پی آئی اے اور اوورسیز ۔تحریر ملک منیر احمد

کرونا وائرس پوری دنیا کے لئے ایک عذاب بن کر نازل ھوا ھے مگر اوورسیز پاکستانیوں کے لئے تو عذاب عظیم بن گیا ھے پاکستان جانا یا وہاں سے آنا مشکل ھوگیا تھا پی آئی اے نے اس موقع پر اوورسیز پاکستانیوں کو لوٹنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نھیں دیا ایسے لگتا ھے کہ پی آئی اے اپنا خسارہ اوورسیز پاکستانیوں سے پورا کرنے کی کوشش کررھی ھے پاکستان آنے جانے کے لئے خصوصی پروازوں کا اہتمام کیا گیا تو مہنگے داموں پر بیرون ممالک پاکستانی چیخ و پکار کرتے تھے مگر مجال ھے کہ ان کی کہیں پر شنوائی ھوئی ھو جو لوگ پی آئی اے کی ریٹرن ٹکٹس لے کر گئے ھوئے تھے ان کی ٹکٹوں کو کنسیڈر ھی نھیں کیا گیا انھیں کہا گیا کہ نئی ٹکٹیں خریدیں اور وہ بھی یکطرفہ اور ان کی ھوشربا قیمتیں رکھی گئیں مجبور لوگ ایک لاکھ تیس ھزار روپے سے لیکر ایک لاکھ ساٹھ ھزار روپے تک کی ٹکٹ خریدنے پر مجبور ھوئے اب پھر پیرس سے ایک اور فلائٹ پاکستان جارھی ھے جس کا یکطرفہ کرایہ 800 یورو رکھا گیا ھے اور وہ بھی یکطرفہ یہ ظلم کب تک چلتا تھے گا فرانس میں اکثریت لوگ مزدور پیشہ ھیں اور یہاں پر ایک شخص کی ماہانہ بنیادی تنخواہ 11 یا 12 سو یورو ھے اب ایسا آدمی اگر پاکستان اپنے عزیز و اقارب یا اہل خانہ کے ساتھ عید منانا بھی چاھے تو صرف جانے کا کرایہ ھی اس کے قدموں کی زنجیر بن جائے گا واپسی پر اللہ جانے اسے کتنا کرایہ دینا پڑے گا پی آئی اے کے ارباب اختیار سے درخواست ھے کہ ازراہ کرم ھم پر اتنا ظلم نہ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں