطابق ہے ،اس معاملے پربحث غیر ضروری تنازع پیدا کرے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں