نوازشریف کا بیانیہ تحریر منیر احمد ملک پیرس فرانس

نوازشریف کا بیانیہ تحریر منیر احمد ملک پیرس فرانس نوازشریف نے اپنی چپ کو توڑ کر جارحانہ انداز اپنا لیا ھے یکے بعد مختلف بیانات میں انہوں نے کھل کر سٹیبلشمنٹ اور ان کے مطابق سلیکٹیڈ حکومت کے خلاف جنگ کا آغاز کردیا ھے اپنے بیانات میں انہوں نے سٹیبلشمنٹ اور حکومت پر تابڑ توڑ حملے کئے ھیں انہوں نے کہا کہ ان پر اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام نے استعفی کے لئے دباو ڈالا استعفی نہ دینے کی صورت میں ملک میں مارشل لاء لگانے کی دھمکی دی نوازشریف کے بقول انہوں نے اس دھمکی کو مسترد کردیا اور کہا کہ آپ جو کرنا چاھتے ھیں کرلیں اور پھر بعد میں انہوں نے سازشوں کے ذریعے نہ صرف میری حکومت ختم کی بلکہ مجھے نااہل بھی قرار دیا گیا یہ ساری صورت حال اس وقت پیش آئی جب پاکستان میں ان کے چھوٹے بھائی اور قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کو عدالت سے ضمانت مسترد ھونے پر نیب نے گرفتار کر لیا نواز شریف کا خیال ھے کہ انھیں اور ان کی پارٹی کو سخت ترین دباو کا سامنا ھے اور سٹیبلشمنٹ موجودہ حکومت کے ساتھ مل کر انھیں دیوار سے لگانا چاھتی ھے انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ نیب نیازی گٹھ جوڑ ھے 2 سالوں سے ہر طرح کے مقدمات قائم کرنے اور ن لیگ کی ٹاپ سطح کی قیادت کو کئی کئی مہینوں تک جیل میں رکھنے کے باوجود ان پر کوئی جرم ثابت نھیں کیا جا سکا اور یہ سراسر انتقامی کاروائی ھے اور عمران خان نیازی انتقام میں اندھا ھو چکا ھے اور اس حکومت کا واحد مقصد پوری اپوزیشن کو راستے سے ھٹانا ھے انہوں نے الزام لگایا کہ ان تمام کاروائیوں کے پیچھے کچھ جرنیل ھیں جو یہ سب کچھ عمران نیازی سے کروا رھے ھیں اس بیانئیے پر پورے ملک میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ھے مسلم لیگ کے کثیر تعداد میں کارکنوں نے اس بیانئیے کو ویلکم کہا ھے اور ان کے خیال میں اس وقت ضروری ھے کہ اب مسلم لیگ کو فرنٹ فٹ پر آ کر کھیلنا چاھئیے اور کارکنوں کے خیال میں جب ھماری پارٹی کے خلاف اس طرح یکطرفہ انتقامی کاروائیاں کی جارھی ھیں تو ھمیں بھی جارحانہ رویہ اختیار کرنا ھوگا دوسری طرف حکومت اور ان کے اتحادیوں نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ نواز شریف کا یہ بیانیہ ملک دشمن بیانیہ ھے اور یہ وہ ھی بیانیہ ھے جو ھندوستان کا پاکستان کے بارے میں ھے بلکہ ان کے مطابق نواز شریف کو ھندوستان کے ساتھ ساتھ دیگر پاکستان دشمنوں کی حمائت بھی حاصل ھے بلکہ وزیر اعظم نے تو باقائدہ الزام لگایا ھے کہ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر ھندوستان کے ہاتھوں میں کھیل رھے ھیں اور ملک دشمنی کے مرتکب ھورھے ھیں اور جو کچھ بھی کہا جارہا ھے وہ اداروں کے خلاف ایک منظم سازش ھے جبکہ نواز شریف کے حلقے یہ دعوی کررھے ھیں کہ انہوں نے کوئی ایسی بات نھیں کی جو ملک دشمنی کا باعث ھو بلکہ انہوں نے وہ حقائق بیان کئے ھیں جس کی وجہ سے ان کی حکومت کو ختم کیا گیا انہوں نے کہا کہ کیا عمران خان نے سٹیبلشمنٹ کے بارے اس بھی سخت باتیں نھیں کی ھوئیں؟ کیا عمران خان نے انڈیا میں بیٹھ کر اداروں کے خلاف باتیں نھیں کیں،؟ اگر وہ باتیں ملک دشمنی نھیں گنی جاتیں تو نواز شریف نے کون سی ایسی باتیں کہہ دی ھیں جو عمران خان کی باتوں سے مختلف ھوں اب صورت بڑی واضح ھو چکی ھے کہ نواز شریف نے چپ کا روزہ توڑ دیا ھے انہوں نے صاف الفاظ میں کہا ھے کہ وہ اب خاموش نھیں ھوں گے وہ اب کھل کر احتجاج کریں گے ملکی صورت حال انتہائی سنگین ھوچکی ھے اپوزیشن نے ایک متحد محاذ بنا لیا ھوا ھے حکومت بھی خم ٹھونک کر میدان میں موجود ھے ملکی سیاست میں تلخی کا عنصر تیزی سے بڑھتا جارہا ھے یہ تلخی کسی بھی حادثے پر منتج ھوسکتی ھے سیاست دانوں کو ھوش کے ناخن لینا ھوں گے ھم پہلے ھی معاشی طور پر بےحد کمزور حالت میں ھیں کرونا ابھی ختم نھیں ھوا احتیاجی تحریکیں ملک کی ترقی کا پیہہ روک دیتی ھیں حکومت نے ان 2 سالوں میں ابھی تک عوام کو کوئی معمولی سا بھی ریلیف نھیں دیا مہنگائی کا ایک طوفان ھے جس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ھے عام آدمی کا جینا پہلے ھی بہت دوبھر ھوچکا ھے اور اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑھے ھوئے ھیں ایسی صورت میں کسی بھی قسم کا تصادم ملک کے لئے فائدہ مند ثابت نہ ھو گا سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت کی ھے کہ وہ ملکی سیاسی فضا کو بہتر بنائے اور سیاسی درجہ حرارت کو نارمل رکھے عمران خان کو اب بطور وزہر اعظم پورے پاکستان بارے سوچنا ھوگا اور کوئی بھی ایسا قدم ضرور اٹھانا ھوگا جس سے اس تلخی میں کمی واقع ھو اور دوسری طرف یکطرفہ احتساب کا تاثر ختم ھو اگر وزیراعظم کسی اپوزیشن لیڈر کو این آر او نھیں دینا چاھتے تو انھیں یہ ھی اصول حکومتی پارٹی پر بھی لاگو کرنا پڑے گا

اپنا تبصرہ بھیجیں