مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج لوٹ مار میں ملوث:برطانوی جریدہ

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی دکانیں لوٹنے ،خواتین و مردوں پر تشدد کرنے میں ملوث ہیں، بدترین پابندیاں نافذ ہیں لیکن حکومت ڈھٹائی سے جھوٹ بولتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے و الے بھارت کے سابق وزیر 82 سالہ سیف الدین سوز بھی قابض انتظامیہ کے مظالم کا نشانہ ہیں اور انہیں گھر میں نظر بند کر کے رکھا گیا ہے ، لیکن بھارتی حکومت نے سپریم کورٹ میں اس بارے سفید جھوٹ بولا۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کی رپورٹ کے مطابق سیف الدین مقبوضہ کشمیر کی بھارتی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے تھے ، وہ منموہن سنگھ حکومت میں پانچ سال تک وزیر بھی رہے ۔ 5 اگست 2019 میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد پولیس نے سیف الدین سوز کو پابند کیا کہ وہ گھر میں رہیں۔ان کے اہلخانہ نے رہائی کیلئے عدالتوں سے رجوع کیا، لیکن سپریم کورٹ نے ان کی درخواست مسترد کر دی، کیونکہ عدالت کو بتایا گیا کہ سیف الدین سوز کو کبھی گرفتار کیا گیا، نہ ہی وہ گھر میں نظر بند ہیں۔ مقامی صحافیوں نے جب اس خوشخبری پر ان کا ردعمل جاننے کی کوشش کی، ابھی وہ گھر کی باڑ سے کچھ کہنے کی کوشش میں تھے کہ فوجیوں نے انہیں پیچھے ہٹا دیا۔ عدالت میں حکومت کے سفید جھوٹ سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں من مانی کیلئے کسی بھی حد تک جا نے کو تیار اور انسانی حقوق کی پامالی میں ہر خاص وعام کیلئے ایک ہی سوچ رکھتی ہے ۔ مقبوضہ ریاست کی خصوصی حیثیت بی جے پی کے ہندو قوم پرستوں کو ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ خطے میں سیاسی سرگرمیاں اور بیشتر شہری حقوق معطل ہیں اور ایک سال گزرنے کے بعد بھی بحالی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اس تبدیلی سے قبل پانچ لاکھ سے زائد فوج کشمیر میں تعینات کی گئی، گزشتہ سال نئے نظام کے نفاذ کیلئے مزید 35 ہزار فوجی بھیج دیئے ۔ تاہم بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ عام کشمیریوں نے کبھی احتجاج نہیں کیا، مگر سیف الدین سوز کی ویڈیو فوٹیج کچھ اور کہانی بیان کرتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں جس طرح کے قوانین نافذ ہیں، دیگر ریاستوں میں کہیں دکھائی نہیں دیتے ۔ 29 اگست کو محرم کا جلوس روکنے کیلئے پولیس نے شاٹ گنوں سے فائرنگ کی جس میں درجنوں افراد زخمی ہوئے ، بعض بینائی سے محروم ہو گئے ۔ کشمیر بھر میں سینکڑوں بنکر دیکھے جا سکتے ہیں۔ شاہراہوں پر بم پروف فوجی بکتر بند گاڑیاں سول گاڑیوں کو روک دیتی ہیں، چیک پوسٹوں پر ڈرائیوروں کو کئی کئی گھنٹے روکے رکھتی ہیں، عموماً ایسا طویل فوجی قافلوں کے گزرنے کے موقع پر کیا جاتا ہے ۔ متعدد ظالمانہ قوانین کی وجہ سے سکیورٹی سروسز کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے ، پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت وہ کسی کو بھی حراست میں لے سکتے ہیں۔ مئی کی ایک فوٹیج میں پولیس اور فوج کو مقبوضہ کشمیر کے ایک گاؤں میں مرد و خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتے ، دکانیں لوٹتے اور گلیوں میں سامان کو آگ لگاتے دیکھا گیا۔ اس حرکت کو جوابی کارروائی کہا گیا کہ ایک سینئر افسر کو کسی نے پتھر مار دیا تھا۔ فوٹیج منظر عام پر نہ آئی ہوتی تویہ واقعہ دنیا کے سامنے کبھی نہ آتا۔ اس فوٹیج نے حکام کو ہر قسم کی اطلاعات کو نشر ہونے سے روکنے کا موقع دیا۔ جون میں نئی میڈیا پالیسی متعارف کرائی گئی،جس کے تحت‘‘ملک دشمن’’سمجھی جانیوالی رپورٹس کی اشاعت پر کارروائی ہو سکتی ہے ۔ کشمیریوں کو نئی تشویش بھارت ودیگر علاقوں سے کشمیرنقل مکانی کرنیوالوں سے ہے جس سے اپنے آبائی وطن میں وہ ایک اقلیت بن سکتے ہیں۔ مودی حکومت نے کشمیریوں کی خدشات دور کرنے کے بجائے نئے مندر کا سنگ بنیاد رکھ کر کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے کی سالگرہ منانے کو ترجیح دی، جوکہ ایک مسجد کی جگہ پر بن رہاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں