دسمبر کا مہینہ اور تلخ یادیں ۔۔تحریر ملک منیر احمد

دسمبر کا مہینہ تلخ یادوں کے ساتھ آتا ھے • دکھ اور غم کی ایک شدید لہر دے کر گذر جاتا• 16 دسمبر 2 سانحات ایسے ھیں جنہوں نے پاکستان کے ہر شہری کے دل پر کاری زخم لگائے ھیں• کون بھول سکتا ھے وہ بدبخت دن جب پاکستان 2 ٹکڑے ھوگیا تھا• 1970 کے بعد پیدا ھونے والی نسل تو شائد اس کرب کا احساس نہ کرسکتی ھو جو اس وقت کے لوگوں نے اسے سہا• پوری قوم سکتے کے عالم میں تھی کوئی بھی سمجھنے سے قاصر تھا کہ یہ کیا ھوا اور کیسے ھوا؟ جن بھائیوں نے ھمارے ساتھ مل کر ایک نئے وطن کی بنیاد رکھی تھی وہ ھم سے اتنے متنفر کیوں ھوگئے کہ ھمارے ساتھ رھنے سے بھی انکار کر دیا • سازشیں اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کا لالچ عوام کی درست آواز کو سمجھنے اور سننے سے قاصر رہنما خود غرضی عیاشیوں نے وہ عظیم سانحہ برپا کردیا جو صدیوں سے اسلامی تاریخ میں رونما نہ ھوا تھا• سب سے بڑے اسلامی ملک کی فوج کا اس طرح دشمن کے سامنے ہتھیار پھینک دینا نہ صرف باعث دکھ شرم اور تکلیف دہ تھا بلکہ ذلت و رسوائی کا وہ مستقل داغ ھے جو بقیہ پاکستان کے ماتھے پر ابھی تک سجا ھوا ھے• اس لمبی اور شرمناک شکست کے بعد کسی نے تاریخ سے سبق سیکھا؟ نھیں بالکل نھیں • بعد میں بھی پاکستان میں ایسے عوامل بار بار پیدا کئے جاتے رھے جن کی وجہ سے یہ سانحہ عظیم رونما ھوا• کیونکہ بدقسمتی سے ھم نے تاریخ سے وہ سبق نھیں سیکھا جو زندہ قومیں سیکھا کرتی ہیں • 1971 سے 2020 تک کی غلطیوں سے بھری ایک طویل اور دردناک داستان ھے جسے اس وقت دھرانے کا نہ موقع ھے اور نہ دامن تحریر اجازت • پھر ایک اور 16 دسمبر ھماری تاریخ میں دھرایا گیا• یہ بھی ایک کربناک واقعہ تھا ماوں نے اپنے بچوں کو سکول بھیجا ھوا تھا• علم حاصل کرنے کی تمنا اور طلب لئے یہ معصوم اپنی اپنی کلاسوں میں تھے جب دھشت گردوں نے خون کا بازار گرم کردیا • وہ دھشت گردی جو ھماری معصوم اور بےکس قوم اپنے گھروں محلوں عبادت گاھوں بازاروں اور گلی کوچوں میں بھگت رھی تھی اس نے وحشت وبربریت کا لبادہ اوڑھ کر درس گاہ کا رخ کرلیا• پشاور کے سکول میں 16 دسمبر کو خون کی وہ ھولی کھیلی گئی کہ الامان الحفیظ • معصوم بچے ھماری کوتاھیوں غلطیوں اور خودغرضئ کی بھینٹ چڑھ گئے• مائیں گھروں میں انتظار کرتی رہ گئیں اور انھیں معصوموں کے لاشے تھما دئے گئے • کیا اس سانحے کے بعد بھی اس قوم کے اصل مالکوں نے کوئی سبق حاصل کیا؟ جواب ھے نھیں• افسوس ان پھولوں کا خون خون ناحق تھا جو رزق خاک ھوا• اس دسمبر نے ابھی اپنے ترکش میں ظلم کے اور بھی تیر چھپا رکھے تھے• 27 دسمبر وہ دن جب اس ملک اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیر اعظم چاروں صوبوں کی زنجیر جمہوریت کی علمبرادا عزم وھمت جرآت بہادری کی نشانی بے نظیر بھٹو کو راولپنڈی میں بےدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا • یہ صرف ایک قتل نھیں تھا ملک کو دوبارہ توڑنے کی مذموم کوشش تھی• یہ ایک سیاسی لیڈر کا قتل نہ تھا ہر جمہوری سوچ رکھنے والے کو ایک واضح پیغام تھا• سانحات دسمبر سے ھم نے کوئی سبق سیکھا• افسوس کہ بالکل نھیں ھماری اقتدار اور طاقت کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی پرانی سوچ ابھی بھی برقرار ھے• ھم اب بھی ووٹ کی طاقت بحال کرنے میں سنجیدہ نھیں• ھمیں آج بھی کٹھ پتلیوں کی ضرورت ھے اور ھم انھیں تلاش کرنے میں ماہر ھیں• ھم آج بھی عوامی راج کے نہ قائل ھیں اور نہ اسے پنپنے اور پھولنے دینا چاھتے ھیں• ھم آج بھی ملک کی سلامتی کو داو پر لگائے بیٹھے ہیں • ضرورت اس بات کی ھے کہ ھم اپنی غلطیوں سے سبق سیکھیں نہ کہ انھیں دھراتے جائیں• ھوس اقتدار نے ھمیں دنیا میں رسوا کردیا ھوا ھے • اب بھی وقت ھے کہ اپنی پالیسیوں کو ایسے ترتیب دیں کہ دوبارہ دسمبر میں کوئی سانحہ پیش نہ آسکے منیر احمد ملک پیرس فرانس

اپنا تبصرہ بھیجیں