کورونا وائرس: پاکستان میں ایک روز کے دوران ریکارڈ 78 افراد جاں بحق

پاکستان میں کورونا کے متاثرین تیزی سے بڑھنے لگے، ملک بھر میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 66 ہزار 457 تک پہنچ گئی جبکہ ایک دن میں ریکارڈ 78 افراد جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک بھر میں اموات کی تعداد ایک ہزار 395 ہو گئی، سندھ میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 2429 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔ 24 گھنٹوں کے دوران 12 ہزار 20 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 24 ہزار 131 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ کئی مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ ملک بھر میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار 37 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے۔

کیسز کے حوالے سے بات کی جائے تو پنجاب میں 24 ہزار 104، سندھ میں 26 ہزار 113، خیبر پختونخوا میں 9 ہزار 67، بلوچستان میں 4 ہزار 87، گلگت بلتستان میں 660، اسلام آباد میں 2 ہزار 192 جبکہ آزاد کشمیر میں 234 مصدیقہ کیسز ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 78 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 395 ہوگئی۔

صوبوں میں مرحلہ وار بات کی جائے تو سندھ میں 427، پنجاب میں 439، خیبر پختونخوا میں 445، گلگت بلتستان میں 9، بلوچستان میں 46 اور اسلام آباد میں 23 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ملک بھر میں کورونا وائرس 66457 کے مصدقہ کیسز ہیں جبکہ 40931 افراد اس وقت زیر علاج ہیں جبکہ 24131 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 462 ہسپتالوں میں قائم قرنطینہ مراکز مریضوں کا علاج جاری ہے، ان ہسپتالوں میں 7295 بیڈز کا بندوبست کیا گیا ہے۔

متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے، ہسپتالوں میں جگہ نہیں: ڈاکٹر یاسمین راشد

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ کورونا مریضوں کی معلومات فراہمی کیلئے ویب سائٹ بنا دی، ایپ میں ہر ہسپتال میں دستیاب طبی سہولتوں کی تفصیل موجود ہوگی، صوبے میں وائرس سے متاثر افراد کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے، ہسپتالوں میں جگہ نہیں رہی۔

وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ ایپ میں ہر ہسپتال میں دستیاب طبی سہولت سے متعلق تفصیل موجود ہے، کورونا ٹیسٹ مثبت آنیوالے ریسکیو 1122 سے رابطہ کرسکتے ہیں، کورونا کے مریض کو بیڈ کیلئے انتظار نہیں کرنا پڑے گا، کورونا کی روک تھام کیلئے مکمل اقدامات کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر لاہور کیلئے الگ کنٹرول روم بنایا ہے، ہمیں کورونا کے ساتھ ہی زندہ رہنا ہے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا لوگوں میں شعور پیدا کرنے کیلئے حفاظتی تدابیر بتائی جائیں گی، امریکا جیسے ملک میں بھی لوگ روٹی کھانے کیلئے لائنوں میں کھڑے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں غریب آدمی کو روٹی مل رہی ہے، دنیا بھر میں کورونا علاج کیلئے دوا تیار کرنےکی کوشش ہو رہی ہے، دنیا بھر میں کورونا وائرس کا کوئی ایکسپرٹ نہیں ہے۔

وزیر صحت پنجاب نے مزید کہا تمام حقائق میڈیا کے ساتھ شیئر کریں گے، میڈیا کو آگاہ رکھنے کیلئے ویب سائٹ بنائی ہے، پنجاب کے ہسپتالوں میں 27 ہزار بیڈز ہیں، کورونا مریضوں کی معلومات فراہمی کیلئے ویب سائٹ بنائی گئی، صوبے میں کورونا کے 64 مریض وینٹی لیٹر پر ہیں۔

وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کورونا کا شکار

مزید برآں وزیر مملکت برائے انسداد منشیات و سیفرون شہر یار آفریدی بھی کورونا وائرس کا شکار ہو گئے، ڈاکٹر کی ہدایت پر خود کو قرنطینہ کر لیا۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں وزیر مملکت شہریار آفریدی نے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے میرا کرونا وائرس ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے اور میں نے ڈاکٹرز کی ہدایت پر اپنے آپ کو گھر پر آئسولیٹ کرلیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ وطن عزیز کو موذی وبا سے محفوظ بنائے اور وزیراعظم عمران خان سرخرو ہوں۔

اسلام آباد میں بھی صورتحال سنگین

دریں اثناء اسلام آباد میں کورونا وباء کی صورت حال سنگین ہو گئی۔ مریضوں کی تعداد 2 ہزار 120 تک پہنچ گئی جبکہ 23 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو دی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیسز کی تعداد 3 ہزار سے بڑھنے پر اسلام آباد کے ہسپتال صورت حال سے نمٹ نہیں سکیں گے، وفاقی دارالحکومت میں کل 90 وینٹی لیٹرز موجود ہیں جبکہ قرنطینہ سینٹرز میں بھی مزید گنجائش نہیں ہوگی، لاک ڈاون ممکن نہیں تو لوگوں کی جانیں بچانے کی طرف توجہ دینا ہوگی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کے صرف آئی 10 سیکٹر میں کورونا کے 157 پازیٹیو کیسز موجود ہیں، دوسرے شہروں کے آنے والے کورونا کے 63 مریض بھی اسلام آباد کے ہسپتالوں میں داخل ہیں۔

احتیاطی تدابیرپرعمل نہ کرنے کے باعث کورونا کیسزکی تعداد بڑھ رہی ہے: وزیراعلیٰ سندھ

دوسری طرف وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیرپرعمل نہ کرنے کے باعث کورونا کیسزکی تعداد بڑھ رہی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کورونا وائرس کی صورتحال پرکہا کہ اس وقت کورونا کے 13623 مریض زیرعلاج ہیں جن میں 12565 مریض گھروں میں ا?ئسولیشن میں زیرعلاج ہیں، کورونا کے باعث انتقال کرنے والوں کی تعداد 465 ہوگئی ہے، آج مزید 38 مریض انتقال کرگئے، اموات بڑھنے پردل بہت افسردہ ہے۔

وزیراعلی نے کہا کہ اب تک کورونا وائرس کے 176703 ٹیسٹ کئے گئے، ان ٹیسٹوں کے نتیجے میں اب تک 27307 مریض سامنے آئے، 5481 کے نیتجے میں 1247 نئے مریض ظاہر ہوئے، گزشتہ 24 گھنٹوں میں 5481 ٹیسٹ کئے گئے، آج 522 مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو چلے گئے تاہم اس وقت 310 مریضوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 13272 ہوگئی ہے جب کہ آج 1247 نئے کورونا وائرس کے مریض سامنے آگئے۔ حتیاطی تدابیر پر عمل نہ کرنے کے باعث کیسوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ضلع کورنگی 215، ضلع شرقی 213 اورضلع وسطی 183 ، ساو¿تھ 180، ویسٹ 69 اورضلع ملیر 63 کیسز ، گھوٹکی 29، حیدرآباد 24، لاڑکانہ 23،جیکب آباد 22، سکھر 21 ، جامشورو14، شہید بینظیرآباد 8، ، سجاول 7، خیرپور 7 اور قمبر 5، کشمور 4، دادو4، ٹھٹہ اوربدین 3-3 جبکہ سانگھر1 شامل ہیں۔

24 گھنٹوں کے دوران 8 افراد جاں بحق ہوگئے: محکمہ صحت خیبرپختونخوا

محکمہ صحت کے مطابق خیبرپختونخوا میں کورونا سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 8 افراد جاں بحق ہوگئے، صوبہ میں کورونا سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 453 ہو گئی ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے473 نئے کیسز رپورٹ ہوئے۔

محکمہ صحت کا مزید کہنا تھا کہ صوبہ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 9 ہزار540 ہوگئی ہے، کورونا وائرس سے 24گھنٹوں کے دوران صوبہ میں78 مریض صحت یاب ہوئے، صوبہ میں کورونا وائرس سے اب تک 2809 متاثرہ مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق پشاور میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد3 ہزار 503گئی ہے، پشاور میں مجموعی طور پر کورونا وائرس سے 255افراد انتقال کرچکے ہیں، پشاور میں 24 گھنٹوں کےدوران4 افراد کورونا سے جاں بحق ہوئے، پشاور میں 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 157مریض متاثر ہوئے۔

پنجاب حکومت نے لاک ڈاون میں مزید نرمی کا فیصلہ کر لیا

پنجاب نے لاک ڈاون میں مزید نرمی کا فیصلہ کر لیا، ایس او پیز کے مطابق مختلف اداروں کو کھولنے کے لئے وفاق کو سفارشات پیش کرنے پر اتفاق کرلیا گیا، وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی زیر صدات کابینہ کمیٹی برائے انسداد کورونا کے اجلاس میں کورونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی زیر صدارت اجلاس میں شرکاء نے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تدابیر کے لئے تجاویز اور سفارشات پیش کیں، ایس او پیز کے مطابق مختلف اداروں کو کھولنے کے لئے وفاق کو سفارشات پیش کرنے پر اتفاق کیساتھ صوبہ بھر میں منہ اورناک ڈھانپنے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا اصولی فیصلہ کیا گیا۔

حکومتی سفارشات کے تحت انتظامیہ، پولیس اور ٹریفک وارڈن منہ اورناک نہ ڈھانپنے والے افراد کو تنبیہ کر سکیں گے۔

اجلاس میں ایک ہزارلیڈی ڈاکٹرز کے انٹرویوزکی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد پبلک سروس کمیشن ایس او پیزپر عملدرآمد کو یقینی بنا کر تحریری امتحان اور انٹرویوز لے سکے گا جبکہ این سی او سی کو نئی بھرتیوں کی اجازت کے فیصلے سے آگاہ کیاجائے گا۔

مقامی طو رپر وینٹی لیٹر اور ریسپارائٹر کی تیاری کی اجازت کے لئے ڈریپ سے رجوع کیاجائے گا۔ صوبے میں پارکس کھولنے، تجارتی اداروں کے نئے اوقات کار اور 2 دن تعطیل کا فیصلہ بھی این سی او سی سے مشروط کردیا گیا ہے ۔

اجلاس میں وزیر اعلی عثمان بزدار نے کہا کہ وفاق سے 1500 وینٹی لیٹر فراہم کرنے کی درخواست کی جائے گی- ریسٹورنٹس،کیفے وغیرہ کھولنے سے متعلق وفاق کی ہدایات پر عمل کیاجائے گا-

وفاقی حکومت نے عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیدیا

معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا کے مقامی سطح پر پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے لہٰذا عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔

وزیراعظم کے معاونین خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا اور معید یوسف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ملک میں اب تک 5 لاکھ 32 ہزار کورونا ٹیسٹ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے مقامی پھیلاؤ کی شرح 92 فیصد ہے جبکہ صحت یابی کی شرح 36 فیصد ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ طے کردہ ضابطہ کار اور گائیڈ لائنز پر سختی سےعمل کرنے کی ضرورت ہے اور ہم ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ وائرس سے بچاؤ کیلئے سرجیکل اور کپڑے کے ماسک استعمال کیے جاسکتے ہیں، مساجد، بازاروں، دکانوں، پبلک ٹرانسپورٹ اور ٹرین میں ماسک پہننالازمی ہوگا۔

55 ممالک سے 33 ہزار اوورسیز پاکستانیوں کو واپس لا چکے: معید یوسف

مشیر قومی سلامتی امور معید یوسف نے کہا کہ سمندر پار پاکستانی جو واپس آنا چاہتے ہیں ان میں سے دنیا کے 55 ممالک سے 33 ہزار پاکستانیوں کو واپس لاچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت لگ بھگ ایک ہزار پاکستانی روزانہ واپس آرہےہیں اور یکم جون سے 10 جون تک لگ بھگ 20 ہزار لوگ واپس آئیں گے یعنی روزانہ دو ہزار لوگ آئیں گے جو ہماری گزشتہ پالیسی کا دوگنا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ خلیجی ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی ہے، یکم جون سے 10 جون کے دوران متحدہ عرب امارات سے 8 ہزار، 4 ہزار سعودی عرب سے واپس لائیں گے کیونکہ اس دو ممالک میں بہت زیادہ دباؤ آرہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت جلد ہم ایک نئی پالیسی لا رہے ہیں جس کے تحت سمندر پار پاکستانیوں کے لیے خوش خبری ہے کہ واپس لانے کی تعداد بڑھا رہے ہیں اورجو مسائل ہیں وہ بھی جلدختم ہوجائیں گے، اس حوالے سے تفصیلات چند روز میں جاری کریں گے۔

پاکستان کی فضائی حدود پروازوں کے لیے کھولنے سے متعلق خبروں کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سول ایوی ایشن نے صرف بیرونی ملک جانے والی پروازوں پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کل سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ مکمل پابندی ہٹادی گئی ہے جو ہمارے لیےممکن نہیں ہے لیکن یہاں سے بھی جانے کے لیے پابندی تھی لیکن اب جو پرواز آنا چاہے گی وہ خالی آئے گی اور یہاں سے جو باہر جانا چاہتےہیں ان کو اجازت ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں