عاصمہ شیرازی کا کالم: ایک این آر او اپنے لیے۔۔۔

گزرتا ہر لمحہ آنے والے ہر پل کا اشارہ دیتا ہے۔ جانے والے ہر لمحے کی ڈور میں آنے والے کئی لمحات بندھے ہوتے ہیں۔ ہر آہٹ جہاں اگلے قدم کا پتہ دیتی ہے وہیں چال کا نشان بھی۔

سیاست کے امکان اور امکان کی سیاست دونوں اپنی اپنی جگہ خود بناتے ہیں۔

بدنام زمانہ لفظ ’این آر او‘ کو دوسرے لفظوں میں ’سیاست کے امکانات‘ سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں تقریبا ہر آمرانہ دور سے کوئی نا کوئی حکومت مخالف تحریک اور پھر کسی نا کسی قسم کی مفاہمت جنم لیتی ہے۔

گویا ہر غیر آئینی دور کسی نیم آئینی امکان سے وجود پاتا ہے اور یوں بار بار معطل ہونے والے آئین کی بحالی کی جانب سفر پھر نئے سرے سے شروع ہو جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ کہ ہم ہر بار اُسی موڑ پر آ کھڑے ہوتے ہیں جہاں ہمیں اپنے شرمناک ماضی میں جھانکنا پڑتا ہے۔

ہاتھ سے پھسلتی اقتدار کی چھڑی کو قابو میں لانے کے لیے جنرل ضیا الحق کو محمد خان جونیجو کو نیم جمہوری نظام دینا پڑا۔ اور پھر جونیجو صاحب نے ضیا الحق کو جمہوری این آر او دیا جبکہ بے نظیر بھٹو نے نظام کو آئینی راستہ دکھایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں