یورپ میں معاملہ سنگین, وہاں کی عدالتیں چل رہی ہیں، ہم ادارہ بند نہیں کرسکتے : چیف جسٹس

چیف جسٹس گلزار احمد نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کی عدالت برخاست کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ میں کورونا وائرس کا معاملہ بہت سنگین ہے وہاں کی عدالتیں بھی چل رہی ہیں، ہم اس اہم ادارے کو بند نہیں کرسکتے ۔منگل کو مقدمات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ بار کے صدر قلب حسن نے عدالت کے روسٹرم پر آ کر کہا کہ عدالت سے گزارش ہے موجودہ صورتحال کے باعث مقدمات میں التوا دے دیا جائے ۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ یورپ میں معاملہ بہت سنگین ہے ، وہاں کی عدالتیں بھی چل رہی ہیں، ہم اس اہم ادارے کو بند نہیں کرسکتے ، ہمیں علامتی طور پر موجود رہنا ہے ،دوسری طرف سپریم کورٹ اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ کے تین بینچز نے منگل کے روز مقدمات کی سماعت کی،وکلانے دلائل دیئے جبکہ فاضل بینچز نے ان پر مناسب احکامات جاری کیے ،سپریم کورٹ میں داخلے کے وقت وکلاء،عدالتی عملے سمیت تمام افراد کی سکریننگ کی گئی،سپریم کورٹ میں ہاتھ دھونے کیلئے سینیٹائزر لگائیں گئے ہیں، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ریاستی ستون عدلیہ موجود ہے اور اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے تاکہ لوگوں کے آئینی حقوق کا تحفظ کیاجاسکے ،سائلین کے وکلا احتیاطی تدابیر اپنا کر عدالتوں میں پیش ہو سکتے ہیں،سپریم کورٹ کے غیرضروری سٹاف اور پچاس سال سے زائد عمر کے ملازمین اور خواتین کو گھر سے کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے ، چیف جسٹس گلزاراحمد نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے بینچزکورٹ روم میں مقدمات کی سماعت کریں گے اور ان پر مناسب احکامات جاری کریں گے جوکہ ضروری نوعیت کے ہوں گے ،اعلامیہ میں عوام کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں غیر ضروری طور پر آنے سے اجتناب کریں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں