طیارہ حادثے میں کوتاہی ثابت ہوئی تو مستعفی ہو جاؤں گا، وزیر ہوابازی

وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے گورنر سندھ عمران اسماعیل اور پی آئی اے کے سی ای او کے ہمراہ کراچی میں طیارہ حادثہ کے مقام کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واقعے پر افسوس کا اظہار کیا۔

غلام سرور خان نے کہا کہ پائلٹ نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی کہ جانی نقصان کم سےکم ہو، اس نے رن وے پر جانے کی پوری کوشش کی لیکن جب تک دیکھا کہ وہاں تک پہنچنا محال ہے تو تنگ گلی میں اور کم آبادی والی جگہ میں اتارا، واقعے میں متاثر ہونے والے گھروں اور گاڑیوں کی مرمت کا خرچہ حکومت برداشت کرے گی اور شہریوں کا مالی نقصان پورا کرے گی۔ متاثرین کو امدادی رقم فوری اداکروانےکی بھرپورکوشش کی جائے گی۔ قیمتی جانوں کے ضیاع پر امدادی رقم نہ ہونے کے برابر ہے۔وزیراعظم کی ہدایت پرامدادی رقم5لاکھ سےبڑھاکر10لاکھ روپےکردی گئی ہے۔
وزیر ہوابازی نے کہا کہ حادثے کی مکمل انکوائری ہوگی، حکومت کی پوری کوشش ہوگی کہ حقائق جلد از جلد قوم اور پارلیمنٹ کے سامنے رکھے جائیں، انکوائری کمیٹی کم از کم وقت میں تحقیقاتی مکمل کرے گی، اگر کوئی ہوا بازی کا ماہر ہے تو وہ کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر اپنی رائے دیں لیکن میڈیا میں قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔ طیارہ بنانےوالی کمپنی بھی حادثےکی تحقیقات کرےگی۔ ایئربس کےماہرین آزادانہ تحقیقات کےلیےآئیں گے۔ کوشش ہوگی3ماہ میں تحقیقاتی رپورٹ سامنےآئے۔

وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے مکمل غیر جانبدار اور شفاف انکوائری کی یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی تحقیقات میں وزیر یا پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ائرمارشل ارشد محمود ملک کی غیر ذمہ داری اور کوتاہی ثابت ہوئی تو نہ صرف استعفی دیں گے بلکہ خود کو احتساب کے لیے بھی پیش کریں گے کہ ہمارے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں