قانون کی نظر میں ایک پاکستانی شہری کی کیا قدر ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

قانون کی نظر میں ایک پاکستانی شہری کی کیا قدر ہے۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی

کیا پاکستانی شہریوں کی عزت، جان، مال کی حفاظت قانون کی بالا دستی کے دائرے میں نہیں آتی۔ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا خطاب

یورپ سویرانیوز(چیف اکرام الدین)قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ قانون کی نظر میں ایک پاکستانی شہری کی کیا قدر ہے کیا عدلیہ کا کام قانون کی بالادستی قائم رکھنا نہیں ہے؟کیا پاکستانی شہریوں کی عزت، جان، مال کی حفاظت قانون کی بالا دستی کے دائرے میں نہیں آتی؟عافیہ ایک پاکستانی شہری ہے جس کے ساتھ انتہائی ناانصافی ہوئی ہے۔ 86 سال کی بہیمانہ سزااسے دفاع کا حق دیئے بغیر دی گئی کیونکہ اس پرجو الزامات عائد کئے گئے تھے وہ من گھڑت تھے اور استغاثہ کواس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکے تھے۔وہ کراچی بار ایسوسی ایشن کی دعوت پر کراچی بار کے وکلاءسے خطاب کررہی تھیں۔سٹی کورٹ پہنچنے پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر منیراحمد ملک، جنرل سیکریٹری جی ایم کورائی و دیگر ممبران اور وکلاءکی بڑی تعداد نے گرمجوشی سے ان کا استقبال اور ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے بین الاقوامی گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے ساتھ ایک اخباری بیان میں کہا کہ دختر پاکستان کے ساتھ نا انصافی ہوئی اس کے ساتھ ناروا سلوک ہوا، اس کی عزت اس کے دین کو پامال گیا۔ عافیہ کی جان خطرے میں ہے اس سے تین سال سے اپنی فیملی سے ٹیلی فون پر بات بھی نہیں کرائی گئی۔انہوں نے سوال کیا وکلاء تنظیمیں اور وکلاء برادری عدلیہ کا عافیہ کے حقوق کے لئے خاموش رہنا انصاف قرار دیتی ہے ۔ انہوں نے کہا جب عوام عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں تو معاشرے میں انار کی پھیل جاتی ہے۔اس وقت ایف ایم سی کارزویل جیل جہاں عافیہ قید ہے،وہاں سے رہا ہونے والی خواتین نے بتایا کہ قیدیوں کے ساتھ الیکٹرک شاک دینے والی گن ، بہیمانہ تشدد، سڑا ہوا کھانا اور جانوروں سے بدترسلوک ہو رہا ہے۔کئی ممالک نے اپنے قیدیوں کو ریلیف دلایا مگر ہماری عدالت ہماری حکومت کو یہ کہنے سے قاصر رہی کہ وہ بھی عافیہ کے جان کا تحفظ کرے، اس کی عزت کا تحفظ یقینی بنائے۔عافیہ پاکستان کی ایک ایسی بیٹی ہے جسے سیاستدانوں نے الیکشن کارڈ کے طور پر استعمال کیا۔انہوں نے کہا کہ میں معاشرے کے ہر طبقہ سے رابطہ کررہی ہوں۔میرا وکلاء برادری سے رابطہ کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اگر وکلاء آواز اٹھائیں گے تو عافیہ کو ریلیف ملے گا اور اس کی وطن واپسی کی راہ بھی ہموار ہو گی۔آخر میں کراچی بار نے ایک قرار داد پاس کی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ عافیہ کی جان ،عزت کے تحفظ اور رہائی کیلئے اقدامات کئے جائیں اور کراچی بار ڈاکٹر عافیہ کی وطن واپسی تک عافیہ موومنٹ کا بھرپور ساتھ دے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں