آسماں تک کی بلندی ۔تحریر عظمٰی گل دختر جنرل حمید گل

آسماں تک کی بلندی!

ہندوستان پھر مار کھا گیا. 31 اگست کو ہندوستانی فوج اپنی ڈوبتی ہوئی ساکھ اور عزت بچانے کی خاطر اور 15جون کی ذلت آمیز شکست کا بدلہ لینے کے لیے ایک بار پھر چینی فوج سے رقبہ چھڑانے میں ناکام ہوگئی۔ ویسٹرن سیکٹر کمانڈ اور” ریکن پاس” کے علاقے میں داخل ہوکر ہندوستان کی کمانڈو فورس سپیشل فرنٹیئر فورس کی” وکاس بٹالین” نے چینیوں سے کچھ مقامات واپس لینے کی ناکام کوشش کی۔ ہندوستانی رپورٹ کے مطابق اس ایکشن میں ایک کمانڈو مارا گیا اور دو زخمی ہوے ہیں۔ کچھ ایسی ہی رپورٹ جون والے واقعے پر بھی جاری کی گئی تھی مگر بالآخر میڈیا کے دباؤ پر 20 فوجی مارے جانے کا اعتراف کرناپڑا۔ اب بھی مارے جانے والوں کی اصل تعداد سے متعلق خاموشی ہے دیکھیں آگے کیا بھید کھلتے ہیں؟ ہندوستان نے فوراً اعلان کردیا کہ 29/ 30 اگست کی رات کو چینی فوجیوں نے ان کے مزید رقبے پر قبضہ کرکے وہاں تعمیرات شروع کر دی تھیں اور جواباً انہیں یہ اقدام اٹھانا پڑا۔ اگر ان کا مؤقف سچ مانا جائے تو یہ خبر بر وقت میڈیا پر نشر ہوتی مگر پہلی خبر 31 اگست کو شائع ہوئی اور اس میں 31 اگست کو ہی کیے گئے کمانڈو ایکشن کی کامیابی کی اطلاع تھی۔ جس کا مطلب تو یہ ہوا کہ 31 اگست کو ہونے والے ایکشن میں کامیابی کی خبر ایک رات پہلے ہی جاری کر دی گئی تاکہ اپنے عوام کو ایک بار پھر جھوٹ سے بہلایا جا سکے۔ ہندوستان کی حکومت جھوٹے بیانیے دینے کی ماہر ہے اور اسکا میڈیا اس قدر متعصب ہے کہ وہ خبر دیتے ہوئے اس میں توازن کا خیال بھی نہیں رکھتے۔ بسا اوقات وہ ڈرامائی انداز میں مضحکہ خیز حد تک جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ ہندوستانی حکومت جھوٹ اور لغو بیانیوں کے سہارے اپنی عوام کو دنیا کی سپر پاور بننے کے خواب دکھاتی ہے،کبھی” چمکتے ہوئے ہندوستان” کے نعروں کے ذریعے، کبھی پوری دنیا میں بت پرستی پھیلانے کے خواب دکھا کر اورکبھی پاکستان،چین جیسے ممالک کو عبرتناک شکست دینے کے وعدوں پر۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان میں ” موذی” حکومت اپنے جنون کے باعث باقی تمام معاملات سے بے پرواہ ہو چکی ہے، ان سے تو ایک کرونا ہی کنٹرول نہیں ہو پارہا۔ 90 ہزار 600 سو لوگوں کا ایک دن میں کرونا سے متاثر ہونا باعث تشویش ہے۔ پوری دنیا کا سب سے زیادہ کرونا سے متاثر لوگوں کا ریکارڈ رکھنے والے ملک کو پہلے اپنے عوام کی فلاح بہبود کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا کر پاکستان اور چین مخالفت کے ڈھول پیٹنے کی۔ ہندوستان کی معیشت کی ترقی کی شرح نمو کی بڑھوتری گر کر پچھلے 40 برس میں پہلی مرتبہ منفی میں جا پہنچی ہے، ایسےمیں “موذی “حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمان آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے لئے اب تک نو لاکھ ہندوؤں کو ڈومیسائل جاری کر چکی ہے۔ خود کوخطے کی سپر پاور بنانے، پاکستان اور چین کو نیست و نابود کرنے کی خاطر، اپنے دفاعی اخراجات بے انتہا بڑھاتے جا رہے ہیں۔ عوام بنا علاج اور بھوک سے مر رہے ہیں مگر “موذی” حکومت کو کوئی پرواہ نہیں ۔اس وقت عالمی مارکیٹ میں ہندوستان اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔5 نئے فرانسیسی رافیل جہازوں کی آمد پر ہندوستانی عوام میں اس قدر ڈھنڈورا پیٹا گیا جیسے ان پانچ جہازوں سے دنیا ہی فتح کر بیٹھیں گے۔ پاکستان اور چین سے نفرت اور دشمنی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ17تا 27 ستمبر2020 کو ہونے والی مشترکہ روسی فوجی مشقوں میں بھی اسنے شامل ہونے سے معذرت کر لی اور عزر دیا کہ چونکہ پاکستان اور چین ان مشترکہ مشقوں کا حصہ ہوں گے لہذا ہندوستان اس میں شامل نہیں ہوگا۔ یہ مشقیں چار سال بعد پہلے 2012 میں، پھر 2016 میں اوراب 2020 میں ہو رہی ہیں۔ہندوستان پہلے ان مشقوں میں باقاعدہ شامل رہ چکا ہے۔ ادھر ہمارا یہ حال ہے کہ ہم نے ہندوستان کی سلامتی کونسل کی سیٹ جیتوانے کے لیے خود اس کے حق میں ووٹ ڈالا اور باقی ممالک کو بھی ووٹ ڈالنے سے روکنے کی کوشش نہ کی۔جواز دیا گیا کہ یہ وعدہ ہندوستان سے 2013 میں پچھلی حکومت نے کیا تھا اس لئے ہم پابند تھے۔ ہماری حکومت تو پچھلی حکومت کی کارکردگی پر کبھی تنقید کرنے سے چوکتی نہیں مگر کمال ہےکہ پانچ اگست2019 کے مقبوضہ کشمیر والے واقعے کے بعد بھی ہندوستان کے لیے ووٹ ڈال دیا۔ کوئی احتجاج کسی قسم کا دباؤ یا سودے باذی اس پر نہ کی ایسے جیسے 5اگست کا کوئی واقعہ ہی نہ ہوا ہو۔
ہندوستان امریکہ اور اسرائیل کے برتے پر بہت اچھل رہا تھا مگر حالات نے ثابت کر دیا کہ کوئی بھی ملک چین کے خلاف کھل کر ان کی مدد کو نہ آئے گا۔ امریکہ نے جیسے چین کے خلاف صرف زبانی احتجاج پر ہی اکتفا کیا اور جس طرح سے باقی ممالک بھی چین کی بڑھتی ہوئی معیشت اور فوجی طاقت کا ادراک کر کے دبے لفظوں میں احتجاج کر کے خاموش ہیں، جلد ہی یہ سب ہندوستان کو ایسے اندھے کنویں میں دھکیلنے کا باعث بنیں گے جو ہندوستان کے لئے” نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن “ہوگا۔ چین کے صدر شی جن پنگ کی چین کے مستقبل کے حوالے سے فلاسفی اور سوچ پر بہت تیزی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔ ان کی اس بصیرت کا سب سے اہم پہلو چین کا اس خطے کے بارے میں” اسرٹیو پالیسی” یا قطعیت ہے۔ تائیوان اور ہانگ کانگ کے حوالے سے بھی باوجودکہ تائیوان کو امریکہ نے 62 بلین ڈالر کے عوض 66 عدد F-16 “وائپر” دینے کا معاہدہ کیا،چین نے سخت ترین الفاظ میں ردعمل دیا ہے کہ ان جہازوں کو اترنے اور پرواز کرنے کے لیے زمین تک میسر نہ ہوگی۔ چین کی پیپلز لبریشن آرمی 2049 تک دنیا کی جدید ترین ہتھیاروں سے مزین، بہترین تربیت سے لیس، فوج بننے کے مشن پر گامزن ہے۔ نہ صرف چینی350 بحری جنگی جہاز بمقابلہ 293 امریکی جہازوں کے بلکہ جنگی صلاحیت و تربیت کے حوالے سے بھی اس وقت انکی سب سے بہترین بحری فوج ہے۔ انکے بیلسٹک میزائل سب میرین جہاز بھی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں،جو چین کے جنوب میں سمندر میں بڑھتی ہوئی سازشوں کا سدباب کرنے کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں۔
‏ پاکستان کے لیے اس وقت اس سے بہترین موقع نہیں ہو سکتا کہ وہ چین کے ساتھ مل کر خطے کے بارے میں باقاعدہ حکمت عملی تیار کرے۔ خاص طور پر جبکہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلاء شروع ہو چکا ہے اور ہندوستان کے اندرونی سیاسی، معاشی ،معاشرتی اور مذہبی معاملات “موذی” حکومت کے کنٹرول سے باہر نکل چکے ہیں۔ امریکی صدر ایسے وقت میں جب ان کے سر پر الیکشن کھڑے ہیں اور انکے دوبارہ جیتنے کے آثار دن بہ دن معدوم پڑتے جا رہے ہیں۔ وہ اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں اور ایسے میں اپنے آپ کو فلوقت دلدل میں نہیں پھنسائیں گے ۔موسم تیزی سے سرد ہورہا ہے۔ جلد ہی برف پڑ جانے کے بعد ہندوستانی فوج کوئی خاطر خواہ مشن چینی افواج کے خلاف کرنے سے قاصر ہو جائے گی۔ اسی دوران چینی فوجی بھی اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکیں گے۔ لداخ ایک ایسا رقبہ ہے جو نہ صرف قدرتی وسائل سے محروم ہے بلکہ اس میں آبادی بھی بہت کم ہے۔ دونوں ممالک کی اس میں دلچسپی صرف اس کے محل وقوع کی وجہ سے ہے۔وہاں سے مختلف پہاڑوں پر قابض افواج دوسرے ملک کی آمدورفت پر نظر رکھ سکتی ہے بلکہ ان کے سامان رسد کی ترسیل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ یعنی ایسے ہی وہاں سے قریب” سلی گوری” راہداری پر قبضہ ہونے کی صورت میں ہندوستان کا اپنی آٹھ ریاستوں سے رابطہ منقطع کیا جا سکتا ہے۔ جہاں پہلے سے چلتی ہوئی آزادی کی تحریکیں زور پکڑتی جارہی ہیں۔ ادھر اگر ہندوستان آپ نے “دولت بیگ اولڈی”ایئرپورٹ سے آگے سڑک مکمل کرلے اور قراقرم پاس پر قبضہ کر لے تو سی پیک راستہ بند کر سکتا ہے۔ سی پیک میں شامل تمام ملکوں کے مفاد میں یہی ہے کہ ہندوستان کا رستہ قبضہ کر کے بند کرنے کا امکان مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ اس وقت پاکستان ہمت کرکے دانشمندانہ فیصلہ کر لے کہ وہ دو کشتیوں میں سوار نہیں ہو گا اور صرف اپنے وسیع تر قومی مفاد میں فیصلہ کرے گا، تو آسمان تک کی بلندی اس کی منتظر ہوگی۔ ان شاء اللہ

؎ عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
تحریر: عظمٰی گل دختر جنرل حمید گل
WhatsApp: 0313-8546140

اپنا تبصرہ بھیجیں