بارِ امانت

عمر بھر چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا رہنے والا آدمی پوری زندگی پہ کیوں غور نہیں کرتا۔ آخر کیوں نہیں؟ علم کیا ہے اور عقل کیا؟ قرآنِ کریم میں ہے کہ آدمی کو علم دیا گیا مگر محدود سا ’’اور یہ لوگ تجھ سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دو روح میرے رب کے حکم سے ہے اور تمہیں جو علم دیا گیا، وہ بہت ہی تھوڑا ہے۔‘‘ بنی اسرائیل 85۔علم تھوڑا ہے تو ماننا پڑے گا کہ عقل محدود ہے۔ علم اور عقل کے فرق کو سمجھنا چاہئیے۔ علم کسی چیز کو جا ن لینے کا نام ہے۔ خود کو پہچاننے کے لیے ہمیں جانچنا ہوگا کہ ہمارے علم کا معیار کیا ہے۔ کہاں تک اس کی رسائی ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اپنی اصل میں علم کیا ہے۔ اس گرہ کو کھولنے کے لیے ہمیں اپنے خیال کو پہچاننا ہوگا۔ ذہن کی حرکت علم کی حرکت ہے۔ علم خیال سے متحرک ہوتا ہے۔ خیال یاداشت کا نام ہے، اس کا ڈیٹا۔ کسی کی یادداشت کھو جائے تو اس کی سوچ ختم ہو جاتی ہے یا بے ترتیب ہو کر پاگل پن کا ظہور۔ ہماری تمام تر یادداشت ہمارا ماضی ہے۔ ہمارے پاس مستقبل کی کوئی یادداشت نہیں۔ جو برپا ہو چکا، ہمیں یاد ہے اور یہی ہمارے خیالات ہیں۔ جن تجربات اور احساسات سے ہم گزر چکے، وہ ہمارا گزرا ہوا کل ہے۔ ہم نے کہیں پڑھا، کہیں سے سنا، کہیں دیکھا۔ زندگی بھر جو کچھ محسوس کیا، وہ ہمارا تجربہ ہے، وہی ہمارا ادراک۔ یہی ماضی ہے، یہی تمام تر علم۔اس خاکداں میں کم و بیش پچاس ہزار سال سے آدمی جیتا اور مرتا آیا ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ کتنے لوگ۔ آج سات ارب آدمی اس زمین پہ زندہ ہیں۔ اپنے ہم جنسوں کی اس عظیم تعداد کے درمیان جیتا ہوا ایک انسان کتنا بے حقیقت ہے۔ اس کے تجربات محدود سے ہیں۔ اس کی ذاتی زندگی ایک محدود دائرے میں کارفرما ہے۔ جو معلومات اس کے لیے موجود ہیں اور جسے وہ علم کہتاہے وہ ’’الّا قلیلا‘‘ ہے۔ دیا تو گیا مگر بہت تھوڑا سا۔ عقل اسی علم کو برتنے کا نام ہے۔ کسی بھی صورتِ حال میں عقل ہی فیصلہ کرتی ہے۔ محدود علم پر جس کی بنیاد ہوتی ہے۔ اسے زاویہ ء نظر کہنا چاہئیے، perspective۔ زندگی گزارنے کا ہمارا ڈھنگ محدود سا ہوتا ہے۔ اس لیے ہم حادثاتی زندگی کرتے ہیں۔ ہمارے فیصلے کی، ہماری عقل اور علم کی کوئی خاص بنیادنہیں ہوتی۔ ہم اپنے ماضی سے ابھرتے ہیں۔ اس محدود زاویہ نظر سے عظیم سچائی تک ہم کیسے پہنچ سکتے ہیں۔ حال میں موجود، اپنے ماضی کا تجزیہ کرتے ہوئے، ہم اپنے مستقبل کے خدو خال بناتے ہیں۔ ادھر ہمارا مالک، ہمارا خالق، ہمارا پروردگار یہ کہتاہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ آنے والا کل اس کے لیے کیا لائے گا ’’بے شک اللہ ہی کو قیامت کی خبر ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹ میں کیا ہے اور کوئی نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کرے گا اور کوئی نہیں جانتا کہ وہ کس زمین پر مرے گا۔ بے شک اللہ جاننے والا، خبردار ہے۔ سورہ لقمان، 34۔ روزِ ازل پروردگار نے جب اعلان کیا: زمین پر آدمی کو میں اپنا نائب بنانے والا ہوں تو حیرت سے فرشتوں نے کہا: اے ہمارے رب یہ تو خون بہانے اور فساد کرنے والا ہے۔ فرمایا: جو میں جانتا ہوں، وہ تم نہیں جانتے۔ پھر اللہ نے آدمؑ کو کچھ چیزوں کے نام سکھا دیے۔ پھر ایک مدت بعد فرشتوں سے پوچھا: اشیا کے نام بتاؤ۔انہوں نے کہا: یا اللہ ہم تو وہی جانتے ہیں، جو تو نے ہمیں بتا دیا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ پھر آدم کو حکم دیا اور سب نام اس نے بتا دیے۔ (البقرہ 30-33)۔ آدمی کو اشیا کے ناموں کا علم ہے اور ان کے اچھے برے خواص کا بھی لیکن ہم کسی شے کی حقیقت کو نہیں جانتے۔ آپ کی پوری زندگی، آپ کے پورے علم میں کوئی ایک شے بھی نہیں، جس کی اصل حقیقت اور ماہیت کا آپ کو علم ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ ماچس سے آگ جلے گی لیکن آگ بذاتِ خود کیا ہے؟ کچھ گیسوں کا مجموعہ؟ اچھا! گیس کیا ہے؟ اس کی ماہیت کیا ہے؟ تیلی لکڑی سے بنی ہے، لکڑی درخت سے تراشی گئی، درخت کے پتے اور شاخیں ہیں، تنا اور جڑ ہے۔ درخت بیج سے بنتا ہے اور ہر شے کا بیج ہوتاہے لیکن یہ بیج اصل میں کیا ہے؟ کسی بھی شے کی حقیقت کا ہمیں کچھ علم نہیں۔ سرکارؐ یہ دعا پڑھا کرتے: الھم ارناالاشیا کما ھی۔ اے اللہ چیزوں کو ہمیں ویسا دکھا، جیسی کہ ان کی حقیقت ہے۔ علم کا دروازہ نہیں کھلتا۔ تزکیہ ء نفس کا آغاز نہیں ہوتا، جب تک ہم یہ جان نہ لیں کہ ہمارا علم محدود ہے۔ فرمایا: آدمی ظالم اور جاہل ہے۔جب تک ربّ جلیل کے اس فرمان کو دل کی گہرائیوں سے ہم نہیں مانیں گے، جہل کا طلسم نہیں ٹوٹے گا۔ ’’ہم نے آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے امانت پیش کی لیکن اٹھانے سے انہوں نے انکار کر دیا اور ڈر گئے۔ آدمی نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے۔‘‘ علم اور عقل کے سوا بھی ایک چیز ہمیں عطا کی گئی، جسے شعور کہا جاتاہے۔ ایک بڑی آنکھ، ایک وسیع تر زاویہ ء نظر۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم کون ہیں۔ اپنی ساری زندگی سے ہم با خبر ہیں۔ اس کے لیے کسی بڑی عقل اور بہت علم کی ضرورت نہیں۔ ہم باخبر ہیں کہ زندہ ہیں۔ ہمیں اپنے جسم، حواس اور علم و عقل کا شعور ہے۔ دنیا کا نقشہ آپ نے دیکھا ہو گا۔کوئی شہر ڈھونڈتے ہوئے آپ نقشے میں گم ہو جاتے ہیں۔تلاش کا یہ عمل علم اور عقل ہے۔ اس نقشے کو ایک نظر میں پورا دیکھنے کے لیے آپ کو کچھ وقت کے لیے عارضی طور پر اپنا مقصود ترک کرنا ہوگا۔ آپ کو اپنا سوال چھوڑنا ہوگا۔ اگر آپ کچھ نہیں ڈھونڈ رہے تو پورا نقشہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ پوری دنیا ایک نظر میں آپ کے سامنے ہے۔ یہی شعور ہے۔ کیا انسان اس بات پر قادر نہیں کہ اپنی پوری زندگی پر ایک نظر ڈالے اور سب کچھ دیکھ لے۔ کیا آپ نے کبھی ایسا کیا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ باشعور ہونے کے باوجود ہم بے شعوری کی زندگی جیتے ہیں۔ ساری زندگی چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا ہوا آدمی۔ خود کو پورے طور پر دیکھنے کے لیے شاذ ہی کبھی تیار ہوتاہے۔۔۔ ایسا کیوں ہے؟ خالق کا فرمان یہ ہے کہ ہم نے تمام انسانوں کو ایک ہی نفس پہ پیدا کیا ہے۔ ہم سب کی ایک ہی نفسیات ہے، ایک ہی نفسیات۔ عمر بھر چھوٹے چھوٹے مسائل میں الجھا رہنے والا آدمی پوری زندگی پہ کیوں غور نہیں کرتا۔ آخر کیوں نہیں؟ (محمد ناصر افتخار کی کتاب ’’خود سے خدا تک‘‘ کے ایک باب کا خلاصہ تھوڑی سی ترمیم اورتدوین کے ساتھ)

اپنا تبصرہ بھیجیں