قیادت تنقیص کاعمدہ نعم البدل ہے۔تحریر آبیناز جان علی موریشس

قیادت تنقیص کاعمدہ نعم البدل ہے۔تحریر آبیناز جان علی موریشس

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے میں انسان نکلتے ہیں
میر تقی میرؔ مخصوص افراد سماجی نظام میں تغیرلانے کی غرض سے دنیا میں آتے ہیں۔ اگر چہ اس میں سماج کی ہی بھلائی ہے اس بدلاؤ کا والہانہ استقبال نہیں ہوتا۔ اگر آپ زندگی میں آگے جانا چاہتے ہیں تو آپ کو نکتہ چینی کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا۔ نکتہ چینی ہمیں آگے لے جاسکتی ہے اور ہمیں توڑ بھی سکتی ہے۔اس کی زدسے آج تک کوئی محفوظ نہیں رہا۔عموماً بہت کم لوگ اس کی طرف مثبت ردِ عمل دے پاتے ہیں اور اکثریت تلخی کا سامنا کرتے کرتے اپنے زخموں کے نیچے دب جاتی ہیں۔ دراصل لوگ انہیں پر انگلی اٹھاتے ہیں جن کو وہ خود سے زیادہ قابل مانتے ہیں۔ شروع میں ناقد کا سامناکرنے میں تامل ضرور ہوگی۔ ویسے بھی نئی عادت اپنانے میں وقت ایک اہم شرط ہے۔تنقید اور تنقیص کے فرق کو جاننا ضروری ہے۔اگرتنقید مثبت ہو تو انسان کو آگے جانے کا حوصلہ ملتا ہے۔تنقیص انسان کے ضمیر کو چیر کے نکل جاتی ہے۔ جب نکتہ چینی کی جائے تو غور کریں کہ سامنے والے نے کس ارادے سے آپ کو ہدف تنقیدبنایا ہے۔کیا ناقد کا مجموعی رویہ نرم تھا یا تعصبانہ تھا۔اگر ناقد نرم دل تھا تو یقین جانئے کہ تنقید مثبت تھی۔دوسری چیز،تنقید کب کی گئی تھی؟ کیا خلوت میں آپ کو بات سمجھائی گئی تھی یا دوسروں کے سامنے آپ کی کمزوریوں کو فاش کیا گیا تھا؟ اگر سب کے سامنے ہوئی ہے تو یقیناً سامنے والے کا ارادہ نیک نہیں تھا۔ اس کا ارادہ برباد کرنا تھا تعمیر کرنانہیں۔ اس نکات پرغور کریں:کیا تنقید تکلیف پہنچانے کے لئے دی گئی تھی یا ذاتی فائدے اور مفادکے لئے تھی۔ یہ فطرتی امر ہے کہ جس انسان نے مشکلات کا سامنا کیا ہے وہ دوسروں کے ساتھ بھی منفی برتاؤ اپنائے گا۔ہر چیز کو سنجیدگی سے لینا ضروری نہیں ہے۔ ہر حال میں اپنی ہنسی کو جانے نہ دیں۔بات کا مضحکہ خیز پہلو تلاش کریں۔کبھی کبھی ہم کمزوری کی حالت میں ظاہری طور پردوسروں کے الفاظ کو سراہتے ہیں جب کہ درحقیقت ان کی باتوں سے ہمیں تکلیف ہوئی ہے۔ اس اثنا میں ہم غصّہ کی آگ میں جل کر اپنے گہرے زخموں کا بدلہ لینے کی سوچتے ہیں۔ کمزور لوگوں پر اکثر الزام لگائے جاتے ہیں۔ اس لئے تنقید سے آگے بڑھ کر ناقد کی طرف دھیان دیں۔ اقوال سے زیادہ اس انسان کے کردار اور اعمال کا ثبوت مل سکتاہے۔ شاید دوسروں کو برا دکہہ کر وہ خود کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہیں۔ کیا ناقد مدد کرنے کے ارادے سے برائیوں کی نشاندہی کر رہا ہے؟ نیز اپنا بھی جائزہ لیں۔اس انسان کی تنقید کی طرف اپنا رویہ دیکھیں۔ کیا ہم اس انسان پر خدا سے زیادہ بھروسہ کر رہے ہیں؟نیز دوسروں کا رویہ یہ بھی بتاتا ہے کہ ہماری زندگی بدل گئی ہے۔ کچھ لوگ اپنی جذباتی آلائش کے بسبب چیزوں کو صاف صاف سمجھنے کی بصیرت نہیں رکھتے۔اگر آپ ایسے لوگوں سے الگ راستہ اپناتے ہیں تو وہ آپ کو غلط ضرور ٹھہرائیں گے۔ لیکن آپ ہر وقت اپنی جسمانی اور روحانی صحت کا خیال رکھیں۔ اس سے منفی حالات کا سامنا کرنے میں طاقت ملتی ہے۔اگر کوئی آپ کے کسی کوتاہی کی طرف اشارہ کرے تو اس بات پر دھیان دیں کہ کیا اسی چیز کا ذکر دوسروں نے بھی آپ سے کی ہے۔وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔جو لوگ ہماری برائی کر رہے ہیں، آنے والا وقت انہیں غلط ٹھہرائے گا۔ خود کو مثبت سوچنے والوں کی صحبت میں رکھیں۔ ایسے لوگ جو آپ کی ہمت بڑھائیں۔ جب کوئی عقاب پر حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اور اونچائی پر گردش کرتا ہے۔ جب منفی لوگ حملہ کریں تو اپنی دفاع کی جگہ مثبت رویہ اپنائیں اور اپنے کام پر دھیان دیں۔ اپنے نصب العین کی طرف رجوع کرتے ہوئے اپنی کوتاہیوں کا جائزہ لیں۔ جس کام میں غلطی ہو اس سے دور بھاگنے سے آپ آگے نہیں جائیں گے۔ ایسا کرنے سے احساسِ شکست خوردگی ہی ملے گی۔ اگر آپ ہر بھونکتے ہوئے کتے کے پاس جائیں گے آپ اپنی منزل کے قریب نہیں پہنچ پائیں گے۔
دوسروں کے کام پر تنقید کرنے سے پہلے اپنے ارادے مضبوط کرلیں۔ آپ کا ارادہ دوسروں کی مدد کرنی ہے۔ انہیں ذلیل کرنا نہیں۔کیا میں ذاتی معاملے کی وجہ سے دخل اندازی کر رہا ہوں؟ کچھ لوگ اپنی انا کی تسکین کے لئے دوسروں کو نیچا گراتے ہیں۔ یہ ان کی احساسِ کمتری کی نشانی ہے۔ کیا میرے ان اعتراضات سے میں انہیں تکلیف دوں گا یا ان کو صلاح ملے گی؟دنیا کے سارے جنگ لڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ چھوٹا ذہن چھوٹی چیزوں کی طرف دھیان دیتا ہے۔ اس لئے یہاں وہاں کی چیزوں پر دھیان دینے کی جگہ اپنی نگاہیں منزل پر ٹھہرائیں۔ دوسروں سے اپنی بات کہتے وقت تفصیلات پیش کرتے ہوئے مدّے کی بات پر آئیں تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔ہر انسان میں خود داری ہوتی ہے۔اس کا بھی احترام رکھیں۔ایک انسان کا مقابلہ دوسرے سے مت کریں۔ ہر انسان کی اپنی انفرادیت ہے۔ مشکل کے وقت پریشانی کی طرف اشارہ کرنے کی جگہ حل تجویز کر کے دوسروں کی مدد کریں اور مسائل کی طرف دھیان دیں انسان کی طرف نہیں۔ ذاتی دشمنی کا حساب کرنے کے لئے نکتہ چینی نہ کریں۔ تاکہ سامنے والے کو صاف اندازہ ہو کہ آخر اس سے کہاں غلطی ہوئی ہے۔ جب آپ کو غلطی کا احساس ہو یا جیسے ہی آپ کو معلوم پڑے کہ کچھ غلط ہوا ہے اسی وقت تبدیلی آسکتی ہے۔ خود کو دوسروں کی جگہ پر رکھ کر ان کے نظریے سے چیزوں کو دیکھیں۔شاید تبدیلی کی ضرورت آپ کو ہے۔ ہر مسئلے کے آخر میں دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔ توقع رکھیں کہ وہ بہترین کارکردگی نبھائیں گے۔ ان کی کامیابی کی قدر کریں۔اپنی ذاتی ذمہ داریاں نبھائیں۔ لوگوں کے بارے میں نیک خیالات رکھیں اوار توقع کریں کہ وہ اچھا کام کریں گے۔اس طرح ہم ان کا حوصلہ بھی بڑھائیں گے۔ دوسروں کی صلاحیتوں کے مطابق انہیں کام دیں۔ لوگوں کو مستقبل کے لئے تیار کریں۔ ہم دوسروں کو بڑھا نہیں سکتے لیکن انہیں ایسے اوزار دے سکتے ہیں جن سے وہ آگے بڑھ سکیں۔ انہیں دکھائیں کہ آگے بڑھنے میں فائدہ ہے۔ پھر ہم انہیں ایسے لوگوں سے متعارف کراتے ہیں جو انہی کی طرح آگے چل کرکا میاب ہوئے ہیں اور انہیں موقع دیں کہ وہ اپنے نئے اوزار کا استعمال کر سکیں اور ہم پیچھے ہٹ کر حوصلہ افزائی کرتے رہیں۔ اس کی جزا صرف اس انسان کو نہیں ملتا بلکہ ہمیں بھی ملتا ہے۔ ان کی صلاحیت پر بھروسہ کر کے اور انہیں خود پر یقین دلانے میں ہم ایک ایسا رشتہ بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں جہاں سب لوگوں کی جیت ہوتی ہے۔جن لوگوں پر بھروسہ کیا جاتا ہے انہوں نے اپنے کردار سے بھروسہ کرنے کا حق کمایا ہے۔ جب یہ اہم بنیاد وجود میں آتی ہے مضبوط اور مثبت رشتہ بنتا ہے جومسلسل حوصلہ افزائی سے پروان چڑھتا جاتا ہے۔ بھروسہ کسی کے نام، عہدے، پیسے یا حیثیت پر مبنی نہیں۔ بھروسہ قائد کے کردار پر منحصر ہے۔دوسروں کا حوصلہ بڑھائیں، دوسروں کے بارے میں بہترین خیالات رکھیں۔ دوسروں کو کامیابی کا تجربہ کرائیں۔ لوگوں کو مستقبل کے لئے تیار کریں۔پیسہ وارانہ ماحول میں مثبت رویہ کی خاص طور پر ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کمپنی کے اغراض و مقاصد کو پورا کرنے کے لئے تنقید اور تنقیص کی نہیں بلکہ ایک دوسرے کو سہارا دینے کی ضرورت ہے۔اس طرح خوشگوار ماحول کی آبیاری ہوتی ہے۔ایک ادارہ یا شعبہ کو مسلسل ترقی کرنے اور آگے جانے کی ضرورت ہے۔تمام اراکین کو ذاتی اور شعبہ جاتی طور پر ترقی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کمپنی کامیاب ہو۔جب سب مل جل کر کام کرتے ہیں تو نتیجہ میں ٹیم آگے جائے گی۔ رفیق کار کو ایک دوسرے کا محرک بن کر اپنی نشونما میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ایک قابل قائد دوسروں کو ایک ساتھ کام کرنے کا حوصلہ دیتا ہے۔سب مل کر ایک مقصد کے تحت آگے بڑھتے ہیں۔ ایک قائد پر امید اور مثبت رویہ رکھتا ہے اور منزل اور اغراض و مقاصد کے حصول کی طرف لوگوں کو بڑھاتا ہے۔ لوگوں کو قوتِ تخلیق کی آزادی دیتا ہے۔ وہ ان میں خود اعتمادی جگاتا ہے تاکہ لوگ ایک ہی جانب قدم بڑھا سکیں۔کامیاب ٹیم کے لئے دو چیزیں ضروری ہیں۔ایک ہے خدا اور دوسرا اپنے نصب العین کا واضح بیان کرنا۔ایک گیم میں یونیفارم سے سب کو معلوم پڑجاتا ہے کہ فلاں کھلاڑی کون سی ٹیم میں ہے۔سب کا دھیان گیند پر ہوتا ہے اور سب ا سی کی طرف بڑھتے ہیں۔ایک ہی مقصد کی طرف قدم بڑھانے سے ہی ٹیم میں یکجہتی پیدا ہوتی ہے۔ کھیل کے دوران رویہ کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ وہی ٹیم جیتتی ہے جو جیتنے کے لئے کھیلتی ہے۔جیتنے کے لئے کھیلنا اور ہارنے کے لئے کھیلنے میں صرف خوش اصلوبی اور اوسط درجہ کے کھیل کا فرق ہے۔ جیتنے والی ٹیم خطرے کا سامنا کرتی ہے۔جو ہوگا دیکھا جائے گا۔جو بازی نہیں کھیلتا کچھ نہیں کرپاتا، اس کے پاس کچھ نہیں ہوتا اور وہ کچھ نہیں بن پاتا۔ اسے کبھی جیت کی خوشی نہیں ملے گی کیونکہ جیتنے کے لئے ہارنے کا خدشہ محسوس کرنا ضروری ہے۔ جن لوگوں کے پاس کچھ نہیں انہیں کسی چیز کے کھونے کا ڈر نہیں رہتا۔ جیتتے رہنے کے لئے پرانی کامیابی کو بھول کر نئی فتوحات کی طرف جانا پڑتا ہے۔ ایک انسان کا سب سے بڑا انعام اس کی محنت کا پھل نہیں بلکہ کام کے دوران اس کی شخصیت میں رونما تندیلی زیادہ اہم ہے۔ خود سے سوال کریں کہ آپ کیوں بدلنا چاہتے ہیں۔ آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا اس طرح آپ بہتر انسان بن پائیں گے؟