چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی، وزیر خارجہ

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان میں تحقیقاتی رپورٹیں دبانے کا رواج لیکن موجودہ حکومت نے روایت بدل دی، چینی بحران کے ذمہ داروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہوگی۔

ملتان میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جان بوجھ کر لداخ میں کنسٹریکشن کا آغاز کیا جس پر چین کو شدید تحفظات ہیں۔بھارت نے چالاکی سے لداخ میں کام کرنے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت یا کسی اور کو پسند ہو نہ ہو، سی پیک محفوظ اور گیم چینجر ہے۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ جن کی وجہ سے عوام کو مہنگی چینی ملی، انھیں حساب دینا ہوگا۔ شوگر کمیشن رپورٹ معاملے پر انصاف ہوگا، اس میں جو لوگ بھی ملوث ہیں ان کیخلاف ایف آئی اے حرکت میں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی حکومت جس نے کمیشن کی رپورٹ کو دبایا نہیں بلکہ پبلک کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی مالی مشکلات سب کے سامنے ہے ایکسپورٹ گری ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود پٹرول، ڈیزل کی قیمتوں کو کم اور بجلی بلوں میں ریلیف دیا گیا۔ مالی مشکلات کے باوجود بجٹ میں نچلے طبقے کو ریلیف دیں گے۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ تاہم جب تک صوبائی حکومتیں تعاون نہیں کریں گی پاکستانیوں کو لانا ممکن نہیں ہے۔ بہت سارے پاکستانیوں کے ویزے ختم ہو چکے ہیں۔ وفاقی حکومت کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں، صوبائی حکومتوں کا تعاون درکار ہے۔

پاکستانی آئین میں تمام اقلیتوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں جبکہ دوسری جانب بھارت میں مسلمان، سکھ، عیسائی اور دلت ہندوتوا پالیسی سے تنگ ہیں۔ بھارت میں کروڑوں لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ بھارت اپنے آئین کی پاسداری بھی نہیں کر رہا۔ بھارتی میڈیا نے بھی مسلم اقلیتی حقوق کی پامالی پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارتی مسلمانوں سے زیادتی کے باوجود پاکستان میں ہندوؤں کو اقلیتی کمیشن کا سربراہ بنایا۔ پاکستان نے کرتارپور راہداری سمیت تمام اقلیتی مذہبی مقامات کو تحفظ دیا۔ کاش کہ بھارتی مسلمان بھی اپنے مذہبی مقامات کے تحفظ پر مطمئن ہوتے۔ تاریخی بابری مسجد کی شہادت پر بھارتی سپریم کورٹ خاموش تماشائی بنی رہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں