جاگتے رہو ۔۔۔آسمان گر کیوں نہ گیا ؟تحریر: عظمٰی گل

جاگتے رہو ۔۔۔آسمان گر کیوں نہ گیا ؟
ایف اے ٹی ایف بل 2020 پاس ہو گیا۔ کیا ایسے بنتے ہیں قوانین؟ کیا ایسے ہی جمہوریت کے علمبردار ممالک قوانین بناتے ہیں؟ بنیادی حقوق سلب ہو گئے۔ اس قانون سازی سے ہم مکمل طور پر اپنی آزادی کھو چکے۔ اب ہندوستان اور امریکہ ہماری معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے کسی بھی وقت اعتراض کرکے ہمارے گلے میں پھندا ڈال سکتے ہیں۔ کوئی پاکستانی شہری، سیاست دان یا مذہبی رہنما اب ان کی پہنچ سے دور نہیں۔ ہم نے اپنی آزادی اغیار کے ہاتھ گروی رکھ دی اور اپنے ہاتھ کاٹ کر انہیں دے دیے۔ طرۂ یہ کہ اس ظالمانہ وجابرانہ قانون سازی پر حکومت کا سر فخر سے بلند ہے کہ انہوں نے کس کامیابی سے پاکستان کو زنجیروں میں باندھ کر غیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کارِ شر میں حزب اختلاف بھی شامل تھی یعنی” سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں”۔ اس بل کی ابتدا ہی غلط ہے ۔اس کے “اسٹیٹمنٹ آف آبجیکٹ اینڈ ریزن” میں بتایا گیا ہے کہ یہ قانون سازی ایف اے ٹی ایف کے کہنے پر کی جا رہی ہے یعنی یہ قانون ہم کسی اور کے کہنے پر بنا رہے ہیں۔ اس میں نیب بغیر وجہ بتائے 60 دنوں تک کسی بھی پاکستانی کو حراست میں رکھ سکتی ہے جس پر اہل خانہ نہ تو پرچہ درج کرا سکیں گے اور نہ ہی عدالت سے رجوع کر سکیں گے۔ 60 دن کے بعد نیب عدالت سے مزید 60 دن بڑھو ا سکتی ہے۔ “منی لانڈرنگ بل” کے حوالے سے چرچا ہوتے ہوتے اچانک “اوقاف کنٹرول بل “بھی شامل ہو گیا جس کے تحت مساجد یا مدارس کو کوئی جگہ وقف نہ کی جا سکے گی۔ اگر مسجد یا مدرسہ رجسٹر نہ ہو تو اسے حکومتی تحویل میں لے لیا جائے گا۔ مسجد اور مدرسوں کو مالی امداد دینے والوں کو باقاعدہ منی ٹریل دینا ہو گی۔ اگر مدرسہ یا مسجد مالی امداد دینے والوں کے ریکارڈ اور دیگر اخراجات پر حکومت کو مطمئن نہ کر سکے تو عمارت ضبط ہو جائے گی۔ امداد کرنے والوں کو ذرا سی شکایت پر چھ ماہ تک نا قابل ِضمانت قید میں رکھا جا سکے گا۔ غیر منظور شدہ خطبہ یا تقریر پر امام مسجد کو اٹھایا جا سکے گا اور کوئی عدالت انکی ضمانت لینے کی مجاز نہ ہو گی ۔اہل مدارس اور اہل ایمان کے لئے بس یہی پیغام ہے” اب ہو چکی نماز مصلیٰ اٹھائیے “۔ ہمارے حکمران ریاست مدینہ بنانے سے منحرف ہو کر اتاترک بننے چلے ہیں ۔ ریاست مدینہ کے نعرے پر آنے والوں کو بھولنا نہیں چاہیے کہ غیروں اور گنتی کے لبرل مشیران کی خواہش پر ایسا کرنا پورے معاشرے میں ہیجان کا باعث ہو گا۔ دراصل ہمارے اندر موجود سیکولر عناصر نے موقع سے بھر پور فائدہ اٹھا کر یہ واردات کی ہے۔جبکہ اس سے انکار نہیں کہ مدرسوں اور مساجد کے نظام میں انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت ہے جو کہ علماء اور اہل مدارس کی مشاورت سے کیا جانا چاہیے تھا۔ ماہر معاشیات، ماہر تعلیم، ماہر دفاع اور دیگر مشیر رکھنے والی حکومت نے اتنے اہم معاملے پر اہل مدارس ،علماء اور اہل ایمان کو در خوئے اعتناء ہی نہ سمجھا۔ ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے وہ سیکولر تھے جو دین سے وابستہ ہر چیز سے متنفر ہیں ۔جن کا مقصد حیات ہی ہمارے اسلامی تشخص کو ختم کرنا ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور انشا اللہ اسی نظریے پر قائم رہے گا۔ ہمارے اسلامی نظریات کے خلاف ہمیشہ سے سازشیں ہوتی رہی ہیں مگر الحمداللہ سازشیوں کو ناکامی ہوئی۔ وہ یہ بھول گئے کہ اﷲ سب سے بہتر چال چلتا ہے ۔ اب مذہبی فرقہ واریت کو ہوا دے کر جان بوجھ کر معاملات کو خراب کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے حوالے سے نئے قانون کو استعمال کر کے مذہبی رجحان کو دبایا جا سکے، علماء کی گرفتاریاں کی جا سکیں اور سیکولر زم اور لبرزم کو فروغ دیا جا سکے۔ ادھر ہمارے مذہبی رہنما معاملے کی حساسیت اور اہمیت سے بے خبر اس آگ کا ایندھن اپنی شعلہ بیانیوں سے بڑھا رہے ہیں۔ ایف اے ٹی ایف کے ذریعے “اینٹی ٹیررازم بل” میں جس کو چاہیں دہشت گردی کے الزام میں اٹھا لیا جائے گا، عدالتوں کا عمل دخل واجبی سا کر دیا گیا ہے ۔اس طرح جو حکومت کے اپنے مفاد کے خلاف کام کر رہا ہو گا اس پر دہشت گردی کا الزام لگا کر قید خانوں کی زینت بنا دیا جائے گا۔
ہماری اسلامی تاریخ میں بار ہا ایسے ہو چکا ہے جب حکمرانوں نے غیروں کے ہاتھوں میں اپنی تقدیر تھمائی اور اپنی عوام پر ظلم و ستم ڈھائے تو وہ اغیار کو خوش رکھ سکے نہ ہی عوام کو۔ ہر دفعہ “ڈومور” جیسی ایک فرمائش کی جاتی حتی کہ “ڈومور” کرنے کے لئے کچھ بچتا ہی نہیں۔ ا سپین کے آخری مسلمان حکمران ابو عبداللہ نے بغیر لڑے اپنا اقتدار چھوڑا کیونکہ وہ بزدل حق کی خاطر لڑنا نہیں چاہتا تھا۔ مغل بادشاہوں کے ساتھ بھی انگریزوں نے ایسی ہی چالیں چلیں۔ آخری مغل بادشاہ کو اپنے وطن میں دفن ہونے کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی۔ ایسا ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے ساتھ بھی کیا گیا۔ مشیروں کے ذریعے اپنے مفاد میں قوانین تبدیل کرواتے اور بلآ خر انگریز اس ریاست پر قابض ہو جاتے۔ اسی طرح ترکی کے سلجوق بہت جری اور جنگجو حکمران تھے۔ آہستہ آہستہ عیاشیوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر کمزور پڑ گئے اور منگولوں کے آگے مضبوط دفاع نہ لا سکنے کے باعث جھکتے گئے۔ شروع میں منگولوں نے ان کمزور بادشاہوں کے ذریعے حکومت کی مگر بعد میں نمائشی طور پر بھی یہ بادشاہ انہیں قبول نہ رہے۔ دنیا میں ایسے ہی ہوتا آیا ہے کہ جب آپ دوسروں پر اپنی کمزوری اور بزدلی ظاہر کردیں تو اگلا آپ پر چڑھ دوڑتا ہے۔ جنگ سے بچنے کی خواہش رکھنے والے بزدلوں پر آخر کار جنگ مسلط کر دی جاتی ہے کہ جنگ کے لئے تیار رہنا اور جنگ سے خوفزدہ نہ ہونا ہی سب سے بڑا “ڈیٹرنس” ہے۔
حکمران کا کام تو دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر قوم کے جذبات کی عکاسی اور ترجمانی کرنا ہے ۔قوم کو عزت و وقار اور آزادی کے لیے ہمہ وقت تیار رکھنا اور حوصلہ بڑھانا ہے۔ مشکل وقت اور حالات کا بے جگری سے مقابلہ کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ آج ایف اے ٹی ایف کی وجہ سے ہم گرے لسٹ میں ہیں تو کیا ہو گیا؟ یہ گرے لسٹ بلیک لسٹ دراصل ہمارا بازو مروڑنے کی چال ہے۔ اب گرے لسٹ کی تلوار ہماری گردن پر لٹکتی ہی رہے گی۔ کچھ عرصے کے لیے اس میں سے نام نکال بھی دیا گیا تو کیا ضمانت ہے کہ دوبارہ نہیں ڈالا جائے گا؟ جیسے ہندوستان جھوٹے الزام لگاتا ہے اور امریکہ اس کو بڑھاوا دیتا ہے ،ایسا الزام دوبارہ پاکستان پر لگانا کیا ممکن نہیں؟ ہمیں سوچنا چاہیے کہ اگر ہم بلیک لسٹ کر دیئے جائیں تو آخر کیا ہو گا؟ کون سا پہاڑ ہم پہ ٹوٹے گا؟ کیا قیامت آ جائے گی جس سے بچاؤ کے لئے ہماری قوم کی عزت و وقار اور اسلامی تشخص کا سودا کیا جا رہا ہے؟ یہ کیسا “منی لانڈرنگ بل “ہے؟یہ کیسی قانون سازی ہے کہ باہر سے اگر رقوم آئیں تو تفتیش کا دائرہ کار بڑھا کر غیر ممالک کے اختیار تک پہنچا دیا گیا ہے مگر اگر ہمارے ملک پاکستان سے رقم باہر جائے تو وہ اس زمرے میں نہیں آئے گی؟ یعنی اگر بھتہ ، کک بیکس،کمیشن اور ناجائز ذرائع سے لوٹی ہوئی دولت باہر سوئس بینکوں میں رکھنا ہو تو کوئی پوچھ گچھ نہیں۔ دراصل یہ سب ڈھونگ ہے پاکستان کے ہاتھ پیر باندھنے کے لئے ! ورنہ بلیک لسٹ میں ہمیں وہ ڈالیں گے نہیں اور گرے لسٹ سے ہمیں نکالیں گے نہیں ! بلیک لسٹ ہونے سے شاید ہمارے حق میں کوئی بہتری ہو جائے۔ ایل سی نہ کھل سکے گی تو کیا ہم امپورٹڈ اشیاء کے بغیر مر جائیں گے ؟ ہم توعزت کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے اور ہمیں قرضوں کی ادائیگی بھی نہ کرنی پڑے گی جن کے باعث آج تک ہماری معیشت زبوں حالی کا شکار ہے۔ ویسے بھی قومیں مشکلات کا سامنا کرنے ہی سے بنتی ہیں۔ اگر ہم نے دنیا میں طفیلی اور معذور ریاست ہی بن کے رہنا تھا تو 1947میں آزادی کس لیے حاصل کی تھی؟ ہم آزاد ہیں اور آزاد ہی رہیں گے اپنے نظریات پر عمل کرتے ہوئے انشاءاللہ۔
؎ تھا جوابِ صاحبِ سینا کہ مسلم ہے اگر
چھوڑ کر غائب کو تُوحاضر کا شیدائی نہ بن
تحریر: عظمٰی گل دختر جنرل حمید گل
Whatsapp: 0313-8546140

اپنا تبصرہ بھیجیں