جیتنے والی ٹیم میں لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔ زندگی میں جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں ان کے پیچھے بہت سے لوگ ہیں جو انہیں کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔جو لوگ پہاڑ چڑھتے ہیں وہ راستے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ لوگوں کو اپنی ٹیم میں منتخب کرتے وقت ان کی عادتوں کے بارے میں غور کریں۔ ان کی خوبیوں کو اچھی طرح پہچان کر ان کو منتخب کریں۔لوگ اپنے کام میں اس لئے ناکام نہیں ہوتے کہ وہ اپنا کام نہیں کرپاتے بلکہ اس لئے ناکام ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ہم کار کے ساتھ اچھے تعلقات نہیں بنا پاتے۔ اگر آپ لوگوں کے ساتھ کام کرتے ہیں تو مثبت طریقے سے میل جول بڑھائیں۔کیا آپ آسانی سے لوگوں سے بات کرسکتے ہیں؟ کیا آپ ان کی سنتے ہیں؟ کیا آپ حساسیت کی زنجیر سے آزاد ہو کر کر خود پر ہنس سکتے ہیں؟ کیا آپ ہمیشہ اپنی دفاع میں لگے ہوئے ہیں؟کیا آپ لوگوں کی صحبت میں کام کرنا پسند کرتے ہیں۔کیا آپ ایک نرم دل انسان ہیں جس کے پاس آنے سے لوگ نہیں دڑتے؟ ان سوالات پر غور کرنا نہایت ضروری ہے۔
ایک قائد اپنے ملازمین کی عزت کرتا ہے۔ وہ ہر معاملے پردیانت داری سے بات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس کے بدلے ملازمین بھی قائد کی عزت کرتے ہیں اور ان کے ساتھ نیک سلوک بھی کرتے ہیں۔اس سے ٹیم کے اراکین میں بھروسہ پیدا ہوتا ہے۔کچھ لوگ احساس کم مائگی کا شکار ہوکر اپنے ہم کار پر بھروسہ کرنے سے دڑتے ہیں اور دوسروں پر شک بھی کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے غلط قدم کے منتظر رہتے ہیں۔کہیں دوسرے ان کی جگہ نہ لے لیں۔ اس معاملے پر غور و فکر کے بعد اگر آپ کو محسوس ہوکہ آپ کے خوف بے بنیاد ہیں تو انہیں رد کرتے ہوئے اعتماد کریں۔اگر ایک قائد خود کو دوسروں سے دور رکھے گا تو لوگ اسے سمجھ نہیں پائیں گے اور اس رویہ سے انہیں تکلیف ہوگی۔ وہ اکیلا رہ جائے گا۔گہری دوستی کی بنیاد بھروسے پر ہے۔جو لوگ منفی سوچتے ہیں وہ معرکہ آرائی کے ارادے سے صرف نکتہ چینی کرتے ہیں اور باقی لوگوں کو سہارا نہیں دے پاتے۔ہر انسان کی پسند ناپسند ایک نہیں ہے۔اور ہر کسی کا اپنامخصوص ہنر ہوتاہے۔ایک قائد مختلف لوگوں کی مختلف صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور اسی سے کسی ادارے کی کامیابی مضمر ہے۔ایک مثالی کمپنی میں لوگ جیتنے کے لئے کھیلتے ہیں۔وہ بہتر بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں۔جیتنے کے لئے ہارنے کی ہمت بھی کرنی پڑتی ہے۔ انسان کا سب سے بڑا انعام یہ نہیں کہ اسے بدلے میں کیا مل رہا ہے بلکہ یہ دیکھنا زیادہ ضروری ہے کہ وہ اس دوران کیا بن رہا ہے انسان کی نشونما میں ایک اہم مقام اس وقت آتا ہے جب اسے احساس ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ اس کو بہتر کام کرنے میں وہ مدد فراہم کرسکتے ہیں جو وہ اکیلے نہیں کرپاتا۔ اچھے رشتے، رویہ، ہنر اور توقعات سے عمدہ کارکردگی وجود میں آتی ہے۔ لوگوں کو باہمی کام کرنے کی ترغیب دینا قیادت کا بنیادی اساس ہے۔ اس طرح وہ ایک مساوی مقصد کی طرف چل پاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں