امارات، بحرین کے اسرائیل کیساتھ امن معاہدے پر دستخط : فلسطینیوں کا احتجاج، راکٹ حملے

متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اسرائیل کے ساتھ تاریخی امن معاہدے پر دستخط کر دئیے ۔ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف بن راشد اور اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کی موجودگی میں معاہدے پر دستخط کیے ۔دستخط کرنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو ،امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید، بحرین کے وزیر خارجہ عبداللطیف نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی ۔معاہدے پر دستخط کے بعد امارات کے وزیر خارجہ نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کی مدد کے بغیر یہ معاہدہ نا ممکن تھا،انہوں نے کہاپرامن اور مستحکم مستقبل ہر کسی کی خواہش ہے ، مشرق وسطیٰ میں امریکی سرگرمی ہمیشہ سے مثبت رہی ۔اسرائیل کے ساتھ تعلقات سے فلسطینیوں کی حقوق اور الگ ریاست کی جدوجہد متاثر نہیں ہوگی،یہ معاہدہ مشرق وسطی ٰکی ترقی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔اس موقع پر بحرینی وزیر خارجہ نے کہایہ معاہدہ اسرائیل فلسطین امن کی راہ ہموار کرے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا آج کا دن دنیا اور امن کے لیے بہت بڑا دن ہے ، مشرق وسطیٰ کے شہری امن واستحکام سے رہ سکیں گے ،معاہدے کو مشرق وسطیٰ کے لیے نئی شروعات قرار دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا دہائیوں کے تنازعات اور تقسیم کے بعد ہم ایک نئے مشرق وسطیٰ کی شروعات کا نظارہ کر رہے ہیں۔معاہدے پر دستخط سے پہلے امریکی صدرنے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہامشرق وسطیٰ کے ممالک تنازعات کی صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں مزید پانچ ،چھ عرب ممالک ابراہم اکارڈ کیلئے تیارہیں،ٹرمپ نے کہا سعودی فرمانروا شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی بہت مفید گفتگو ہوئی ہے ، کچھ دنوں میں بہت اچھی باتیں سامنے آئیں گی۔نیتن یاہو نے کہاقیام امن کی کوششیں عرب اسرائیل تنازع کے خاتمہ کی ضامن ہیں۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیلی قبضے کے خاتمہ کے بغیرخطے میں امن نہیں ہوسکتا۔معاہدے پر دستخط کی تقریب وائٹ ہاوس کے اسی جنوبی لان میں ہو ئی جہاں 1993 میں اسرائیل اور فلسطینی قیادت نے اوسلو معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر سمیت 700افرادنے تقریب میں شرکت کی ۔اسرائیل کیساتھ ہونے والا یہ امن معاہدہ انگلش، عربی اور عبرانی زبان میں لکھا گیا۔ عرب نیوز کے مطابق ابراہم اکارڈ پر امارات اور بحرین کے دستخط کے بعد اسرائیل سے مکمل سفارتی تعلقات رکھنے والے عرب ممالک کی تعداد4ہوگئی ،واضح رہے مصر اور اردن پہلے ہی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔اے پی کے مطابق تینوں ممالک نے اسی دوران ایک سہ فریقی معاہدے پر بھی دستخط کیے جس کا مسودہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔اُدھر قطر نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا امکان مسترد کر دیا۔امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر فلسطینیوں کے حامی درجنوں مظاہرین نے وائٹ ہاؤس کے باہر مظاہرہ کیا۔دریں اثنافلسطینی جنگجوؤں کے اسرائیلی علاقے میں راکٹ حملوں کے نتیجے میں13 افراد زخمی ہو گئے ۔ نیوز ایجنسی کے مطابق راکٹ اسرائیلی قصبوں اشدود اور عسقلان میں گرے ۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین کیساتھ اسرائیل کے امن معاہدوں کے خلاف سینکڑوں فلسطینیوں نے نابلس، رملہ اور الخلیل میں مظاہرے کئے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے فلسطین کا پرچم لہراتے ہوئے مارچ کیا، اس موقع پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کی تصاویر پاؤں تلے روندی گئیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں