اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد
تحریر:نوشابہ یعقوب راجہ

حضرت امام حسین کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے انھوں نے اپنا سر کٹوا دیا مگر ظلم کے آگے جھکایا نہیں۔اگر ہمیں ان سے حقیقی محبت ہے تو ان کی محبت تقاضا کرتی ہے معاشرے کے ہر ظلم اور ناانصافی کے سامنے مضبوط چٹان بن کر کھڑا ہوا جائے۔ہر طاقتور اور جابر کے سامنے کلمہ حق بلند کیا جائے چاہے اس کے لیے اپنی جان کا نذرانہ ہی کیوں نہ دینا پڑے۔حق کا رستہ اختیار کرنا اور ہر قسم کی قربانی دینا ہی اصل محبت حسین ہے اصل مقصد حسین ہے کیونکہ
قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

تاریخ اسلام بتاتی ہے اللہ سے دوستی اور محبت کا دم بھرنے والے ہر قدم پر ثابت قدم رہے۔حضرت ابراہیم کی مثال لی جائے تو کبھی ماں باپ کو چھوڑنا اور کبھی بے خطر آتش نمرود میں کود پڑنا اور کبھی مکہ کی بیابان وادیوں میں اپنی ہر دلعزیز بیوی اور بچے کو اللہ کے آسرے پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔اور پھر اذن الہی سے اسے ذبح کرنے کے حکم کی بجا آوری لائی جاتی ہے۔پھر کبھی حضرت موسی کو فرعون کے محل میں پرورش دلوا کے فرعون کے روبرو کھڑا کر دیا جاتا ہے۔کبھی وہ انھیں حضرت شعیب سے ملوا کر وہاں دس سال قیام کا حکم دیا جاتا ہے ایک مدت کے بعد جب اپنی بیوی کے ہمراہ واپس لوٹتے ہیں تو آگ جلتی دیکھتے ہیں تو آگ لینے جاتے ہیں تو کوہ طور کے مقام پر اللہ رب العزت ہم کلام ہوتے ہیں اور حضرت موسی کو نبوت عطا کرتے ہیں۔اور واپس فرعون کی جانب بھیج دیا جاتا ہے۔غرضیکہ ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی اور پیغمبر اللہ تعالی نے معبوث فرمائے ۔جن کا سلسلہ ہمارے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوا 40 سال صادق اور امین کی زندگی گزروا کر نبوت عطا کی جاتی ہے شعیب ابی طالب کی گھاٹی میں تین سال شدید مشکلات میں رکھوا کر سارے مشکل امتحانات لیکر مدینہ کی جانب ہجرت کروائی جاتی ہے ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور غزوہ بدر ،احد ،خندق لڑوا کر فاتح مکہ بنایا جاتا ہے اور فتح مکہ کے دن تمام دشمنوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جا تا ہے اور اس 63 سالہ شاندار زندگی کو اللہ نے ہمارے لیے مشعل راہ بنایا اور فرمایا “بے شک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمھارے لیے بہترین نمونہ ہے” حضرت امام حسین اور امام حسن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ اور بہت ہی عزیز چچازاد اللہ کے شیر اور فاتح خیبر حضرت علی کی اولاد تھےاور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حد عزیز تھے ان کی پرورش نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں ہوئی حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی شاندار تعلیم و تربیت نے انھیں پروان چڑھایا ۔پھر حضرت امام حسن کسی جابر کے آگے کسطرح جھک سکتے تھے۔انھوں نے اللہ سے محبت کا ہر دعوی سچ کر دکھایا اور اپنے خاندان سمیت خود کو بھی اللہ کی راہ میں قربان کر دیا۔ان کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے دنیا کے ہر جابر حکمران، طبقے اور فرد کے آگے ڈٹ جانا اور انصاف کی جنگ لڑنا اور انصاف کا قیام حقیقی زندگی کا نصب العین ہونا چاہیے ۔لیکن ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم امام حسین سے محبت کا دعوی تو بہت کرتے ہیں مگر جب حق کے راستے میں قربانیوں اور دشواریوں کو عبور کرنے کی بات آتی ہیں تو وقت قیام کے وقت ظلم کے آگے سر بسجود ہو جاتے ہیں ۔دنیا میں ان سے حقیقی محبت کا ثبوت دینے کے لیے کربلا سجانی پڑتی ہے اور بووقت ضرورت گردن بھی کٹانی پڑتی ہے۔ظلم کے آگے سر تسلیم خم کرنے سے امام حسین سے محبت کا حق ادا نہیں ہوتا جنت کے سرداروں کے نقش قدم کی پیروی ضروری ہے۔عارضی فائدے اور بے وفا زندگی کے لیے اللہ کی رضا کو نہیں چھوڑا جا سکتا۔
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا
وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے
اس جان کی تو کوئی بات نہیں!!!

اللہ ہمیں جنت کے سردار امام حسین کے نقش قدم پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین ثم آمین
#پیغام_محرم

اپنا تبصرہ بھیجیں