قدرتی آفات ،جنگیں اور دہشتگردی 1914سے کرکٹ کے پیچھے

کھیلوں کے ایونٹس کو معطل کردیا گیاہے ،چند روز قبل تک تماشائیوں سے خالی سٹیڈیم میں پاکستان سپر لیگ کے مقابلے جاری تھے جنہیں اچانک معطل کردیا گیا اور ناک آؤٹ مرحلہ شروع نہ ہوسکا،ان میچز کے دوران میدان میں موجود کھلاڑی شاید ہر گیندکے بعد خالی سٹیڈیم پرنظر ضرور دوڑاتے تھے ۔یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کرکٹ کے میدان کسی وجہ سے سنسان ہوگئے بلکہ اس سے قبل بھی قدرتی آفات ،جنگوں اور دہشتگردی نے اس کھیل کو نقصان پہنچایا ہے ۔سب سے پہلے اگست 1914میں جنگ عظیم اول سے کرکٹ کا کھیل متاثر ہوا جب انگلینڈ کا کاؤنٹی سیزن چند روز ہی جاری رہ سکاتھا ،اس دوران کئی میچز میں جنگ کے باعث کھیل روکنا پڑا اور آخر کار ایونٹ کو ملتوی کردیاگیا تاہم اس دوران جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے آرمی رجمنٹس اور نمائندہ سروسز کی ٹیموں کے چیرٹی میچز کا انعقاد یقینی بنایا جاتارہا۔جنگ عظیم اول کے دوران 1917میں انگلینڈ میں جنگ کے دوران زخمی ہونیوالے نوجوانوں کیلئے خواتین کرکٹ ٹیموں کے ایک میچ کابھی خاص طور پر اہتمام کیاگیا،یہ میچ لندن کے ہرلنگھم پارک میں کھیلاگیاتھا۔جنگ عظیم اول کے بعد کرکٹ کے کھیل میں دوسرابڑا وقفہ جنگ عظیم دوئم کے دوران آیا ،جنگ کے باعث اگست 1939میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان اوول لندن میں کھیلے جانیوالا ٹیسٹ میچ ادھورا رہ گیا اور ویسٹ انڈین ٹیم نے وطن واپسی کا فیصلہ کیا ،دوسری جنگ عظیم کے دوران اوول کے گراؤنڈ کو وارکیمپ کے طور پربھی استعمال کیا گیا اور یہاں جنگی قیدیوں کورکھا جاتاتھا۔ دنیا کی دوسری بڑی جنگ کے دوران 1941میں لی گئی ایک یادگار تصویر تاریخ کا حصہ بن چکی ہے جس میں لند ن کے قریب کننگ ٹاؤن میں بچے اپنے تباہ شدہ گھر کے باہر کرکٹ کھیل رہے ہیں ،ان کا گھرجرمنی کے جنگی طیاروں کی بمباری میں تباہ ہوگیاتھا۔جنگ کے حالات میں بھی کئی میچز کانعقاد ہوتا رہا ،1944میں لندن کے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں میچ کے دوران جرمنی کے بمبار طیاروں نے بے تحاشہ شیلنگ کردی ،اسی سال 29جولائی کو لارڈ ز کے میدان میں ایک چیرٹی میچ کے دوران الارم بجادئیے گئے کہ حملہ ہونے والا ہے ،اس وقت مشہورزمانہ کرکٹر والی ہیمنڈ اورجیک رابرٹسن آرمی کی طرف سے بیٹنگ کررہے تھے اور باب وہاٹ باؤلنگ کیلئے گیندتھامے کھڑے تھے جبکہ میدان میں 3ہزار سے زائد تماشائی موجود تھے ۔ میدان میں موجود تمام کھلاڑی زمین پر لیٹ گئے تاہم جرمن جہازوں سے پھینکے جانے والے بم لارڈ ز سے 200گز کے فاصلے پر گرے ۔1970میں انگلینڈ کو دورہ جنوبی افریقہ محض اس وجہ سے منسوخ کردیا گیا کہ ایک جنوبی افریقی نژاد کرکٹر باسل ڈی اولیوریا انگلش کرکٹ ٹیم کا حصہ تھا۔جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کا کہناتھاکہ یہ پلیئر نسلی تعصب رکھتاہے اور اس کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے بھی ہوئے ۔2004میں سری لنکا کی ٹیم 5ٹیسٹ میچز کی سیریز کھیلنے کیلئے نیوزی لینڈ میں موجود تھی کہ سمندری طوفان سونامی نے تباہی مچادی ،اپنے خاندانوں کیلئے پریشان سری لنکن کرکٹرز نے وطن واپسی کا فیصلہ کرلیا اور ایک بار پھر کرکٹ میچز کا انعقاد ممکن نہیں ہوسکا۔اس طوفان میں سری لنکا کا گالے کرکٹ سٹیڈیم تباہ ہوگیا تھا جس کی بحالی میں 3سال لگے اور پھر 2007میں یہا ں ٹیسٹ میچ کھیلا گیا ۔2009میں پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ باب لکھا گیا جب لاہور ٹیسٹ میچ کے دوسرے دن قذافی سٹیڈیم جانیوالی سری لنکن کرکٹ ٹیم کی بس پر دہشتگردوں نے فائرنگ کردی ،اس حملے میں کچھ کھلاڑی زخمی ہوگئے تھے ۔اس واقعہ سے ابھی تک پاکستان کی کرکٹ متاثر ہے اورانٹرنیشنل میچ کی بحالی کا سلسلہ شروع تو ہوچکاہے تاہم اس کیلئے گفت وشنید اور سکیورٹی چیکنگ کے مراحل سے گزرناپڑتاہے ۔ان واقعات کے علاوہ 1987اور1993 میں نیوزی لینڈ نے دہشتگردی کے واقعات کے سبب سری لنکاکے طے شدہ دورے منسوخ کردئیے تھے اور 2002 میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کراچی میں ہونیوالے خودکش حملے کو بہانہ بناکر اپنے وطن واپس لوٹ گئی تھی ،حالانکہ کیوی ٹیم ہوٹل میں موجود تھی اور مکمل محفوظ تھی ۔15مارچ 2019کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک دہشتگردکی مسجد میں نمازجمعہ کے وقت فائرنگ سے 51مسلمان شہید ہو گئے تھے اس وقت بنگلہ دیش کی ٹیم اس شہر میں موجود تھی تاہم حملے کے بعد ٹیم کی وطن واپسی کا فیصلہ کرلیاگیا۔اب کورونا وائرس کے باعث صرف کرکٹ ہی نہیں بلکہ ہرکھیل کے میدان میں ویرانی چھائی ہوئی ،ایسے وقت میں صرف آسٹریلیا واحد ملک ہے جہاں ڈومیسٹک ایونٹس کا انعقاد بند سٹیڈیمز میں بغیر تماشائیوں کے جاری ہے اورگزشتہ روز وہاں سے ہاکی ایونٹ ملتو ی کرنے کی خبر آگئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں