خواتین ہاکی پاکستان میں کیوں زوال پذیر ہے تحریر:رفعت خان اسلام آباد

خواتین ہاکی پاکستان میں کیوں زوال پذیر ہے

تحریر:رفعت خان اسلام آباد

پاکستان میں قومی کھیل ہاکی کی بلند و بالا عمارت ایک یا دو سال میں زمین بوس نہیں ہوئی بلکہ اس نے گرنے میں تیس سے پنتیس سال لگائے اس کو تباہ کرنے میں کوئی فرد واحد نہیں بلکہ ہر ایک نے اس کو تباہ کرنے میں اپنا کردار با خوبی نبھایا ہے.خواتین ہاکی کی موجودہ صورت حال میں” آپ لوبنگ کریں تو خواتین ہاکی کے لیے کام کر رہے ہیں، دوسرا کام کرے تو وہ لوبنگ کر رہا ہے”کے فارمولے پر گامزن ہیں پاکستان میں خواتین کا آغاز اس دور میں ہوا جب پاکستان ہاکی کا سورج دنیائے ہاکی میں آب و تاب سے چمک رہا تھا اور دنیا پاکستان کو ہاکی اولمپین اور ورلڈ چیمپئن کے وسیلہ سے جانتی تھی.اس وقت کی خواتین کھلاڑی اور انتظامیہ “جو خواتین پر مشتمل تھی”جیت کے جذبے اور ملک کے وقار کیلئے کھیلنا اعزاز سمجھتی تھیں.تمام سینئرز خواتین کھلاڑی نا مناسب حالات،بندشوں اور رکاوٹوں کے باوجود بلند عزائم سے قومی کھیل میں حصہ لیتی تھیں.اور ملک کا نام دنیائے ہاکی میں بلند کرنے کا عزم رکھتی تھیں.پھر پورے ملک کی طرح خواتین ہاکی میں بھی سیاست اور گروپنگ نے اپنے پنچے گاڑہ لیے.
جس نے دیگر شعبوں کی طرح خواتین ہاکی کو بھی تہس نہس کر دیا.اس تباہی میں ہر فرد نے اپنا حصہ نہایت ایمانداری سے نبھایا.اس تباہی میں انتظامیہ، سیاست دان، میڈیا، صحافی اور کھلاڑی سرفہرست ہیں.حیرت اس وقت ہوتی ہے جب ارباب اختیار خود سوالات کرتے ہیں، اس تباہی کی وجوہات کے بارے میں.اگر ارباب اختیار اور انتظامیہ غافل اور لا علم ہے تو جواب کس کے پاس ہے پاکستان میں دیگر شعبوں کی طرح خواتین ہاکی کی تباہی کے اسباب بھی لا محدود ہیں جن میں سے چند :
-سیاست اور سیاست دانوں کا عمل دخل اور لا محدود اختیارت کا ہونا
-ارباب اخیتار اور انتظامیہ کا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا اور بے دریخ استحمال
-من پسند اور خوشامدی لوگوں کی بھرتیاں
-کام کرنے اور مخلص لوگوں کی دل ازاری، بےعزتی اور بے قدری
-گروپ بندی اور پسند نا پسند کا بے دریغ استمعال
-مردوں اور خاص کر شوقین مردوں کا داخلہ اور ان کو دیے جانے والے لا محدود اختیارات اور انتظامیہ کی طرف سےان کو دی جانے والی حوصلہ افزائی
-خواتین ہاکی کو ایک صوبہ بلکہ ایک شہر تک محدود کرنا.جس سے دیگر شہروں میں مایوسی بڑھی.
جن سینئر کھلاڑیوں کو ہاکی کی ترقی میں حصہ ڈالنا چاہیے تھا انکی حوصلہ اور دل شکنی کی گئی
-ٹیم کی جگہ انفرادی طور پر لوگوں کو ترقیاں دی گئیں اور میرٹ کی دھجیاں اڑھائی گئیں
– کھلاڑیوں،انتظامیہ اور ارباب اختیار کا ہتک آمیز رویوں نے یوتھ کی حوصلہ شکنی کی اور اخلاقی تربیت دن با دن زوال پذیر ہوئی
– پاکستان میں ہونے والے خواتین ہاکی کے مقابلے ہوں یا بیرونی دورے چند مخصوص اور من پسند لوگوں کو نوازا گیا. (یہ مثال بھی موجود ہے کہ ایک کالج کی ہوسٹل وارڈن کو میڈیکل سٹاف کے طور پر بھی دورہ کروایا گیا)پاکستان میں ہونے والے مقابلوں میں کھلاڑیوں کو بغیر ٹریننگ کے یہ کہ کر حصہ دلوایا گیا کہ جیت کا مسلہ نہیں بس ٹور لگ جائے گا.جس نے کھلاڑیوں میں جیت اور جنوں کا جذبہ پہلے سرد اور پھر بلکل ختم کر دیا کھلاڑیوں کو اپنے مفادات کے لیے استمعال کیا گیا جس سے ایک قوم نہیں بلکہ افراد اور ہجوم نے جنم لیے خواتین کھلاڑیوں کو چور دروازوں، پسند نا بسند پر بیرونی دورے کروائے گے جس نے خواتین کھلاڑیوں میں مقابلہ کرنے اور محنت کا جذبہ دن با دن ختم کر دیا.اور جو کھلاڑی محنت،لگن اور جان فشانی سے کھیلتے ہیں ان کی دل آزاری اور حوصلہ شکنی ہوئی سب سے خوفناک اور تباہ کن “گرل فرینڈ کلچر “کا فروغ ہے.جن پر فوری اور سخت اقدامات کی اشد ضرورت ہے خواتین ہاکی سے نا انصافی کا آغاز ١٩٨١ میں جاپان ٹور کے ملتوی ہونے سے ہوا وہ ابھی تک اختتام پذیر نا ہو سکا
خواتین ہاکی کو انتظار کرنا ہے کہ کب مردوں کی ہاکی اپنے قدموں پر کھڑی ہو کر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرتی ہے اس میں پانچ چھ سال بھی لگ سکتے ہیں.اور تب تک خواتین ہاکی اور کھلاڑیوں کونا ختم ہونے والا انتظار کرنا ہے پاکستانی خواتین کھلاڑی بہت با صلاحیت ہیں اور اگر خواتین ہاکی پر تھوڑا سا بھی مخلص ہو کر میرٹ پر کام کر لیے جائے تو ٹیم کچھ عرصے میں ایشیا کی حد تک نتائج ظاہر کر سکتی ہے لیکن یہاں مشکل یہ ہے کہ ارباب اختیار کے لیے مشکل ہو جاۓ گی عوام ہی نہیں چھوڑے گی اس لیے سب ارباب اختیار اور انتظامیہ ایک ہی فارمولے پر عمل کر رہی ہے کہ”کام کرنے والی خواتین کو متحد نہیں” ہونے دینا اور آپس میں لڑا کر اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہے جس میں یہ آج تک تو کامیاب ہیں لیکن اس سوچ سے مستحق کھلاڑی، مخلص کام کرنے والے اور ملک بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
زمیدار کون؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں